بنگلہ دیش میں بی این پی کا تاریخی مینڈیٹ، طارق رحمان وزارتِ عظمیٰ کے قریب

بی این پی نے دہائیوں میں بنگلہ دیش کے سب سے فیصلہ کن انتخابی نتائج میں دو تہائی اکثریت سے آگے نکل کر واضح برتری حاصل کر لی ہے، جبکہ جماعت اسلامی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بن کر ابھری ہے۔ طارق رحمان اب بنگلہ دیش کے اگلے وزیرِ اعظم بننے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

ڈھاکہ (تھرسڈے ٹائمز) — بنگلہ دیش کے 2026 قومی پارلیمانی انتخابات نے ملکی سیاست میں ایک واضح اور فیصلہ کن موڑ پیدا کر دیا ہے۔ عوام کی بڑی تعداد نے نسبتاً پُرامن اور منظم ماحول میں حقِ رائے دہی استعمال کیا، اور نتیجتاً پارلیمان کی نئی تصویر ایک طاقتور مینڈیٹ کے ساتھ سامنے آئی ہے۔

سرکاری نتائج کے مطابق 299 نشستوں والی قومی اسمبلی میں بی این پی اور اتحادیوں نے 212 نشستیں حاصل کر کے دو تہائی اکثریت سے بھی آگے نکل گئے۔ یہ برتری نہ صرف حکومت سازی کو تقریباً یقینی بناتی ہے بلکہ قانون سازی کے میدان میں بھی غیر معمولی طاقت فراہم کرتی ہے۔ اسی تناظر میں طارق رحمان کا نام نئی قیادت اور آئندہ حکومت کی سمت کے حوالے سے سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔

انتخابی دن ملک بھر میں ووٹرز کی غیر معمولی شرکت دیکھنے میں آئی۔ کئی شہروں اور دیہی علاقوں میں مرد و خواتین نے گھنٹوں قطاروں میں کھڑے ہو کر ووٹ ڈالا۔ بزرگ شہری، معذور افراد اور خواتین ووٹرز کی نمایاں حاضری نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا کہ یہ انتخاب محض سیاسی مقابلہ نہیں، بلکہ عوامی شمولیت اور جمہوری عمل کی بحالی کا ایک بڑا اظہار بھی ہے۔

نتائج کی دوسری بڑی جھلک جماعت اور اتحادیوں کی مضبوط پیش رفت ہے، جنہوں نے 77 نشستیں حاصل کر کے پارلیمان میں ایک قابلِ ذکر موجودگی قائم کر لی ہے۔ اس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں پارلیمانی سیاست، قانون سازی کے مباحث، اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں ان کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب اسلامی اندولن بنگلہ دیش کو 1 نشست ملی، جبکہ دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے حصے میں مجموعی طور پر 7 نشستیں آئیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ عوامی مینڈیٹ کی بڑی سمت دو بڑے سیاسی دھاروں کے گرد مرکوز رہی، جبکہ چھوٹی سیاسی قوتیں محدود نمائندگی تک سمٹ گئیں۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی اکثریت کو نئی حکومت کس مقصد کیلئے استعمال کرتی ہے۔ دو تہائی سے زائد مینڈیٹ اصلاحات اور تیز قانون سازی کی راہ ہموار کر سکتا ہے، مگر اسی کے ساتھ سیاسی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے کہ قومی سطح پر استحکام، ادارہ جاتی اعتماد اور سیاسی مفاہمت کو ترجیح دی جائے، تاکہ انتخابی نتیجہ کشیدگی کے بجائے نظم و ضبط اور بہتری کی بنیاد بن سکے۔

بنگلہ دیش کے انتخابی نتائج نے واضح کر دیا ہے کہ بی این پی اور اتحادی فیصلہ کن قوت بن کر سامنے آئے ہیں، جماعت اور اتحادی مضبوط دوسری طاقت کی صورت اختیار کر چکے ہیں، اور ملک اب ایک نئے سیاسی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں آنے والے فیصلے نہ صرف حکومت کی سمت بلکہ ریاستی نظم کی نوعیت پر بھی اثر انداز ہوں گے۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

error: