اب دما دم مست قلندر ہوگا اور ہماری تمہاری کھلی جنگ ہوگی، خواجہ آصف کا طالبان حکومت کو پیغام

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے طالبان حکومت کو سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہوگی اور “دما دم مست قلندر” ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی بلکہ ہمسایہ ہونے کے ناتے زمینی حقائق اور حالات سے پوری طرح واقف ہے اور تمہاری اوقات بھی جانتی ہے۔

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے افغانستان کی طالبان حکومت کے خلاف انتہائی سخت الزام عائد کیا ہے کہ نیٹو افواج کے انخلا کے بعد جس امن کی امید کی جا رہی تھی وہ پوری نہ ہو سکی، بلکہ طالبان نے افغانستان کو بھارت کی “کالونی” بنا دیا۔

خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ توقع تھی طالبان افغان عوام کے مفادات اور خطے میں امن پر توجہ دیں گے، تاہم ان کے مطابق طالبان نے افغانستان میں دنیا بھر کے “دہشت گردوں” کو جمع کیا اور پھر دہشت گردی کو برآمد کرنا شروع کر دیا۔

وزیرِ دفاع کے بیان کے مطابق طالبان نے اپنے ہی عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا اور خواتین سے وہ حقوق بھی چھین لیے جو اسلام انہیں دیتا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے صورتحال کو معمول پر رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، براہِ راست بھی اور دوست ممالک کے ذریعے بھی، اور “فل فلیجڈ ڈپلومیسی” کی۔ تاہم ان کے مطابق طالبان بھارت کے پراکسی بن گئے۔

انہوں نے کہا کہ آج جب پاکستان کو جارحیت کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو اس وقت پاکستانی افواج فیصلہ کن جواب دے رہی ہیں۔

وزیرِ دفاع نے اپنے بیان میں پاکستان کے ماضی کے کردار کو “مثبت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے پچاس برسوں میں پچاس لاکھ افغان شہریوں کی میزبانی کی، اور آج بھی لاکھوں افغان پاکستانی سرزمین پر روزی کما رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ “ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے”، اور اب “ہمارے اور تمہارے” درمیان کھلی جنگ کی کیفیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب معاملہ “دما دم مست قلندر” والا ہوگا۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان کی فوج “سمندر پار سے نہیں آئی”، پاکستان افغانستان کا ہمسایہ ہے اور “تمہاری اندر کی باتیں اور باہر کے راستے” جانتا ہے۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

error: