تجزیہ: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ؛ پاک بھارت میچ نہ ہونا آئی سی سی کیلئے بڑے مالی نقصان کا باعث بن سکتا ہے، نیو یارک ٹائمز

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان اور بھارت کے مابین میچ کا نہ ہونا آئی سی سی کیلئے بڑے مالی نقصان کا باعث بن سکتا ہے جبکہ اُس کی مالی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ بنگلہ دیش کے دستبردار ہونے کے باعث ایونٹ پہلے ہی متاثر ہو چکا ہے۔

spot_imgspot_img

نیویارک (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی اخبار ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ (مینز) اصولاً کرکٹ کا ایک جشن ہونا چاہیے تھا تاہم 2026 ایڈیشن جنوبی ایشیائی ممالک کے مابین کشیدگی کے سائے میں دب گیا ہے جبکہ کرکٹ کا سب سے بڑا مقابلہ سمجھا جانے والے پاک بھارت میچ کا نہ ہونا آئی سی سی کیلئے بڑے مالی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 شروع ہو چکا ہے جبکہ اِس کھیل کے سب سے زیادہ منافع بخش فارمیٹ میں گروپ مرحلہ کے دوران روزانہ 3 میچز کھیلے جا رہے ہیں۔ اِس ایونٹ کا مقصد بڑے شاٹس اور تیز رفتار کھیل کے ساتھ جدید طرز کے میچز کی رنگینی کو بین الاقوامی وقار کے ساتھ پرانی رقابتوں کی روایت کے ساتھ جوڑنا ہے۔

تاہم نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ 7 فروری سے شروع ہونے والے اِس ایونٹ کی تیاری اور فضاء جنوبی ایشیائی ملکوں کے درمیان سفارتی کشیدگی کے سائے میں دب گئی ہے۔

کرکٹ کے میدانوں میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میچز کسی بڑے اور نہایت پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی تناظر کی علامت بن جاتے ہیں۔ اسی غیر معمولی تناؤ اور علامتی انداز نے خطہ میں کھیل کی غیر معمولی مقبولیت میں اہم کردار ادا کیا ہے تاہم اب یہی عناصر ٹورنامنٹ کے ڈھانچے کو بکھیرنے کا خدشہ پیدا کر رہے ہیں۔

بنگلہ دیش کی دستبرداری اور ٹورنامنٹ پر اثرات

بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والا 20 ٹیمز پر مشتمل 2026 ایڈیشن بنگلہ دیش کی دستبرداری سے متاثر ہوا ہے۔ بنگلہ دیش، جو دنیا کا آٹھواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، بھارت میں کھیلنے سے انکار کے باعث آخری لمحات میں ٹورنامنٹ سے باہر نکل گیا اور اُس کی جگہ سکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا گیا۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق اِس ہنگامہ خیز فیصلے کے بعد پاکستانی حکومت نے اعلان کیا کہ قومی کرکٹ ٹیم 15 فروری کو کولمبو (سری لنکا) میں بھارت کے خلاف شیڈول میچ کا بائیکاٹ کرے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ فیصلہ بنگلہ دیش سے یکجہتی کے اظہار کے طور پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے فیصلے کو ’’واضح مؤقف‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’کھیل میں سیاست نہیں ہونی چاہیے‘‘۔

پاکستان کے تمام میچز پہلے ہی سری لنکا میں شیڈول کیے گئے تھے کیونکہ پاکستان نے بھارت میں شرکت سے انکار کیا تھا جبکہ بنگلہ دیش نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے مقابلہ سے دستبرداری اختیار کی۔

پاک بھارت میچ کی غیر معمولی اہمیت

بھارت اور پاکستان کے مابین کرکٹ میچ کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ یہ میچ نہ صرف کرکٹ کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا مقابلہ ہے بلکہ بہت سے لوگوں کے خیال میں یہ کسی بھی کھیل کی سب سے نمایاں اور فیصلہ کن رقابت بھی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان میچ سے 250 ملین ڈالرز (تقریباً 183 اعشاریہ 6 ملین پاؤنڈز) تک آمدن ہو سکتی ہے۔

نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ اگر ٹورنامنٹ کا سب سے قیمتی میچ نہ ہوا تو یہ عالمی کرکٹ کی گورننگ باڈی آئی سی سی (انٹرنیشنل کرکٹ کونسل) کیلئے ایسے وقت میں بڑا مالی نقصان ثابت ہو سکتا ہے جب اُس کی مالی صورتحال پہلے ہی نازک بتائی جا رہی ہے۔ دسمبر میں اکانومک ٹائمز نے بتایا کہ بھارت کے میڈیا رائٹس ہولڈر ’’جیو سٹار‘‘ آئی سی سی کے ساتھ اپنے 3 ارب ڈالرز (تقریباً 2 اعشاریہ 2 ارب پاؤنڈ) کے معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ اسے نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

خطہ میں کرکٹ کی مقبولیت اور ناظرین کی بڑی تعداد

دونوں ہمسایہ ممالک بالترتیب دنیا کے پہلے اور پانچویں سب سے زیادہ آبادی والے ممالک ہیں اور دونوں کیلئے کرکٹ غیر رسمی طور پر مذہب جیسی حیثیت رکھتی ہے۔ آئی سی سی نے 2019 میں بتایا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ورلڈ کپ کے ایک میچ کو ٹی وی پر 273 ملین ناظرین نے دیکھا جبکہ مزید 50 ملین ناظرین نے صرف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر دیکھا۔

پس منظر: تقسیم، بنگلہ دیش کا قیام، اور بدلتے تعلقات

نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والے آرٹیکل میں لکھا گیا ہے کہ سیاسی صورتحال پیچیدہ ہے، بھارت اور پاکستان نے 1947 میں برطانوی اقتدار سے آزادی حاصل کی جبکہ برطانوی ہند کی تقسیم کے نتیجہ میں دو الگ ممالک وجود میں آئے: ہندو اکثریتی بھارت اور مسلم اکثریتی پاکستان، جسے مزید مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں تقسیم کیا گیا تھا (اور دونوں کے درمیان بھارت کا ایک ہزار میل سے زائد کا فاصلہ حائل تھا)۔

مشرقی پاکستان نے 1971 میں علیحدگی اختیار کی اور اُس کا نام بنگلہ دیش رکھ دیا گیا۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق تینوں ممالک کے تعلقات کبھی مکمل طور پر ہموار نہیں رہے، مگر ایک عرصہ تک کرکٹ کم از کم معمول کی ایک مستقل جگہ بنی رہی۔ حالیہ برسوں میں یہ صورتحال بدل گئی ہے۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

spot_img

خبریں

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

More from The Thursday Times

error: