بنگلورو، کرناٹکا (تھرسڈے ٹائمز) — بھارت کے سابق فناس سیکرٹری سبھاش چندرا گرگ کے مطابق امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ بھارت کیلئے طویل المدتی نقصان اور ذلت کا باعث ہے جس میں بھارت کو اپنی برآمدی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف میں 7 فیصد کمی کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہو سکا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی تیل درآمد کرنے پر دوبارہ 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھا ہے۔
امریکہ اور بھارت کے مابین تجارتی معاہدہ نہ صرف بھارت کیلئے نقصان دہ بلکہ تذلیل آمیز بھی ہے۔ یہ ایک یکطرفہ اور غیر مساوی تجارتی معاہدہ ہے، جس میں بھارت کا نقصان اور امریکہ کا فائدہ ہے۔ بھارت کو یہ معاہدہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اس معاہدے کے تحت بھارت اپنی برآمدات پر امریکا کو 18… pic.twitter.com/ZexYXeoR47
— The Thursday Times (@thursday_times) February 10, 2026
سابق بھارتی ایڈمنسٹریٹیو سروس آفیسر سبھاش چندر گرگ، جو بھارت کے اکنامک افیئرز سیکرٹری اور فنانس سیکرٹری و پاور سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں، نے بھارتی اخبار ’’دکن ہیرالڈ‘‘ میں شائع ہونے والے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ بھارت امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ حاصل کرنے کی کوششیں اُس وقت سے کر رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنوری 2025 میں دوبارہ وائٹ ہاؤس واپس آئے۔
بھارت نے ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے بجٹ 2025-26 میں بوربن وِسکی، موٹر سائیکلز، آئی سی ٹی مصنوعات اور طبی آلات سمیت متعدد اشیاء پر ٹیرف کم کیے۔ وزیرِاعظم نریندر مودی نے پہلا موقع ملتے ہی فروری 2025 میں امریکا کا دورہ کیا اور خوش دِلی سے امریکا بھارت مشترکہ قیادت کے بیان پر دستخط کیے جس میں فریقین نے اِس بات کا عہد کیا کہ باہمی مفادات، کثیر شعبہ جاتی دوطرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے) کی پہلی قسط پر 2025 کے موسمِ خزاں تک مذاکرات مکمل کیے جائیں گے۔
لیکن غیر متوقع مزاج کے حامل ڈونلڈ ٹرمپ نے جلد ہی وار کر دیا۔ امریکی صدر نے اپریل 2025 میں بھارت کو 26 فیصد ’’ریسیپروکل ٹیرف‘‘ کی دھمکی دی جو دراصل امریکا کے ساتھ دیگر ممالک کے تجارتی سرپلس کو نشانہ بنانے والا ہتھیار ہے اور پھر جولائی میں واقعی 25 فیصد ریسیپروکل ٹیرف نافذ بھی کر دیئے گئے۔ ٹرمپ یہاں نہیں رکے بلکہ روسی خام تیل درآمد کرنے پر 6 اگست کو مزید 25 فیصد ریسیپروکل ٹیرف بھارت پر عائد کر دیا گیا۔
ورلڈ بینک کے سابق ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ’’سبھاش چندرا گرگ‘‘ نے لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اِس اقدام سے نریندر مودی اور بھارتی مذاکرات کاروں کیلئے صورتحال نہایت سنگین ہو گئی۔ انہوں نے فرق نہ پڑنے کا تاثر دینے کی ناکام کوشش کی اور عوامی سطح پر یہ عزم ظاہر کیا کہ وہ سیاسی طور پر حساس بھارتی کسانوں اور زرعی و محنت کش صنعتوں سے جڑی برآمدات (ایم ایس ایم ایز) کو تحفظ فراہم کریں گے۔
بالآخر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2 فروری کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر امریکا بھارت تجارتی معاہدے کا اعلان کر دیا جبکہ 6 فروری کو وائٹ ہاؤس نے امریکا بھارت مشترکہ بیان جاری کیا جس میں باہمی تجارت کیلئے ایک عبوری معاہدے کے فریم ورک کی تفصیلات بیان کی گئیں۔
یہ ٹرمپ کا معاہدہ ہے
یہ یاد رکھتے ہوئے کہ مودی نے انہیں فون کیا، ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ مودی نے ’’روسی تیل خریدنا بند کرنے پر‘‘ رضامندی ظاہر کی ہے۔ امریکی صدر نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ اور مودی اِس بات پر متفق ہیں کہ امریکا ریسیپروکل ٹیرف کم کرے گا اور اسے 25 فیصد سے کم کر کر 18 فیصد کر دیا جائے گا۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بھارت اپنی ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں کم کرتے ہوئے انہیں صفر تک لے جائے گا جبکہ مودی نے اِس بات کا عزم بھی ظاہر کیا کہ وہ امریکا سے زیادہ بلند سطح کی مصنوعات خریدے گا۔ علاوہ ازیں 500 ارب ڈالرز سے زائد کی امریکی توانائی، ٹیکنالوجی، زرعی مصنوعات، کوئلہ اور متعدد دیگر مصنوعات خریدنے کی بات بھی سامنے آئی۔
سبھاش چندرا گرگ لکھتے ہیں کہ بھارت کو اپنی برآمدی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف میں 7 فیصد کمی کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہو سکا جبکہ ںھارت میں اِس پر شدید ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ یہ عبوری معاہدہ محض نمائشی رعایتیں فراہم کرتا ہے اور نقصان دہ نکات کو پردے میں چھپاتا ہے۔
کسانوں کیلئے کوئی تحفظ نہیں
بھارت نے اِس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ تمام امریکی صنعتی اشیاء اور امریکی خوراک و زرعی مصنوعات کی وسیع رینج پر ٹیرف ختم کرے گا یا کم کرے گا جن میں ڈرائیڈ ڈسٹلرز گرینز، جانوروں کی خوراک کیلئے سرخ جوار، تازہ اور پروسیسڈ پھل، سویابین آئل، وائن و سپرٹس اور دیگر اضافی مصنوعات شامل ہیں۔
اِس میں جی ایم سویابین آئل، مکئی، ڈیری یا پولٹری مصنوعات کیلئے کوئی واضح استثناء موجود نہیں۔ غالباً اضافی مصنوعات کی اصطلاح انھی اشیاء کا احاطہ کرتی ہے۔
دیرینہ نان ٹیرف رکاوٹیں؟
سابق بھارتی فنانس سیکرٹری کے مطابق اِس عبوری معاہدے کے اندر مزید تشویشناک مواد بھی موجود ہے۔ معاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ بھارت نے امریکی خوراک اور زرعی مصنوعات کی تجارت میں دیرینہ نان ٹیرف رکاوٹوں کو حل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
بھارت بظاہر خاموشی سے اِس بات پر رضامند ہو گیا ہے کہ چکن لیگ پیسز، ڈیری مصنوعات اور جی ایم سویابین آئل کی درآمدات کو مقداری پابندیوں یا دیگر نان ٹیرف رکاوٹوں کے بغیر اجازت دے دی جائے۔
محنت کش صنعتوں کی مصنوعات کیلئے تحفظ نہیں
عبوری معاہدے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ محنت کش صنعتوں کی تمام مصنوعات یعنی ٹیکسٹائل و اپیرل، لیدر و فٹ ویئر، پلاسٹک و ربڑ، آرگینک کیمیکلز، ہوم ڈیکور، دستکاری مصنوعات اور بعض مشینری پر 18 فیصد ریسیپروکل ٹیرف عائد ہو گا جو ٹرمپ سے پہلے کے دور میں 0 سے 3 فیصد کے بنیادی ٹیرف کے علاوہ ہو گا۔
بھارت کی محنت کش صنعتوں کی مصنوعات پر 18 فیصد ریسیپروکل ٹیرف ایم ایس ایم ایز کو ویتنام، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا سے آنے والی مشابہ مصنوعات پر 19 سے 20 فیصد ٹیرف کے مقابلے میں کوئی نمایاں مسابقتی برتری نہیں دیتا۔
سبھاش چندرا گرگ کے مطابق بدقسمتی سے بھارت کا 18 فیصد ریسیپروکل ٹیرف پر رضامند ہونا ہی درحقیقت ’’کاری ضرب‘‘ ہے کیونکہ اب بھارت نے اسے اپنی مرضی سے تسلیم کر لیا ہے۔ یہ ریسیپروکل ٹیرف غالباً مستقل طور پر برقرار رہیں گے۔
حیرت انگیز طور پر بھارت نے امریکی مصنوعات پر صفر ٹیرف لگانے پر بھی اتفاق کیا ہے حالانکہ پہلے انہیں بھاری ٹیکس کے تحت رکھا جاتا تھا۔ یہ بھارت کے برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کیلئے ایک بڑی تبدیلی ہے۔
ایک قابلِ گریز معاہدہ
دکن ہیرالڈ میں شائع ہونے والے آرٹیکل میں سبھاش چندرا گرگ لکھتے ہیں کہ بھارت کو یہ معاہدہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ایک غریب اور ترقی پذیر بھارت امیر اور حکم چلانے والے امریکا کو اپنی برآمدات پر 18 فیصد ٹیرف ادا کرے گا جبکہ امریکہ صفر ٹیرف پر برآمد کرے گا۔
ٹرمپ کے ریسیپروکل ٹیرف کو امریکی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے اور غالب امکان ہے کہ سپریم کورٹ انہیں غیر آئینی قرار دے گا۔ ٹرمپ وقتِ ادھار پر ہیں اور یہ تاثر بھی موجود ہے کہ سپریم کورٹ شاید فیصلہ اِس لیے مؤخر کر رہی ہے تاکہ ٹرمپ کو مزید وقت مل جائے کہ وہ ریسیپروکل ٹیرف کو باہم طے شدہ ٹیرف میں تبدیل کر سکیں۔
سابق بھارتی ایڈمنسٹریٹیو سروس آفیسر سبھاش چندرا گرگ لکھتے ہیں کہ بھارت اسی جال میں پھنس گیا ہے۔ اب چونکہ بھارت نے خود رضامندی ظاہر کر دی لہذا اگر ریسیپروکل ٹیرف غیر قانونی بھی قرار پائیں تب بھی 18 فیصد ٹیرف برقرار رہ سکتے ہیں۔
ذلت اور طویل المدتی نقصان
امریکی سیکریٹریز اور حکام پر مشتمل ایک کمیٹی اِس بات کی نگرانی کرے گی کہ بھارت براہِ راست یا بالواسطہ روسی تیل درآمد تو نہیں کر رہا۔ ٹرمپ نے یہ حق اپنے پاس محفوظ رکھا ہے کہ اگر بھارت روسی تیل درآمد کرتا پایا گیا تو وہ دوبارہ 25 فیصد اضافی ڈیوٹیز نافذ کر دیں گے۔
یہ انتظام مکمل ذلت ہے۔ یہ تباہ کن معاہدہ بھارت کو دہائیوں تک نقصان پہنچائے گا اور اِس کے اثرات عرصہ دراز تک بھارت کا تعاقب کرتے رہیں گے۔







