کوئٹہ (تھرسڈے ٹائمز) — سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے 12 مقامات پر حملے ناکام بنا دیئے، متعدد کاروائیوں میں 58 دہشتگرد ہلاک کر دیئے گئے۔
گزشتہ رات بی ایل اے (بلوچستان لبریشن آرمی) کے بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کی جانب سے پولیس یونٹس، فرنٹیئر کور کی تنصیبات، انتظامی دفاتر اور سکول سمیت بلوچستان کے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے (ہیروف 2.0) کیے گئے تاہم پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے فوری اور مؤثر کارروائیوں کے نتیجہ میں دہشتگردوں کے تمام حملے ناکام بنا دیئے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیوں میں اب تک 58 دہشتگرد ہلاک کیے جا چکے ہیں جبکہ 10 سیکیورٹی اہلکار بھی شہید ہو گئے۔ گوادر میں دہشتگردوں کے حملہ میں کم از کم 12 شہری بھی شہید ہوئے ہیں جن میں 4 خواتین اور 3 بچے بھی شامل تھے۔
دہشتگردوں کی جانب سے کوئٹہ کے سریاب روڈ کے علاقہ میں ایک پولیس وین پر فائرنگ کی گئی جس کا فوری جواب دیا گیا، فرنٹیئر کور کی نفری نے پولیس کی مدد کی جبکہ کارروائی میں 4 دہشتگرد ہلاک کر دیئے گئے۔ نوشکی میں دہشتگردوں نے ایف سی ہیڈ کوارٹر پر فائر ریڈ کی تاہم اہلکاروں کی مؤثر جوابی کارروائی پر حملہ آور پسپا ہو گئے۔
حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ دہشتگردوں نے ایک سکول میں داخل ہو کر بچوں کو یرغمال بنانے کی بھی کوشش کی جو 2014 میں آرمی پبلک سکول پر کیے گئے حملہ کی طرز پر کی گئی سازش تھی مگر سیکیورٹی فورسز کی بروقت مداخلت سے طلباء اور عملہ کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا۔
دالبندین میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملہ کی کوشش کے بعد علاقہ کو فوری طور پر گھیرے میں لے کر دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ قلات میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر اور قریبی پولیس ائیر لائنز کو نشانہ بنایا گیا جہاں فورسز کے مؤثر ردعمل کے باعث حملہ آوروں کو نقصان اٹھانا پڑا۔
ساحلی علاقوں میں پسنی کے علاقہ میں پاکستان کوسٹ گارڈ کی پوسٹ پر فائرنگ کی گئی جس کو کسی نقصان کے بغیر ناکام بنا دیا گیا۔ گوادر میں مزدوروں کی کالونی پر حملے کوشش کی گئی تاہم پولیس اور فرنٹیئر کور کی فوری کارروائی سے خطرہ ٹل گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بالیچہ، تمپ اور مستونگ میں سیکیورٹی پوسٹس پر دستی بموں اور دور سے فائرنگ کے واقعات پیش آئے جنہیں موثر انداز میں ناکام بنا دیا گیا۔
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مختلف مقامات پر دہشتگردوں کا تعاقب اور انگیجمنٹ کا سلسلہ تاحال جاری ہے جبکہ کارروائیوں کے نتیجہ میں مزید دہشتگردوں کی ہلاکتوں اور نقصانات کی بھی اطلاعات ہیں۔




