بھارتی شہری نے بھارتی سرکاری اہلکار کی ہدایت پر امریکی شہری کے قتل کی مبینہ سازش میں جرم قبول کر لیا، امریکی محکمۂ انصاف

امریکی محکمۂ انصاف (DOJ) کے مطابق بھارتی شہری نِکھل گپتا نے نیویارک میں مقیم سکھ امریکی شہری ( گُرپتونت سنگھ پنّوں) کو قتل کروانے کی مبینہ سازش میں معاونت کرنے کا جرم قبول کر لیا ہے۔ محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی مبینہ طور پر ایک بھارتی انٹیلیجنس اہلکار کی ہدایات پر انجام دی گئی۔

نیویارک (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق ایک بھارتی شہری نکھل گپتا (عرف ’’نک‘‘) نے 2023 میں نیو یارک میں مقیم اور امریکی شہریت کے حامل سِکھ کارکن کو قتل کرنے کی ناکام سازش میں اپنے مجرمانہ کردار کا اعتراف کر لیا ہے جس کے بعد اسے مجموعی طور پر 40 برس تک قید کی سزا کا سامنا ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق 54 سالہ نِکِھل گُپتا  نے جمعہ کے روز نیو یارک کی وفاقی عدالت میں سماعت کے دوران تین الزامات کے تحت مجرم ہونے کا اعتراف کر لیا ہے جن میں کرائے کے قاتل کے ذریعہ قتل، کرائے کے قاتل کے ذریعہ قتل کی سازش اور منی لانڈرنگ کی سازش شامل ہیں۔

حکام کے مطابق جس شخص کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی وہ بھارتی نژاد امریکی شہری (گُرپتونت سنگھ پنّوں) ہے جو پنجاب میں ایک آزاد سِکھ ریاست (خالصتان) کے قیام کی علانیہ حمایت کرتے رہے ہیں۔ پنجاب شمالی بھارت کی وہ ریاست ہے جہاں کی آبادی میں سِکھ مذہب کے پیروکاروں کی اکثریت ہے۔

امریکی اٹارنی جے کلیٹن نے کہا ہے کہ نِکِھل گُپتا نے نیو یارک میں ایک امریکی شہری کے قتل کی منصوبہ بندی کی، نِکِھل گُپتا کا خیال تھا کہ وہ امریکا سے باہر بیٹھ کر محض آزادیِ اظہار کے امریکی حق کے استعمال پر کسی کو نتائج کے بغیر قتل کروا سکتا ہے مگر اب نِکِھل گُپتا کو قانون کے مطابق جواب دینا ہو گا۔ جے کلینٹن نے مزید کہا کہ امریکا کا پیغام واضح ہے کہ بدنیتی رکھنے والے غیر ملکی عناصر امریکا اور اُس کے شہریوں سے دور رہیں۔

نِکِھل گُپتا کو جون 2023 میں جمہوریہ چیک میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد ازاں امریکا منتقل کیا گیا جہاں وہ قصوروار ہونے کا اعتراف کر کے مقدمہ میں ٹرائل سے بچ گیا ہے۔ یہ ایک ایسا کیس ہے جس نے امریکا اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی کو بڑھا دیا تھا۔

استغاثہ کے مطابق نِکِھل گُپتا ایک ایسے گروہ کا حصہ تھا جو بھارتی حکومت کے ساتھ مل کر بیرونِ ملک سِکھ علیحدگی پسندوں کو نشانہ بنا رہا تھا جبکہ جون 2023 میں کینیڈا کے مغربی حصہ میں ایک سِکھ مندر کے باہر نقاب پوش افراد کے ہاتھوں ہردیپ سنگھ نجّار پر ہلاکت خیز فائرنگ کو بھی اسی کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ برطانوی اخبار ’’فنانشل ٹائمز‘‘ کی جانب سے ستمبر 2023 میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل کے مطابق انڈیا نے کینیڈا کے شہری اور سِکھ راہنما ہردیپ سنگھ نجار کو دہشتگرد قرار دیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ ہردیپ سنگھ نجار انڈیا میں ایک ایسی کالعدم تنظیم کی حمایت کرتا ہے جو بھارتی پنجاب کو ایک آزاد ریاست ’’خالصتان‘‘ بنانا چاہتی ہے۔

فنانشل ٹائمز نے یہ بھی لکھا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را (دی ریسرچ اینڈ اینیلسز ونگ) پاکستان سمیت کئی ممالک کے اندر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت قتل جیسے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہے۔

کینیڈا میں اِس قتل کو سرکاری طور پر بھارتی کردار سے جوڑنے کے دعووں نے پہلے ہی بین الاقوامی سطح پر وسیع توجہ حاصل کی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات بھی متاثر ہوئے ہیں۔ امریکی استغاثہ کے مطابق نیو یارک والے مقدمہ میں ہونے والی بات چیت میں اُس قتل کا ذکر بھی آیا اور اُسے مبینہ طور پر وسیع تر ٹارگٹیڈ کارروائیوں کے تناظر میں دیکھا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق بھارتی شہری نِکِھل گُپتا نے گُرپتونت سنگھ پنّوں کو قتل کرنے کیلئے ایک قاتل کی خدمات حاصل کیں اور یہ سب وِکاش یادیو کی ہدایت پر کیا گیا جو بھارت کی بیرونی انٹیلیجنس ایجنسی کا آفیسر بتایا جاتا ہے اور جس پر اسی کیس میں الگ سے فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اُسی اہلکار نے نِکِھل گُپتا کو قتل کی سازش منظم کرنے کیلئے بھرتی کیا اور پھر اسے ہدایت اور عمل درآمد کے درمیان ’’بروکر‘‘ کے طور پر استعمال کیا گیا۔

