تہران (تھرسڈے ٹائمز) — ایرانی صدر نے پڑوسی ممالک کے خلاف ایرانی حملوں پر معافی مانگ لی۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پڑوسی ممالک سے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ اب ایران کی جانب سے پڑوسی ممالک پر کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا۔
ایران کے سرکاری ٹی وی اور اے ایف پی کے ذریعہ رپورٹ کی گئی تقریر کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کی عبوری قیادت کونسل نے اِس بات کی منظوری دی ہے کہ ہمسایہ ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل سٹرائیک نہیں ہو گا جب تک کہ اُن ممالک کی جانب سے ایران کے خلاف کوئی حملہ نہیں کیا جاتا۔
ہم ہمسایہ ممالک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ وہ ہمارے شراکت دار ہیں اور ہمیں خطے کے دوست ممالک کے ساتھ مل کر امن اور ہم آہنگی کے لیے کام کرنا چاہیے۔ افواج کو ہدایت دی گئی ہے کہ جب تک اُن کی سرزمین سے ہم پر حملہ نہ ہو، ہمسایہ ممالک کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ مسئلے کا حل سفارت… pic.twitter.com/JEZVcicSdp
— The Thursday Times (@thursday_times) March 7, 2026
ایرانی صدر کی جانب سے پڑوسی ممالک پر حملوں کے حوالہ سے معافی کا بیان پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دونوں راہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی فریم ورک کے تحت تبادلہِ خیال کرتے ہوئے اِس امید کا اظہار کیا کہ ایران دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر ضروری تصادم سے گریز کرے گا۔
واضح رہے کہ ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی جانب سے خلیجی و عرب ممالک پر میزائلز اور ڈرون حملوں کی لہر شروع ہوئی جبکہ حالیہ دِنوں میں ترکیہ اور آذربائیجان کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے پارلیمنٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بتایا کہ ایران کی جانب سے خلیجی و عرب ممالک میں ائیر پورٹس اور انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ ایرانی حملوں میں ایک پاکستانی بھی شہید ہوا۔




