سعودی عرب کی جانب سے عرب ممالک میں ایرانی جارحیت کی مذمت، عالمی برادری سے فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کر دیا

سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت اور اردن کے خلاف ایرانی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اِن ریاستوں کیلئے یکجہتی و حمایت کا اعلان کیا ہے۔ سعودی عرب نے عالمی برادری سے ایرانی جارحیت کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

Saudi Arabia condemned Iran’s attacks in the UAE, Bahrain, Qatar, Kuwait and Jordan, pledged solidarity and support to those states, and urged the international community to take decisive action. — FILE / THE THURSDAY TIMES
Saudi Arabia condemned Iran’s attacks in the UAE, Bahrain, Qatar, Kuwait and Jordan, pledged solidarity and support to those states, and urged the international community to take decisive action. — FILE / THE THURSDAY TIMES

ریاض (تھرسڈے ٹائمز) — سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت اور اردن میں ایرانی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے ایرانی وحشیانہ حملوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کر دیا۔

سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری اہم بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت اور اردن کے خلاف جارحیت اور اِن ریاستوں کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی کی سخت الفاظ میں مذمت اور علانیہ مخالفت کرتا ہے۔

سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت اور اردن سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب اِن برادر اسلامی ممالک کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ تعاون فراہم کرنے کا اعلان کرتا ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے دو ٹوک انداز میں اِس عزم کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ سعودی عرب اِن برادر اسلامی ممالک کی جانب سے جوابی اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اِن ریاستوں کی خودمختاری اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی پر سنگین نتائج سے خبردار کرتا ہے۔

سعودی عرب نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے وحشیانہ حملوں کی مذمت کرے اور ایرانی جارحیت کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرے جو خطہ میں امن کیلئے خطرہ بن گئی ہے۔∎

TT Staff Reporter

Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.

اس ڈیسک کی مزید تحریریں

تھرسڈے ٹائمز، ہر صبح

دن کی اہم خبریں، رائے اور سب سے زیادہ پڑھی گئی تحریریں، ایک ای میل میں۔

کبھی بھی ایک کلک سے بند کریں۔

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