عدالتی کارروائی میں پیش کیے گئے نکات کے مطابق یہ منصوبہ ایک ’’کنٹریکٹ کلنگ‘‘ کی صورت اختیار کرتا گیا جس میں رقم، ٹائم لائن اور شناختی معلومات کی مسلسل فراہمی شامل تھے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ نِکِھل گُپتا نے 6 ہندسوں پر مشتمل ادائیگی کے عوض ایک قاتل کا بندوبست کرنے کی کوشش کی اور پیشگی رقم بھی ادا کرنے کے انتظامات کیے گئے تاکہ قتل کی کارروائی شروع ہو سکے۔

امریکی حکام کے مطابق نِکِھل گُپتا کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ جس مجرمانہ تعاون کی تلاش میں تھا وہ ایک خفیہ آپریشن سے ٹکرا گئی تھی۔ نِکِھل گُپتا ایک ایسے فرد تک پہنچا جس کو وہ منظم جرائم کے نیٹ ورک تک رسائی رکھنے والا فرد سمجھتا تھا لیکن درحقیقت وہ امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرنے والا خفیہ ذریعہ تھا۔ جس قاتل سے نِکِھل گُپتا نے بات چیت کی، استغاثہ کے مطابق، وہ بھی درحقیقت ایک انڈر کور آفیسر تھا۔

جوں جوں سازش آگے بڑھی، تفتیش کاروں کے مطابق، نِکِھل گُپتا نے مبینہ طور پر ہدف کی ذاتی معلومات منتقل کیں جن میں رابطہ نمبرز، مقام سے متعلق تفصیلات اور نقل و حرکت کے معمولات شامل تھے۔ حکام کے مطابق ایسی معلومات ایک عوامی شخصیت کو قابلِ رسائی ہدف بنا دیتی ہیں۔ استغاثہ کے مطابق نِکِھل گُپتا نے نگرانی میں مدد کیلئے اپڈیٹس اور مواد بھی فراہم کیا۔

نِکِھل گُپتا کو امریکا پہنچنے کے بعد سے بغیر ضمانت حراست میں رکھا گیا ہے۔ اب اسے 2026 میں مین ہیٹن میں ایک وفاقی جج سزا سنائیں گے۔ جن الزامات میں اُس نے جرم قبول کیا اُن میں کرائے کے قاتل کے ذریعہ قتل اور اُس سے متعلقہ سازشیں شامل ہیں جبکہ منی لانڈرنگ کی سازش کا الزام استغاثہ کے اِس مؤقف کی عکاسی کرتا ہے کہ ادائیگی کے انتظامات مبینہ مجرمانہ منصوبے کا بنیادی حصہ تھے۔ دوسری جانب وِکاش یادیو تاحال بھارت میں موجود ہے۔

استغاثہ کے مطابق اِس سازش کے اندر وقت کے تعین پر بھی گفتگو ہوئی، بالخصوص جون 2023 کے اواخر میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے امریکا کے سرکاری دورے کے قریب حملہ نہ کرنے کی احتیاط کے حوالہ سے بھی بات ہوئی۔ امریکی حکام کے مطابق اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مبینہ طور پر سفارتی حساسیت کو مدنظر رکھ کر کارروائی کے وقت پر غور کیا جا رہا تھا۔

گُرپتونت سنگھ پنّوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اُنہیں قتل کرنے کی کوشش بھارت کی سرحد پار دہشتگردی کی واضح مثال ہے جو امریکا کی خودمختاری کیلئے چیلنج اور آزادیِ اظہار و جمہوریت کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔

بھارت کا دعویٰ ہے کہ گُرپتونت سنگھ پنّوں ایک دہشتگرد ہے اور اُس کی تنظیم کو کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ بھارت کے مطابق یہ گروہ ایک آزاد ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے اور بھارت کی علاقائی سالمیت کیلئے خطرہ ہے۔

عدالت میں نِکِھل گُپتا کے اعترافِ جرم سے ایک باب بند ہوا مگر کئی بڑے سوالات بدستور باقی ہیں: ایک مبینہ طور پر حکومتی رابطے کا دعویٰ، ایک امریکی شہری کو ہدف بنانے کا معاملہ اور نیو یارک جیسے شہر میں بیرونِ ملک سیاسی کشمکش کو تشدد کی شکل دینے کی کوشش۔ یہی عناصر اِس مقدمہ کو محض ایک فوجداری کارروائی نہیں رہنے دیتے بلکہ اسے ایک ایسے امتحان میں بدل دیتے ہیں جس میں یہ دیکھا جائے گا کہ واشنگٹن ایسے حالات میں کیا ردعمل دیتا ہے جب وہ سمجھتا ہے کہ کوئی دوسری ریاست دباؤ اور جبر کو امریکی سرزمین تک برآمد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

error: