پاکستان کی افغانستان میں ائیر سٹرائیکس نے طالبان حکومت میں دراڑیں ڈال دیں، پاک افغان تعلقات پر اختلافات سامنے آ گئے

پاکستان کے افغانستان میں دہشتگرد ٹھکانوں پر حملوں نے طالبان حکومت میں دراڑیں ڈال دیں۔ کابل میں اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس میں پاکستان کے ساتھ تعلقات، شدت پسند گروہوں سے متعلق پالیسی اور مُلّا ہیبت اللّٰہ کی قیادت کے حوالہ سے اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — افغانستان کے اندر دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر پاکستان کی حالیہ ٹارگٹڈ ائیر سٹرائیکس نے نہ صرف مغربی سرحد پر سیکیورٹی کے توازن کو تبدیل کیا ہے بلکہ کابل میں طالبان حکومت کے اندر نمایاں دراڑیں بھی ڈال دی ہیں۔

باخبر ذرائع کے مطابق اِن حملوں کے فوراً بعد کابل میں طالبان قیادت کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں امیرِ طالبان مُلّا ہبت اللّٰہ اخوندزادہ، مُلّا یعقوب، عبدالغنی برادر اور سراج الدین حقانی سمیت مختلف دھڑوں کے بااثر راہنما شریک ہوئے۔ بظاہر پاکستانی اقدام پر حکمتِ عملی طے کرنے کیلئے بلایا گیا یہ اجلاس مبینہ طور پر شدید بحث و تکرار میں تبدیل ہو گیا اور اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کے حوالہ سے کابل کی موجودہ پالیسی پر گہرے اختلافات عیاں ہو گئے۔

اسلام آباد کی ریڈ لائن

پاکستانی مؤقف کے مطابق یہ حملے محض علامتی تھے نہ جوابی کارروائی کا کوئی نمائشی مظاہرہ تھے بلکہ اِنہیں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی ایک محدود اور نپی تلی کارروائی قرار دیا گیا ہے جس کا مقصد مسلسل سرحد پار دہشتگردی کو روکنا تھا۔ پاکستانی حکام طویل عرصہ سے یہ مؤقف بیان کرتے رہے ہیں کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت پاکستان مخالف شدت پسند گروہ افغان سرزمین سے سرگرم ہیں اور وہ پاکستان کے شہریوں اور سیکیورٹی اداروں کیلئے ایک مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

فضائی حملوں کی صورت میں پیغام واضح تھا کہ پاکستان اپنی علاقائی خودمختاری اور داخلی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔ جہاں مذاکرات اور سفارتی رابطے سرحد پار عسکریت پسندی کو روکنے میں ناکام رہیں وہاں اسلام آباد اپنے دفاع اور ہر طرح کے خطرات سے نمٹنے کیلئے اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

اِسی تناظر میں کابل کی قیادت میں بےنقاب ہونے والی دراڑیں اِس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان کے سخت اور دوٹوک مؤقف نے طالبان کے اندر ایک ناگزیر احتساب کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

عملیت پسند بمقابلہ سخت گیر

ذرائع کے مطابق طالبان قیادت کے اندر ایک دھڑا پاکستان کے ساتھ بگڑتے تعلقات پر شدید تنقید کر رہا ہے اور اُس کا استدلال ہے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی سرحد پار عسکری کارروائیوں، تجارتی رکاوٹوں، معاشی بدحالی، غربت میں اضافہ اور مزید بین الاقوامی تنہائی کا سبب بن چکی ہے۔

اسلام آباد کے نقطہ نظر سے یہ تجزیہ اُس کے دیرینہ مؤقف کی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان عدم استحکام کا سب سے زیادہ نقصان افغانستان کو ہوتا ہے۔ پاکستان افغانستان کیلئے ایک اہم تجارتی راستہ، معاشی سہارا اور سفارتی رابطہ کار ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق محاذ آرائی کی پالیسی کابل کیلئے سٹریٹیجک طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب ایک سخت گیر دھڑا کالعدم تنظیموں (ٹی ٹی پی اور بی ایل اے وغیرہ) کے ساتھ نرمی یا مبینہ ہمدردی کا دفاع کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعض شرکاء نے نظریاتی وابستگی، روایتی مہمان نوازی اور مبینہ طور پر خونی تعلقات کو اِس پالیسی کا جواز قرار دیا جبکہ اسلام آباد کے نزدیک یہی بنیادی مسئلہ ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی حکام کے مطابق پاکستان مخالف گروہوں کے حوالہ سے کسی بھی قسم کا ابہام یا نرم رویہ دوطرفہ اعتماد کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔

امیرِ طالبان کیلئے غیر معمولی چیلنج

سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ بعض آوازوں نے اجلاس کے دوران مُلّا ہبت اللّٰہ اخوندزادہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔ طالبان کی روایتی سخت تنظیمی ساخت اور کمان کے سخت نظام کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ ترین سطح پر اِس نوعیت کی کھلی تنقید غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے۔

عبدالغنی برادر، مُلّا یعقوب اور سراج الدین حقانی جیسے راہنماؤں کو بااثر طاقتوں کے مراکز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اندرونی قیادت کی اِس کشمکش نے عملیت پسندی اور نظریاتی سختی کے درمیان موجود اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

پاکستان کیلئے یہ داخلی بحث اہمیت کی حامل ہے۔ اگر کابل میں ایسی قیادت ابھرتی ہے جو ریاستی استحکام اور علاقائی تعاون کو ترجیح دے تو باقاعدہ سیکیورٹی تعاون کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر سخت گیر عناصر غالب رہیں تو کشیدگی اور بداعتمادی کا سلسلہ طویل ہو سکتا ہے۔

اہم موڑ یا عارضی جھٹکا

اسلام آباد کیلئے یہ فضائی حملے کشیدگی بڑھانے کیلئے نہیں بلکہ قابلِ اعتبار دفاعی حکمتِ عملی قائم کرنے کیلئے کیے گئے تھے۔ بنیادی مقصد واضح ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کیلئے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ کابل کا حالیہ اجلاس کسی حقیقی موڑ کی نشاندہی کرتا ہے یا پھر یہ محض طالبان قیادت کے اندر ایک عارضی لرزش ہے۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ پاکستان کا پیغام صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان نے افغانستان کی حکمران قیادت کے اندرونی توازن کو بھی متاثر کیا ہے۔

اسلام آباد سخت مؤقف برقرار رکھتے ہوئے سفارتی ذرائع بھی کھلے رکھے ہوئے ہے۔ اب سٹریٹیجک تعلقات کا انحصار کابل میں کیے جانے والے فیصلوں پر ہے جبکہ کشیدگی میں کمی کا راستہ شدت پسند پناہ گاہوں کے خاتمہ اور باہمی اعتماد کی بحالی سے ہو کر گزرتا ہے۔ پاکستان کے نقطہ نظر سے یہ معاملہ محض بیانیہ نہیں بلکہ سلامتی، خودمختاری اور اِس بنیادی توقع سے وابستہ ہے کہ پڑوسی ملک کی سرزمین ریاست کو غیر مستحکم کرنے کیلئے استعمال نہیں ہو گی۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

error: