امریکا میں بھارتی شہری کو کمسن بچے کے ساتھ جنسی زیادتی اور چوری کے الزامات میں گرفتار کر لیا گیا

امریکا میں غیر قانونی طور پر موجود ایک بھارتی شہری کو 13 سال کے بچے کے ساتھ جنسی زیادتی اور نیو جرسی میں ذاتی املاک کی چوری کے الزامات میں گرفتار کر لیا گیا۔ بھارت میں جنسی زیادتیوں اور خواتین کے ساتھ گینگ ریپ جیسے واقعات پہلے ہی عالمی تشویش کا باعث ہیں۔

واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — امریکا کی وفاقی لاء انفورسمنٹ ایجنسی (آئی سی ای) نے غیر قانونی طور پر امریکا میں موجود بھارتی شخص کو ایک نابالغ بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

یونائیٹڈ سٹیٹس امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے مطابق بھارتی شہری ووڈیلا یشسوی کوٹاپالی پر 13 سال سے کم عمر بچے کے ساتھ جنسی زیادتی اور نیو جرسی میں ذاتی املاک کی چوری کے الزامات زیرِ التواء ہیں جبکہ اُسے امریکا میں شاپ لفٹنگ اور عوامی سطح پر خرابی جیسے الزامات کا بھی سامنا ہے۔

امریکی لاء انفورسمنٹ ایجنسی کی جانب سے بھارتی شہری ووڈیلا یشسوی کوٹاپالی کو غیر قانونی طور پر امریکا میں موجود مجرم ایلین (اجنبی) قرار دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ بھارتی شخص امریکا میں دستاویزات کے بغیر رہنے والا امیگرنٹ ہے جس کو قانونی کارروائی مکمل ہونے تک حراست میں رکھا جائے گا۔

آئی سی ای (امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ) کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر (ایکس) پر حراست میں لیے گئے بھارتی شخص کی تصویر بھی جاری کی گئی ہے جس پر ’’چائلڈ ریپسٹ‘‘ لکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں جنسی زیادتیوں اور گینگ ریپ کے واقعات ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ برطانوی نیوز ایجنسی ’’رائٹرز‘‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت کی نینشل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) کے مطابق سال 2012 میں بھارت کے اندر پولیس نے 25 ہزار تک جنسی حملوں کے واقعات ریکارڈ کیے جس کے بعد ایسے واقعات کی تعداد سالانہ 30 ہزار تک پہنچ گئی۔

رائٹرز کے مطابق سال 2016 میں خواتین کے خلاف جنسی حملوں کے 39 ہزار واقعات پیش آئے، سال 2018 میں اوسطاً ہر 15 منٹس میں ایک واقعہ رونما ہوتا رہا جبکہ سال 2021 میں کم و بیش 31 ہزار جنسی حملوں کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

بھارت کے اندر وسیع پیمانے پر خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں اور گینگ ریپ جیسے واقعات کے بعد اب امریکا میں بھارتی شخص کا مبینہ طور پر 13 سال کے بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث ہو سکتا ہے۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

error: