اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کی حالیہ وارداتوں کو الگ الگ واقعات نہیں سمجھنا چاہیے، درحقیقت یہ سب کچھ ایک مربوط منصوبہ بندی کے تحت ہو رہا ہے۔ ملک دشمن عناصر کو پاکستان کی ترقی، استحکام، علاقائی روابط اور معاشی سرگرمیوں سے محسوس ہونے والی تکلیف اب محض بیانیہ میں نہیں بلکہ عملی اقدامات میں بھی واضح طور پر نظر آتی ہے۔
پاکستان نے گزشتہ برسوں میں داخلی سلامتی، سرحدی نگرانی، انسدادِ دہشتگردی کی کارروائیوں اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعہ درست سمت کا تعین کیا ہے اور وہی سمت دشمن کیلئے ناقابلِ برداشت ہے۔ جب ریاست اپنے پاؤں پر کھڑی ہونے لگے، اقتصادی طور پر مضبوط راہ پر گامزن ہو جائے اور سفارتی افق پر نمودار ہوتی نظر آئے تو دشمن قوتوں کیلئے ایک ایسی دیوار بن جاتی ہے جس کو گِرانے کیلئے ہائبرڈ جنگ کے تمام حربے آزمائے جاتے ہیں۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دہشتگردی کا مقصد صرف جانیں لینا نہیں ہوتا بلکہ خوف پھیلانا، ریاستی رِٹ کو چیلنج کرنا، سماجی ہم آہنگی کو توڑنا، فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دینا اور سیاسی انتشار کے ذریعہ قومی عزم کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔ اسی لیے ایسے حملے اکثر علامتی مقامات کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ معاشرے میں اضطراب اور عدم تحفظ کی کیفیت گہری ہو۔
ایسے حالات میں ہندوستانی وزیرِ دفاع کا بیان کہ ’’آپریشن سندور اب تک جاری ہے‘‘ محض ایک سیاسی جملہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایسے بیانات اکثر آئندہ اقدامات کیلئے ذہنی ماحول بنانے اور اپنے منصوبوں کو جواز فراہم کرنے کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ اگر بیانیہ مسلسل ہو اور واقعات بھی اسی سمت میں رونما ہوتے نظر آئیں تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ محض اتفاق ہے یا کوئی منظم منصوبہ بندی؟
اِسی تسلسل کے تناظر میں یہ مؤقف سامنے آتا ہے کہ ممکنہ طور پر ’’آپریشن سندور‘‘ کی اگلی شکل یا ’’آپریشن سندور ٹو‘‘ جیسے اقدامات فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج جیسے نیٹ ورکس کے ذریعہ پاکستان میں دہشتگردی اور انتشار پھیلا رہے ہیں۔ یہ وہ پراکسی ماڈل ہے جس میں براہِ راست محاذ پر ناکامی کے بعد دشمن غیر ریاستی عناصر کے ذریعہ ریاست کے اندر ضرب لگانے کی کوشش کرتا ہے۔
آج راولپنڈی اسلام آباد کے نواحی علاقہ میں امام بارگاہ کے قریب ہونے والا دھماکہ اسی بڑے منظر نامہ میں دیکھا جا رہا ہے۔ یہاں الزام کی ایک کڑی افغانستان سے جوڑی جا رہی ہے کہ بمبار کی تربیت، نقل و حرکت، رابطہ کاری اور ہینڈلرز تک رسائی کیلئے افغانستان بطور بیس کیمپ استعمال ہو رہا ہے۔ یہ مؤقف بتاتا ہے کہ آپریشنل زمین افغانستان کی ہے مگر وسائل اور منصوبہ بندی کا دماغ ہندوستان ہے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی نمایاں ہوتا کہ افغانستان نہ صرف اپنی زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے دے رہا ہے بلکہ ہندوستان کو بھی مکمل رسائی فراہم کر چکا ہے کہ وہ جس طرح چاہے اُن دہشتگرد نیٹ ورکس کو استعمال کرے۔ اگر کسی ملک کی سرزمین کسی دوسرے ملک میں دہشتگردی کیلئے لانچ پیڈ بن جائے تو یہ محض سیکیورٹی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ خطہ کے امن کیلئے براہِ راست خطرہ بن جاتا ہے۔
اِس مؤقف کے مطابق دہشتگردی کا بیس کیمپ افغانستان ہے اور ایسے نیٹ ورکس کے پیچھے سرغنہ کردار ہندوستان کا ہے۔ اِس بیانیہ کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ حملہ کی نوعیت مقامی یا وقتی نہیں بلکہ سرحد پار سرپرستی اور منظم ہینڈلنگ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے ریاستی ردعمل بھی محض وقتی نہیں بلکہ حکمتِ عملی کی سطح پر مسلسل ہونا چاہیے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان اور پاکستانی قوم کو مایوس ہونا ہے نہ دہشتگردی کے سامنے سرنگوں ہونا ہے۔ دشمن کی خواہش ہے کہ معاشرہ خوف میں مبتلا ہو، ریاست پر اعتماد ختم ہو جائے اور قوم آپس میں تقسیم ہو جائے لہذا اگر قوم یکجا رہے گی تو یہ تمام حربے کمزور پڑ جائیں گے۔
قومی پیغام واضح ہونا چاہیے کہ ہم بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص بن کر کھڑے رہیں گے، دہشتگردی کے خاتمہ تک جنگ جاری رہے گی اور جس طرح پاکستان نے براہِ راست جنگ کے محاذوں پر اپنی صلاحیت اور عزم کا مظاہرہ کیا اسی طرح ہائبرڈ جنگ میں بھی دشمن اور اُس کی پراکسیز کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سیاسی جماعتوں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پولیٹیکل پوائنٹ سکورنگ اور بیانات کی جنگ سے نکل کر دہشتگردی کے خلاف قومی بیانیہ کے ساتھ کھڑی ہوں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے مگر قومی سلامتی کے معاملہ میں یکجہتی ریاست کی طاقت بن جاتی ہے۔ دہشتگرد ایسی دراڑ کی تلاش میں ہوتے ہیں جہاں سے وہ نفرت اور انتشار کو پھیلا سکیں۔
ریاستی سطح پر ضرورت اِس امر کی ہے کہ تفتیش، انٹیلیجنس، سرحدی کنٹرول، مالی معاونت کے راستوں کی بندش اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کو ایک مربوط پالیسی کے تحت آگے بڑھایا جائے۔ ہر حملے کے بعد صرف مذمت کافی نہیں بلکہ مؤٹر انداز میں نیٹ ورکس توڑے جائیں، ہینڈلرز کو بےنقاب کیا جائے اور معاونت کے تمام راستے بند کر دیئے جائیں۔
آخر میں پیغام یہی ہے کہ پاکستان اگر اپنی بقاء اور سلامتی کو یقینی بنانا چاہتا ہے تو پھر اسے دشمن کے تمام حربوں اور انتشار پھیلانے والے عناصر کو شکست دینا ہو گی۔ ایسا تبھی ممکن ہے جب قوم متحد رہے، ریاست مسلسل اور مؤثر حکمتِ عملی اپنائے اور سیاسی قیادت قومی بیانیہ کے ساتھ کھڑی رہے۔ اگر واقعی ایسا ہو جائے تو پھر دہشتگردی کی کوئی بھی لہر دیرپا ثابت نہیں ہو سکے گی۔







