راولپنڈی (تھرسڈے ٹائمز) — ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کے ساتھ پاکستان پر حملہ آور ہوئی اور پھر دنیا نے پاکستان کا ردعمل بھی دیکھا جو فوری اور مؤثر تھا، افغان طالبان رجیم پاکستان اور دہشتگردی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔ وہ پاکستان کا انتخاب کرے یا پھر ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش، القاعدہ اور دیگر دہشتگردوں کا انتخاب کرے، پاکستان میں ہونے والی ہر دہشتگردی کے پیچھے بھارتی سپانسرشپ، بھارتی اِعانَت اور بھارتی ڈیزائن ہے جبکہ افغان طالبان رجیم کے زیرِ تسلط علاقہ بیس کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری پاکستانی قوم متحد ہے۔
پوری دنیا نے دیکھا کہ کل افغان طالبان رجیم فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کے ساتھ پاکستان پر حملہ آور ہوئی۔ دنیا نے پاکستان کا ردعمل بھی دیکھا جو فوری اور مؤثر تھا۔ تمام 53 مقامات پر حملے ناکام بنائے گئے، کسی ایک مقام پر بھی افغان حملہ کامیاب نہ ہوا، افواجِ پاکستان نے منہ توڑ جواب دیتے… pic.twitter.com/37hgt1foUo
— The Thursday Times (@thursday_times) February 27, 2026
افغان طالبان رجیم ماسٹر پراکسی
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پاک افغان جنگ کے حوالہ سے اہم پریس کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم افغانستان میں تمام دہشتگرد پراکیسز کی ماسٹر پراکسی ہے جس نے گزشتہ رات فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کے ساتھ پاک افغان بارڈر کے 15 سیکٹرز میں خیبرپختونخوا کے 53 مقامات پر حملے کیے۔ ٹی ٹی پی بین الاقوامی سطح پر دہشتگرد قرار دی گئی تنظیم ہے۔
پاکستان کا فوری اور مؤثر ردعمل
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ پوری دنیا نے دیکھا کل افغان طالبان رجیم فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کے ساتھ پاکستان پر حملہ آور ہوئی اور پھر دنیا نے پاکستان کا ردعمل بھی دیکھا جو فوری اور مؤثر تھا۔ تمام 53 مقامات پر حملے ناکام بنائے گئے، کسی ایک مقام پر بھی افغان حملہ کامیاب نہ ہوا، افواجِ پاکستان نے منہ توڑ جواب دیتے ہوئے اُن کے کواڈ کاپٹرز گِرائے اور ہتھیاروں کو بھی خاموش کرایا۔
پاکستان کے 12 سپوت شہید، افغان طالبان کے 274 اہلکار مارے گئے
اُنہوں نے بتایا کہ پاکستان کی عزت اور سالمیت کا دفاع کرتے ہوئے اب تک بہادر افواج کے 12 سپوتوں نے جامِ شہادت نوش کیا ہے جبکہ 27 زخمی ہیں اور ایک سولجر لاپتہ ہے۔ آپریشن غضب للحق میں افغان طالبان رجیم کے 274 اہلکار اور خوارج مارے جا چکے ہیں جبکہ 400 سے زائد زخمی ہیں۔ اُن کی 73 پوسٹس مکمل تباہ کی جا چکی ہیں جبکہ 18 پوسٹس ہمارے قبضہ میں ہیں۔ محتاط اندازے کے مطابق اُن کے 150 ٹینکس، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گاڑیاں تباہ کی جا چکی ہیں۔ وہ دفاعی عمارتیں اور تنصیبات جہاں منصوبہ بندی میں مدد کی جاتی ہے انہیں بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاکستان نے افغانستان کے 22 مقامات پر فضائی حملے کیے
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ کہ پاکستان کی جانب سے فضائی حملوں میں افغانستان کے 22 مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن میں کابل، قندھار، پکتیا، ننگرہار اور خوست شامل ہیں۔ یہ تمام ملٹری ٹارگٹس تھے جنہیں سوچ سمجھ کر منتخب کیا گیا جبکہ کوئی سویلین جانی نقصان نہیں ہوا۔ پاکستان نے افغانستان میں جن اہداف کو نشانہ بنایا اُن میں افغان طالبان فورسز کے کور ہیڈ کوارٹرز، بریگیڈ پیڈ کوارٹرز، بٹالین ہیڈ کوارٹرز، سیکٹر ہیڈ کوارٹرز، اینیشین ڈیپوز، لاجسٹک بیسز اور دہشتگردوں و سہولت کاروں کو تحفظ فراہم کرنے والی پناہ گاہیں شامل ہیں۔
دہشتگردوں کیلئے کوئی جگہ نہیں
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی سی پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ پاکستان میں اگر کہیں بھی کوئی دہشتگردی کا واقعہ ہوا تو اُس کا جواب نہ صرف ذمہ دار دہشتگردوں کو بلکہ اُن کے سرپرستوں اور تحفظ کرنے والوں کو بھی دیا جائے گا، پھر اُن سب کی کوئی جگہ بھی محفوظ نہیں رہے گی۔
