لندن (تھرسڈے ٹائمز) — برطانوی نیوز ایجنسی ’’رائٹرز‘‘ کے مطابق بھارتی کرنسی تاریخ کی بدترین گراوٹ کا شکار ہے جبکہ بھارت کی جانب سے معاشی نمو کے دعووں کے باوجود بھارتی روپیہ جمعرات کے روز ڈالر کے مقابلہ میں 91 اعشاریہ 985 تک گِرنے کے بعد تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
رائٹرز نے لکھا ہے بھارت سے غیر ملکی سرمایہ کاری کے مسلسل انخلاء اور کرنسی میں مزید گراوٹ کے خدشات نے مارکیٹ کو بےچین کر رکھا ہے۔ رواں سال کے آغاز سے اب تک بھارتی روپیہ تقریباً 2 فیصد گِر چکا ہے جبکہ گزشتہ برس اگست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی برآمدات پر بھاری ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد یہ کمی 5 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی کرنسی میں گراوٹ ایسے وقت میں بھی جاری ہے جب بھارت یورپی یونین کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدہ مکمل کر چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر بھارتی معیشت واقعی مضبوط ہے اور تجارتی دروازے کھل رہے ہیں تو پھر بھارتی روپیہ دباؤ میں کیوں ہے؟
امریکا میں قائم ملٹی نیشنل انویسٹمنٹ بینک اور فنانشل سروسز کمپنی ’’گولڈمین ساکس‘‘ کے مطابق اگرچہ توقع ہے کہ مستقبل میں امریکی ٹیرف میں نرمی آ سکتی ہے تاہم فی الحال تاخیر بھارت کے بیرونی کھاتوں پر دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے۔ ادارے کا اندازہ ہے کہ اگلے 12 ماہ میں روپیہ 94 فی ڈالر تک گِر سکتا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق بھارتی مرکزی بینک (ریزرو بینک آف انڈیا) نے جمعرات کو سپاٹ مارکیٹ کھلنے سے قبل مداخلت کی تاکہ روپے کی گراوٹ کو نفسیاتی حد 92 سے نیچے جانے سے روکا جا سکے۔ تاہم مرکزی بینک کا مؤقف ہے کہ وہ کسی مخصوص سطح کو ہدف نہیں بناتا بلکہ صرف غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو قابو میں رکھنے کیلئے مداخلت کرتا ہے۔
امریکی ٹیرف کے علاوہ غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری کے وسیع پیمانے پر انخلا، سونے کی درآمدات میں اضافہ اور کارپوریٹ اداروں کی جانب سے کرنسی کی احاطہ بندی نے روپے کو مزید دباؤ میں رکھا ہے۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بھارت خود کو دنیا کی تیز ترین ترقی کرتی ہوئی بڑی معیشت قرار دے رہا ہے۔
برطانوی نیوز ایجنسی نے لکھا ہے کہ ٹیرف نافذ ہونے کے بعد بھارتی روپیہ یورو اور چینی یوآن کے مقابلہ میں بھی 7 اعشاریہ 5 فیصد گِر چکا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق دسمبر میں روپے کا حقیقی مؤثر تبادلہ نرخ 95 اعشاریہ 3 رہا جو ایک دہائی کی کم ترین سطح ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا روپے میں لچک کو ترجیح دے رہا ہے اور ممکنہ طور پر ڈالر کے مقابلہ میں اتار چڑھاؤ کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر دوبارہ بڑھائے گا جس سے روپے کی وقتی مضبوطی محدود رہے گی۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ برس اکتوبر اور نومبر میں بھارتی مرکزی بینک نے 21 ارب سے زائد ڈالرز فروخت کیے۔ تاہم اِس حکمتِ عملی نے ملکی قرضہ منڈی پر دباؤ بڑھایا ہے کیونکہ بینکاری نظام سے لیکویڈیٹی نکلنے کے باعث بانڈ ییلڈز میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ صورتحال مرکزی بینک کیلئے کلاسیکل طور پر ایک مالیاتی مخمصہ بن چکی ہے جہاں کرنسی کو سہارا دینے، قرض لینے کی لاگت کو قابو میں رکھنے اور سرمائے کی آزادانہ نقل و حرکت کے درمیان توازن قائم کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
پاکستانی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ پیش رفت خطہ کی معاشی حقیقتوں کو بےنقاب کرتی ہے۔ محض بلند جی ڈی پی نمو، بڑے تجارتی معاہدے اور عالمی بیانیے کرنسی کے استحکام کی ضمانت نہیں بنتے بلکہ اصل امتحان اعتماد، پالیسی تسلسل اور بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہے۔







