پاکستان کا دوٹوک پیغام: ”اگلا نمبر پاکستان“ کا بیانیہ گمراہ کن، آپریشن ضرب للحق جاری رہے گا، سیکیورٹی ذرائع

اگلا نمبر پاکستان کا تاثر گمراہ کن ہے۔ آپریشن ضرب للحق افغان طالبان کی دہشت گرد سہولت کاری اور دہشت گرد سہولت کاروں کے خلاف جاری رہے گا۔ پاکستان اپنے دفاع اور علاقائی سفارت کاری پر پُرعزم ہے۔

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — سیکیورٹی ذرائع نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کیا ہے کہ علاقائی کشیدگی میں اگلا ہدف پاکستان ہوگا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اپنے دفاع، سفارت کاری اور علاقائی حکمتِ عملی کے حوالے سے مکمل طور پر پُراعتماد ہے، جبکہ آپریشن ضرب للحق دہشت گردوں کی سہولت کاری کے خلاف جاری رہے گا۔

پاکستان، پاکستان ہے

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان، پاکستان ہے، نہ ایران ہے، نہ افغانستان، اور اس وقت ایسے کوئی حالات موجود نہیں کہ پاکستان کسی براہِ راست زد میں آئے۔ ذرائع کے مطابق اگر کسی نے پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو دنیا اس کا نتیجہ دیکھ لے گی۔ “پاکستان کے دفاع پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے، ہم پورے عزم سے کھڑے ہیں۔

طالبان، ٹی ٹی پی اور الزامات

ذرائع کے مطابق افغان طالبان رجیم کے عناصر اور ٹی ٹی پی کے دہشت گرد مل کر پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ طالبان رجیم کی سرپرستی میں بعض گروہوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف بیانات جاری کرائے گئے۔

سیکیورٹی ذرائع کا مؤقف ہے کہ پاکستان کا افغان عوام سے کوئی مسئلہ نہیں، تاہم افغان طالبان کو ماسٹر پراکسی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہ نظریاتی قوت کے بجائے دیگر عناصر کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں۔ ایک مثال کے طور پر طالبان وزیر خارجہ کی بھارت میں تصویر کشی کا حوالہ بھی دیا گیا۔

آپریشن ضرب للحق: مدت اور مقصد

ذرائع کے مطابق آپریشن ضرب للحق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغان طالبان رجیم دہشت گرد عناصر اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کر لیتا۔ واضح کیا گیا کہ یہ کارروائیاں افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردوں کی مبینہ سہولت کاری کے خلاف ہیں۔

مزید کہا گیا کہ آپریشن غضب للحق نے افغانستان کے بعض حلقوں میں امید پیدا کی ہے، کیونکہ یہ “عالمی خطرے” کے خلاف کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔

علاقائی سفارت کاری اور عالمی حوالہ

سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ ایران نے اقوام متحدہ میں روس، چین اور پاکستان کا شکریہ ادا کیا، جو پاکستان کے علاقائی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق ایران اور خلیجی ممالک پاکستان کو ایک مدبر اور متوازن دوست سمجھتے ہیں، اور اسلام آباد ایک ہی وقت میں متعدد ممالک کے ساتھ روابط برقرار رکھ کر سفارتی توازن قائم رکھتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کے قومی مقاصد واضح ہیں اور ریاست پختہ یقین کے ساتھ ان پر عمل پیرا ہے۔ ہمیں مکمل ادراک ہے کہ کب اور کیا کرنا ہے۔

طالبان کے لیے پیغام

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان رجیم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ پاکستان کے دشمنوں جیسا رویہ اختیار کرے گی یا ذمہ دار حکومت بننے کی راہ اپنائے گی۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کا حامی ہے، مگر اپنی خودمختاری اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

error: