اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاک فوج کسی صوبہ یا ضلع کی فوج نہیں بلکہ پوری قوم کی فوج ہے، ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں روزانہ نقصان اٹھا رہے ہیں، سیاستدان گرے ایریاز میں رہتے ہیں اور پارٹیز بدلتے ہیں لیکن شہیدوں نے کبھی پارٹی نہیں بدلی۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کا فوج کو چار ضلعوں کی فوج کہنا غیر ذمہ دارانہ بیان ہے، پاک فوج کا تشخص قومی ہے، فوج کسی صوبہ یا ضلع کی فوج نہیں ہے، محمود اچکزئی نظریات رکھیں مگر حملہ نہ کریں۔
جو کہتا ہے کہ افغانستان پاکستان کا پانچواں صوبہ ہے، وہ خام خیالی میں مبتلا ہے، ہمیں ان سے کوئی محبت نہیں۔ ہمارے 3200 شہدا ہیں، جو پاکستان کے ہر صوبے اور خطے سے ہیں، ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، یہ ہماری مٹی کی عظمت کی گواہی ہے اور ہم ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے۔
وزیر دفاع… pic.twitter.com/WkqEw4IuWc— The Thursday Times (@thursday_times) February 11, 2026
خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 5 سالوں میں 3 ہزار 141 اہلکار شہید ہوئے اور کشمیر، بلوچستان، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ کے افسران اور جوان شہید ہوئے، ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں روزانہ نقصان اٹھا رہے ہیں جبکہ بلوچستان میں 200 سے زیادہ دہشتگرد مارے گئے ہیں۔
وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ہمارے فوجیوں کی گردنیں اُن کے تن سے جدا کر دی جاتی ہیں، پاک فوج اپنے خون سے حلف کی تائید کر رہی ہے، ہم سیاستدان گرے ایریاز میں رہتے ہیں اور پارٹیز بدلتے ہیں لیکن شہیدوں نے کبھی پارٹی نہیں بدلی۔
اُنہوں نے کہا کہ پنجابیوں کے شناختی کارڈز دیکھ کر پنجابی مزدوروں کو قتل کیا جاتا ہے لیکن اسے صوبائیت کا رنگ نہیں دیا گیا، دہشتگردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے اور پاک فوج پوری قوم کی فوج ہے۔
وزیرِ دفاع نے ایوان میں فوج کے صوبائی تناسب کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج وفاق کی فوج ہے جس میں پنجاب کا تناسب 51 اعشاریہ 1 فیصد، سندھ کا 20 اعشاریہ 52 فیصد، خیبرپختونخوا کا 16 اعشاریہ 28 فیصد اور بلوچستان کا 6 اعشاریہ 04 فیصد ہے۔ فوج میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا تناسب 2 اعشاریہ 4 فیصد جبکہ اقلیتی نمائندگی 3 اعشاریہ 52 فیصد ہے۔
افغانستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغان شہریوں کی ہجرت کی وجہ ختم ہو چکی ہے، افغانستان میں اُن کی اپنی حکومت ہے انہیں وہاں جانا چاہیے، ہم افغانستان کو سٹریٹیجک ڈیپتھ تسلیم نہیں کرتے اور افغانستان کو پانچواں صوبہ کہنا خام خیالی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہمیں افغانستان سے کوئی محبت نہیں، ہمارے 3200 شہداء ہیں جو پاکستان کے ہر صوبے اور خطے سے ہیں، اُن کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، یہ ہماری مٹی کی عظمت کی گواہی ہے اور ہم ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے۔
وفاقی وزیرِ دفاع نے قومی اسمبلی میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں افواجِ پاکستان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی قرارداد بھی پیش کی جس کو ایوان نے متفقہ طور پر منظور کیا جبکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں افواجِ پاکستان کی کوششوں کو سراہا گیا۔




