تجزیہ: فتنہ الخوارج کے بڑھتے حملے؛ خیبرپختونخوا پولیس کی بہادری بےمثال مگر استعداد و وسائل ناکافی اور حکمتِ عملی کمزور کیوں؟

دہشتگردی کے خلاف جنگ؛ خیبرپختونخوا پولیس کی بہادری و قربانیاں بےمثال مگر صوبائی حکومت کی کمزور حکمتِ عملی اور استعداد و وسائل ناکافی ہیں۔ وی ائی پی پروٹوکولز، سیاسی مداخلت اور کمزور ڈھانچے کی قیمت میدانِ جنگ میں جوانوں کے خون سے ادا کرنا پڑتی ہے۔

spot_imgspot_img

پشاور (تھرسڈے ٹائمز) — خیبرپختونخوا پولیس دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جواں مردی اور بہادری کے ساتھ لڑ رہی ہے مگر اُس کی استعداد ناکافی دکھائی دیتی ہے۔ فتنہ الخوارج کے بڑھتے حملوں کے باوجود صوبائی حکومت پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھانے میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہی۔

فرنٹ لائن پر موجود فورس اور بڑھتا ہوا دباؤ

خیبرپختونخوا پولیس اِس وقت پاکستان کی اُن چند فورسز میں سے ہے جو روزانہ کی بنیاد پر دہشتگردی کے براہِ راست دباؤ میں کام کر رہی ہیں۔ یہ وہ فورس ہے جس کے جوان نہ صرف چوکیوں پر کھڑے ہیں بلکہ انٹیلیجینس بیسڈ کارروائیوں، قافلوں کی حفاظت اور ہجوم کے درمیان نظم قائم رکھنے تک ہر جگہ فرنٹ لائن پر موجود ہیں۔ تاہم اِسی فورس کے ساتھ ایک تلخ حقیقت بھی جڑی ہوئی ہے۔ بہادری اپنی جگہ مگر پشت پر حکمتِ عملی نہ ہونے اور استعداد نہ بڑھائے جانے کے باعث یہ جنگ خطرناک حد تک غیر متوازن ہو رہی ہے۔

منظم حملے، واضح ہدف

گزشتہ چند دنوں میں فتنہ الخوارج نے کوہاٹ، کرک، باجوڑ اور بنوں میں پولیس اور فیڈرل کانسٹیبلری کو مسلسل نشانہ بنایا ہے۔ یہ واقعات محض اتفاق نہیں لگتے بلکہ ایک منظم دباؤ کی صورت اختیار کر چکے ہیں جس کا مقصد پولیس کو کمزور کرنا، عوام میں خوف پھیلانا اور اُن علاقوں میں دوبارہ جگہ بنانا ہے جہاں سیکیورٹی کی موجودگی محدود یا منتشر ہے۔ جب دشمن کی حکمتِ عملی واضح ہو رہی ہو تو ریاستی ردعمل بھی واضح، مربوط اور فوری ہونا چاہیے۔

حکومتی ترجیحات پر بڑا سوال

اِس نازک مرحلہ میں بھی صوبائی حکومت کی توجہ کا مرکز امن و امان کے بنیادی مسائل کی بجائے سیاسی محاذ دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف دہشتگردی کا دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ دوسری طرف صوبائی سطح پر وہ فیصلے، وہ بجٹ، وہ اصلاحات اور وہ ادارہ جاتی سرمایہ کاری نظر نہیں آتی جو اِس دباؤ کو قابلِ برداشت بناتی ہے۔ پولیس کی قربانی کو محض بیانات کی حد تک سراہا جانا کافی نہیں بلکہ اسے حفاظت، وسائل، تربیت اور ٹیکنالوجی میں ڈھالنا ہو گا۔

شہادتیں بڑھ رہی ہیں، مگر صلاحیت نہیں

اعداد و شمار اِسی تضاد کو مزید بےنقاب کرتے ہیں۔ سال 2025 میں 125 پولیس اہلکار شہید اور 236 زخمی ہوئے جبکہ 2026 کے پہلے دو ماہ میں ہی 40 سے زائد اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد ایک مسلسل جنگ کی تصویر ہیں۔ ایسے حالات میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھانے کیلئے عملی اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے؟

پروٹوکول بمقابلہ عوامی سلامتی

یہ سوال اُس وقت مزید سخت ہو جاتا ہے جب یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ صوبہ کی مجموعی سیکیورٹی مضبوط کرنے کے بجائے پولیس کے ہزاروں اہلکار وی آئی پی پروٹوکولز اور سیکیورٹی ڈیوٹیز میں بندھے ہوئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق 6 ہزار سے زائد اہلکار صرف پروٹوکول میں لگائے گئے ہیں جبکہ مختلف اضلاع میں سینکڑوں اہلکار وی آئی پی سیکیورٹی پر تعینات ہیں۔ اگر محاذ پر نفری کم ہو، حفاظتی ساز و سامان مکمل نہ ہو اور آپریشنل صلاحیت بھی محدود ہو تو پروٹوکول کو ترجیح دینا عملی طور پر محاذ کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

سی ٹی ڈی: جنگ کا مرکزی ادارہ، مگر کمزور ڈھانچہ

یہی کمزوری سی ٹی ڈی کے معاملہ میں زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔ خیبرپختونخوا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ رہا ہے لیکن اِس کے باوجود سی ٹی ڈی کی حالت بہتر دکھائی نہیں دیتی۔ آپریشنل نفری صرف 3 ہزار 2 سو اہلکاروں پر مشتمل ہے جو ایک ایسے صوبہ کیلئے ناکافی ہے جہاں دہشتگردی سے متعلق مقدمات اور خطرات کی سطح بلند رہتی ہے۔ تربیتی ڈھانچہ کمزور ہو، جدید پروگرامز میں خلا ہو اور ادارہ تکنیکی اعتبار سے دوسروں پر انحصار کرے تو جنگ کا وزن لازماً فیلڈ میں کھڑے جوان کے کندھے پر آ گِرتا ہے۔

فنڈز موجود، اثر کیوں نہیں؟

فنڈنگ کا پہلو بھی اِسی طرح سوالات کو جنم دیتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 2010 سے 2025 کے دوران دہشتگردی کے خلاف جنگ کیلئے وفاق کی جانب سے بڑی رقوم فراہم کی گئیں اور 2023-24 کے پہلے 9 ماہ میں بھی قابلِ ذکر رقم صوبہ کو دی گئی۔ لیکن جب سی ٹی ڈی کی استعداد میں واضح بہتری نظر نہ آئے اور جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا فرانزک، تربیت اور ریوارڈ فنڈ جیسے بنیادی شعبے کمزور رہیں تو پھر مسئلہ ’’فنڈز کی عدم دستیابی‘‘ سے زیادہ فنڈز کے استعمال اور ترجیحات کا لگتا ہے۔

فائلز میں دبتی ڈیمانڈز، میدان میں خون

پولیس کی کیپسٹی بلڈنگ کیلئے باقاعدہ ڈیمانڈز پیش ہونے کے باوجود فنڈز جاری نہ ہونا محض سستی نہیں بلکہ ایک پالیسی سگنل ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور ملاکنڈ ڈویژن کیلئے تجویز کردہ رقوم تربیت، جدید اسلحہ، گاڑیوں اور حفاظتی آلات پر خرچ ہونی تھیں لیکن اگر یہ تجاویز فائلز میں دب جائیں تو نتیجہ میدان میں خون کی صورت میں سامنے آتا ہے اور پھر ہر حملے کے بعد تعزیتی بیانات ادارہ جاتی خلا کو بھر نہیں سکتے۔

بلٹ پروف گاڑیاں اور فیصلوں کی قیمت

بلٹ پروف گاڑیوں کا معاملہ اِسی خلا کی تلخ مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔ پولیس اہلکاروں کے تحفظ سے متعلق فیصلے اگر سیاسی انا، بداعتمادی یا انتظامی ضد کی نذر ہو جائیں تو پھر خطرہ صرف اہلکار کی جان کو نہیں بلکہ ریاستی رِٹ کو بھی لاحق ہوتا ہے۔ اِس جنگ میں سب سے قیمتی اثاثہ انسانی جان ہے، خاص طور پر وہ جوان جو فرنٹ لائن پر کھڑا ہے۔

ادارہ جاتی خودمختاری، کارکردگی کی شرط

گریڈ 18 اور اِس سے اوپر افسران کی تقرری اور تبادلوں کے اختیار کو پولیس چیف کے بجائے سیاسی سطح پر منتقل کرنے سے پولیس کا نظم و ضبط، میرٹ اور کمانڈ سٹرکچر متاثر ہوتا ہے۔ اگر تقرریاں اور تبادلے کارکردگی کی بجائے پسند اور ناپسند کی بنیاد پر ہوں تو نتائج لازماً فیلڈ آپریشنز، انٹیلیجینس کوآرڈینیشن اور فورس کے مورال پر پڑتے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ادارہ جاتی تسلسل اور پیشہ ورانہ خودمختاری محض نعروں کا حصہ نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت ہے۔

نعرے نہیں، فیصلے

خیبرپختونخوا پولیس کی شہادتیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ امن کسی معاشرے کو مفت نہیں ملتا۔ لیکن قربانی کو صرف بیانات کی حد تک نہیں رکھا جا سکتا۔ اگر حکومت نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں، پروٹوکولز کم کر کے محاذ مضبوط نہ کیا، سی ٹی ڈی اور پولیس کی استعداد بڑھانے کا عمل فوری اور قابلِ پیمائش بنیادوں پر شروع نہ کیا، جدید ٹیکنالوجی اور مستقل تربیت کو ترجیح نہ دی اور ادارہ جاتی خودمختاری بحال نہ کی تو پھر فتنہ الخوارج کے خلاف یہ جنگ صرف جوان کی بہادری کی بنیاد پر نہیں جیتی جا سکے گی۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

spot_img

خبریں

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

More from The Thursday Times

error: