ریاض (تھرسڈے ٹائمز) — فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہِ سعودی عرب نے خطہ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان کی دفاعی سفارت کاری کی اہمیت کو ایک بار پھر اُجاگر کر دیا ہے جہاں خلیجی سلامتی، ڈرون و میزائل حملوں کے خطرات اور غلط اندازوں کے امکانات نے علاقائی فضا کو غیر معمولی طور پر حساس بنا دیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے خطہ کی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں ایک اہم ملاقات کی جس کو دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹیجک رابطے اور کوآرڈینیشن کے تسلسل کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
Met with Pakistan’s Chief of Army Staff and Chief of Defense Forces, Field Marshal Asim Munir. We discussed Iranian attacks on the Kingdom and the measures needed to halt them within the framework of our Joint Strategic Defense Agreement. We stressed that such actions undermine… pic.twitter.com/OuELnf9LU6
— Khalid bin Salman خالد بن سلمان (@kbsalsaud) March 7, 2026
آئی ایس پی آر (انٹر سروسز پبلک ریلیشنز) کے مطابق اِس اہم ملاقات میں ایران کی جانب سے سعودی سرزمین پر کیے جانے والے ڈرون اور میزائل حملوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا جبکہ بلا اشتعال ایرانی کارروائیوں کے خلاف پاک سعودی دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت سعودی سرزمین کے عملی دفاع کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا جس کو سفارتی زبان میں ایک واضح ڈیٹرینس سگنل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق ایسے بیانات محض رسمی نہیں ہوتے بلکہ خطہ میں طاقت کے توازن اور ردعمل کے امکانات کو فریقین کے سامنے واضح کر دینے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کے ساتھ پاکستان کے چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات میں پڑوسی ملک ایران پر زور دیا گیا کہ خطہ کی سلامتی اور استحکام کیلئے ایسے اقدامات سے گریز ضروری ہے جو دوست ممالک کی جانب سے جاری امن کی کوششوں کو متاثر کریں یا کشیدگی کو مزید وسعت دیں۔
دونوں راہنماؤں کی جانب سے موجودہ ماحول میں ’’دانشمندی‘‘ کے مظاہرہ اور ’’غلط اندازوں سے گریز‘‘ جیسی گفتگو کو محض نرمی نہیں بلکہ کرائسز مینیجمنٹ کی ایک عملی ضرورت سمجھا جا رہا ہے کیونکہ خطہ میں کسی بھی غلط حساب کتاب کا اثر فوری طور پر کئی محاذوں تک پھیل سکتا ہے۔
اہم پیش رفت یہ ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیرِ دفاع کے ساتھ ملاقات کے فوری بعد ایران کی جانب سے پڑوسی ممالک کو نشانہ نہ بنانے کے بیان کو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کیلئے ایک مثبت اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔
ایرانی صدر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم ہمسایہ ممالک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، وہ ہمارے شراکت دار ہیں اور ہمیں خطہ کے دوست ممالک کے ساتھ مل کر امن اور ہم آہنگی کیلئے کام کرنا چاہیے۔ افواج کو ہدایت دی گئی ہے کہ ہمسایہ ممالک کو نشانہ نہ بنایا جائے، مسئلہ کا حل ہمسایوں کے ساتھ محاذ آرائی نہیں بلکہ سفارت کاری ہے۔
ہم ہمسایہ ممالک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ وہ ہمارے شراکت دار ہیں اور ہمیں خطے کے دوست ممالک کے ساتھ مل کر امن اور ہم آہنگی کے لیے کام کرنا چاہیے۔ افواج کو ہدایت دی گئی ہے کہ جب تک اُن کی سرزمین سے ہم پر حملہ نہ ہو، ہمسایہ ممالک کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ مسئلے کا حل سفارت… pic.twitter.com/JEZVcicSdp
— The Thursday Times (@thursday_times) March 7, 2026
تجزیہ نگاروں کے مطابق ایسے مرحلے پر بیانیہ کی سمت بھی اہم ہوتی ہے کیونکہ یہ آئندہ کے فیصلوں اور عملی اقدامات کیلئے فضا ہموار کرتی ہے، خصوصاً جب خطہ ایک ہی وقت میں کئی دباؤ والے مسائل سے گزر رہا ہو۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق خطہ میں امن کیلئے کی جانے والی کوششوں میں پاکستان بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر کی دفاعی سفارت کاری غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ اسلام آباد نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ایک متوازن اور تعمیری خارجہ پالیسی کے ذریعہ شراکت داروں کے ساتھ روابط برقرار رکھنے کی کوششیں جاری رکھیں تاکہ کشیدگی کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور سفارتی راستے کھلے رہیں۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق ایرانی صدر کے حالیہ بیان کے پس منظر میں پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں اور رابطہ کاری کا بھی ایک وسیع کردار ہو سکتا ہے کیونکہ دفاعی فریم ورک، سفارتی رابطے اور ’’غیر ضروری تصادم سے گریز‘‘ جیسی باتیں سامنے آئیں تو اِس کے اثرات صرف بیانات تک محدود نہیں رہتے بلکہ علاقائی ماحول اور فریقین کے حساب کتاب پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔




