اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — اسٹیبلشمنٹ ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید عمران خان کو سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت ریلیف نہیں مل سکتا بلکہ اُن کا راستہ قانونی ہے جو صرف عدالتوں کے ذریعہ شواہد اور آئینی طریقہ کار کے تحت ممکن ہے۔
حکام کے مطابق نومبر 2024 میں کسی مبینہ مفاہمت سے متعلق پھیلایا گیا بیانیہ جان بوجھ کر پیدا کی گئی ایک کنفیوژن ہے جس کا مقصد عوامی تاثر کو تبدیل کرنا ہے، پی ٹی آئی قیادت کے سامنے کوئی بیک چینل انتظام رکھا گیا نہ کسی ریلیف پیکیج کی پیشکش کی گئی اور نہ ہی کسی مشروط رہائی کا فریم ورک زیرِ غور لایا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اُس وقت صرف ایک واضح پیغام دیا گیا تھا کہ کسی بھی قسم کے سیاسی تشدد، اسلام آباد میں زبردستی داخلے کی کوشش یا وسیع پیمانے پر بدامنی کی صورت میں قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی جبکہ پی ٹی آئی کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ وہ قانونی اور انتظامی شرائط کے تحت سنگجانی یا کسی مقررہ مقام پر پُرامن سیاسی احتجاج کر سکتی ہے۔
ایک سورس کا کہنا ہے کہ کوئی ڈیل نہیں تھی، کوئی مذاکرات نہیں ہوئے اور نہ ہی کوئی سیاسی رعایت دی گئی ہے۔ اُن کے مطابق پُرامن احتجاج یا محاذ آرائی کا انتخاب مکمل طور پر سیاسی تھا جس کا فیصلہ پی ٹی آئی قیادت کو کرنا تھا۔
اسٹیبلشمنٹ حکام کا مزید کہنا ہے کہ مسلح افواج کو پولیٹیکل انجینئرنگ یا جماعتی تنازعات میں ثالثی سے متعلق کوئی ادارہ جاتی دلچسپی نہیں ہے، فوج کا آئینی تعلق کسی فردِ واحد یا سیاسی جماعت کے ساتھ بلکہ وفاقی حکومت کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ سیاسی مکالمہ، مذاکرات اور مفاہمت سیاسی جماعتوں اور سویلین اداروں کا دائرہِ اختیار ہے۔
ذرائع نے اِس بات پر بھی زور دیا ہے کہ امن و امان سے متعلق معمول کی بات چیت کو سیاسی نتائج کا ذریعہ بنانے کی کوشش دراصل فوج کو جان بوجھ کر سیاسی بیانیہ میں گھسیٹنے کی کوشش ہے۔ ایک عہدیدار کے مطابق فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور قانونی عمل درآمد کو سیاسی سودے بازی سے جوڑنا ادارہ جاتی وضاحت کو نقصان پہنچاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق عمران خان کیلئے کسی بھی قسم کا ریلیف صرف عدالتی کارروائیوں، شواہد اور قانونی حقائق کی بنیاد پر سامنے آ سکتا ہے جبکہ یہ سڑکوں پر دباؤ ڈالنے یا عوامی مہم کے ذریعہ ممکن نہیں ہے۔ آگے کا راستہ بند کمروں میں ہونے والا کوئی خفیہ معاہدہ نہیں بلکہ آئینی اور عدالتی ہے۔