پاکستان یا دہشتگردی؟
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے واضح کیا کہ افغان طالبان رجیم پاکستان اور دہشتگردی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔ وہ پاکستان کا انتخاب کرے یا پھر ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش، القاعدہ اور دیگر دہشتگردوں کا انتخاب کرے۔ جان لیں کہ ہمارا انتخاب واضح ہے، ہمارے لیے پاکستان سب سے اہم ہے جس کیلئے افواجِ پاکستان اور پاکستانی قوم کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
افغان طالبان رجیم پاکستان اور دہشتگردی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔ وہ پاکستان کا انتخاب کرے یا پھر ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش، القاعدہ اور دیگر دہشتگردوں کا انتخاب کرے۔ جان لیں کہ ہمارا انتخاب واضح ہے، ہمارے لیے پاکستان سب سے اہم ہے جس کیلئے افواجِ پاکستان اور پاکستانی قوم کسی… pic.twitter.com/ySBW0pYuz4
— The Thursday Times (@thursday_times) February 27, 2026
پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارتی کردار
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پاکستان کے اندر دہشتگردی میں بھارتی کردار کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی ہر دہشتگردی کے پیچھے بھارتی سپانسرشپ، بھارتی اِعانَت اور بھارتی ڈیزائن ہے جبکہ افغان طالبان رجیم کے زیرِ تسلط علاقہ بیس کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ افواجِ پاکستان مشرقی و مغربی سرحد سمیت ہر محاذ پر چوکس ہیں، کسی نے اپنا شوق پورا کرنا ہے تو آ جائے۔
دوحہ معاہدے میں کیے گئے وعدے
اُنہوں نے افغان طالبان رجیم کو دوحہ معاہدہ یاد دلاتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان رجیم نے دوحہ معاہدے میں کچھ وعدے کیے تھے کہ افغانستان میں نمائندہ حکومت بنے گی، خواتین کے حقوق کا احترام اور اقلیتوں کا تحفظ ہو گا، اور افغان سرزمین خطہ میں دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہو گی۔ کیا یہ وعدے پورے ہوئے؟ اب پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت اور پوری قوم کا ایک واضح مؤقف ہے۔ ہم اُس دہشتگردی کے خلاف سب سے آگے کھڑے ہیں جس سے پوری دنیا کو خطرہ ہے۔
پوری قوم متحد، تمام جماعتیں متفق
ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا بیانیہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری پاکستانی قوم متحد ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں واضح ہیں کہ پاکستان میں دہشتگردی اور اُس کی سہولت کاری کیلئے کوئی جگہ نہیں۔ نیشنل ایکشن پلان 2014 میں تمام سیاسی جماعتوں نے بنایا اور اِس حوالہ سے کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔
خیبرپختونخوا پولیس کو خراجِ تحسین
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ افواجِ پاکستان اور پوری قوم بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ ہیں۔ کوئی بھی افواجِ پاکستان اور خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیوں اور شہادتوں کو جھٹلا نہیں سکتا۔ ہم خیبرپختونخوا کی بہادر پولیس کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جو بالکل فرنٹ پر کھڑی ہے اور عوام کے تحفظ کیلئے جانیں قربان کر رہی ہے، ہمیں اُن پر فخر ہے، قوم اُنہیں سلام پیش کرتی ہے۔
آپریشن غضب للحق
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے مزید کہا کہ پاکستان نے کل رات جو آپریشن کیا وہ حق پر تھا اور دفاع کیلئے تھا، دنیا جانتی ہے پاکستان کا آپریشن غضب للحق عوام کے تحفظ کیلئے ہے، کل جب افواجِ پاکستان دشمن کو جواب دے رہی تھیں تو پاکستانی میڈیا، سوشل میڈیا اور پوری قوم بھی آہنی دیوار بن کر کھڑی رہے رہے، آپریشن غضب للحق اپنے مقاصد کی تکمیل تک جاری رہے گا۔




