اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — بھارت میں مذہبی آزادی کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے ایک بار پھر عالمی توجہ حاصل کی ہے جہاں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ نئی دہلی کے ساتھ اپنے تعلقات کو مذہبی آزادی کے معاملات سے الگ نہ رکھے۔ یہ محض ایک انسانی حقوق کی رپورٹ نہیں بلکہ ایک سیاسی اشارہ بھی ہے جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعووں اور اُن کے اندر بڑھتی ہوئی اکثریتی قوم پرستی کے درمیان موجود تضاد کو بےنقاب کرتا ہے۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) نے اپنی سفارشات میں بھارت کے اندر مذہبی اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے دباؤ، قانون سازی کے ذریعہ امتیازی سلوک اور ریاستی اداروں کے طرزِ عمل پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ کمیشن کا مؤقف ہے کہ اگر کسی مُلک میں مذہبی آزادی محض آئینی عبارت بن کر رہ جائے اور زمینی سطح پر اقلیتیں خوف، دباؤ اور عدم تحفظ کے سایہ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوں تو عالمی برادری خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی۔
بھارت کے بارے میں امریکی کمیشن کی تشویش کوئی اچانک پیدا ہونے والی کیفیت نہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے اِس کمیشن کی سالانہ رپورٹس، خصوصی بیانات اور پالیسی سفارشات ایک ہی سَمت کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ بھارت میں مذہبی قوم پرستی بڑھ رہی ہے، ریاستی بیانیہ زیادہ سخت اور اکثریتی شناخت کے گرد زیادہ منظم ہو رہا ہے جبکہ مسلمان، عیسائی اور دیگر اقلیتی برادریاں خود کو پہلے سے زیادہ غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں۔
کمیشن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بھارت میں مذہبی آزادی کا مسئلہ صرف چند پُرتشدد واقعات تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ ایک وسیع تر سیاسی و سماجی ماحول کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمیشن نے ایک بار پھر بھارت کو خاص تشویش کا حامل ملک قرار دینے کی سفارش کی ہے جو سفارتی و اخلاقی لحاظ سے سنگین درجہ تصور کیا جاتا ہے۔
اِس بحث کے مرکز میں راشٹریہ سویئم سیوک سَنگھ (آر ایس ایس) کا نام بار بار سامنے آتا ہے۔ ناقدین کے نزدیک آر ایس ایس صرف ایک سماجی یا ثقافتی تنظیم نہیں بلکہ ایک ایسا نظریاتی ڈھانچہ ہے جس نے ہندوتوا کو محض فکری بحث سے نکال کر عملی سیاست، ریاستی ترجیحات اور قومی شناخت کے معاملات تک پہنچا دیا ہے۔
ہندوتوا کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ نظریہ بھارت کو ایک ہمہ گیر جمہوری ریاست کی بجائے ایک مخصوص مذہبی تہذیبی فریم میں قید کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے میں وہ تمام گروہ جو اِس اکثریتی شناخت کے مرکزی دائرے سے باہر ہیں، خاص طور پر مسلمان اور عیسائی، آہستہ آہستہ برابر شہریت کے عملی احساس سے محروم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہی نکتہ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی اور دیگر بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کی تشویش کا بنیادی مرکز ہے۔
آر ایس ایس (راشٹریہ سویئم سیوک سَنگھ) اور اُس کے حامی البتہ یہ مؤقف مسترد کرتے ہیں۔ اُن کے نزدیک تنظیم قومی یکجہتی، ثقافتی اعتماد اور تمدنی شعور کو فروغ دیتی ہے۔ مگر عالمی ناقدین کا مؤقف ہے کہ اگر کسی نظریہ کے زیرِ اثر اقلیتوں کے خلاف فضا سخت ہو، قانون سازی امتیازی رنگ اختیار کر لے اور ہجوم کو پُرتشدد واقعات کا اخلاقی جواز محسوس ہونے لگے تو پھر محض نیت کا دعویٰ کافی نہیں رہتا۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق بھارت کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ محض نظریاتی نہیں بلکہ نہایت عملی اور زمینی بھی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف گائے کے نام پر حملے، ہجوم کے ہاتھوں قتل، عیسائی عبادت گاہوں اور مذہبی راہنماؤں پر حملے اور فرقہ وارانہ فسادات جیسے واقعات بار بار عالمی رپورٹس میں درج ہوتے رہے ہیں۔ اِن واقعات کا مجموعی تاثر یہ ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے اندر عدم تحفظ کا احساس زیادہ گہرا اور زیادہ مستقل ہو جاتا ہے۔
امریکی کمیشن (یو ایس سی آئی آر ایف) اور دیگر اداروں کے مطابق اصل مسئلہ صرف تشدد نہیں بلکہ تشدد کے گرد بننے والا ماحول ہے۔ جب ہجوم خود کو قانون سے بالاتر محسوس کرنے لگے، جب اقلیتوں کے خلاف کارروائیوں کو خاموش سماجی قبولیت ملنے لگے اور جب ریاستی ردِعمل غیر واضح، کمزور یا جانبدار دکھائی دے تو پھر ایک جمہوری معاشرہ محض آئینی الفاظ سے نہیں بچایا جا سکتا۔
بھارت کی مختلف ریاستوں میں مذہب کی تبدیلی کے خلاف قوانین کو سخت کرنے کا عمل بھی شدید تنقید کی زد میں ہے۔ بظاہر یہ قوانین مذہب کی جبری تبدیلی کو روکنے کے نام پر متعارف کرائے گئے مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ اِن کا استعمال اکثر مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف ہوتا ہے۔ اِس کے ساتھ نام نہاد ’’لَو جہاد‘‘ کے بیانیہ نے بین المذاہب شادیوں اور ذاتی آزادی کے سوال کو بھی ایک مشتبہ اور سیاسی مسئلہ بنا دیا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسے قوانین اور ایسے بیانیے مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جہاں محبت، شادی، مذہبی وابستگی اور شخصی آزادی جیسے بنیادی معاملات بھی پولیس، عدالت، ہجوم اور نظریاتی دباؤ کے تابع ہو جاتے ہیں۔ یہ صرف قانونی مسئلہ نہیں بلکہ معاشرتی گھٹن کی ایسی شکل ہے جو اقلیتوں کو مزید کمزور کر دیتی ہے۔
بھارت کا شہریت ترمیمی قانون 2019 دنیا بھر میں خاص توجہ کا مرکز بنا۔ اِس قانون نے پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے غیر مسلم تارکینِ وطن کیلئے شہریت کا راستہ آسان بنا دیا مگر مسلمانوں کو اِس سے باہر رکھا گیا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں ناقدین نے کہا کہ بھارت کی شہریت پالیسی میں پہلی بار مذہب کو اتنے واضح انداز میں ایک فیصلہ کن معیار بنایا جا رہا ہے۔
جب اِس قانون کے ساتھ قومی رجسٹر آف سٹیزنز جیسے منصوبوں پر بحث شامل ہوئی تو خدشات مزید بڑھ گئے۔ انسانی حقوق کے مبصرین کے مطابق اگر ریاست شہریت کے ثبوت کا بوجھ کمزور، غریب یا حاشیہ پہ کھڑی آبادیوں پر ڈال دے تو سب سے زیادہ خطرہ اُنھی برادریوں کو ہوتا ہے جو پہلے ہی سیاسی و سماجی عدم تحفظ کا شکار ہوں۔ بھارت میں یہ خدشہ خاص طور پر مسلمانوں کے حوالہ سے ظاہر کیا گیا ہے۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی سفارشات میں نہ صرف بھارت کو خاص تشویش کا حامل مُلک قرار دینے کی بات کی بلکہ بعض بھارتی حکام کے خلاف پابندیوں، اثاثے منجمد کرنے اور امریکا میں داخلے پر پابندی جیسے اقدامات پر بھی زور دیا۔ کمیشن یہ بھی چاہتا ہے کہ امریکا بھارت کے ساتھ اسلحہ فروخت، سیکیورٹی تعاون اور تجارت کو مذہبی آزادی کی صورتحال سے جوڑ دے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ واشنگٹن نے اب تک بھارت کے خلاف ایسا کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا۔ اِس کی وجہ واضح ہے کہ امریکا بھارت کو صرف ایک جمہوری شراکت دار کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ ایشیاء میں چین کے مقابلہ، خطہ کے تزویراتی توازن، ٹیکنالوجی، تجارت اور دفاعی تعاون کے بڑے تناظر میں بھی اہم سمجھتا ہے۔ یہی اِس پوری بحث کی سب سے بڑی سیاسی گتھی ہے کہ جب اصول اور مفاد آمنے سامنے آ جائیں تو بڑی طاقتیں آخر کس طرف کھڑی ہوتی ہیں؟
کئی سیاسی اور میڈیا حلقوں میں یہ تاثر بھی گردش کرتا رہا ہے کہ امریکی کمیشن نے بھارت کی خفیہ ایجنسی راء پر باضابطہ پابندی لگانے کی سفارش بھی کی ہے۔ تاہم اِس پورے معاملہ میں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ کمیشن کی بنیادی توجہ مذہبی آزادی کے خلاف ماحول پیدا کرنے والے نظریاتی نیٹ ورکس، قانون سازی، ریاستی رویوں اور متعلقہ حکام پر رہی ہے نہ کہ خفیہ اداروں پر اِسی نوعیت کی براہِ راست پابندی کی کسی واضح اور رسمی سفارش پر۔
یہ فرق اِس لیے اہم ہے کیونکہ سنجیدہ پالیسی بحث اور سیاسی دعوے میں فاصلہ برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر ہر تنقید کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے تو اصل مسئلہ دھندلا جاتا ہے اور اصل مسئلہ یہی ہے کہ بھارت کے اندر مذہبی تکثیریت، مساوی شہریت اور جمہوری انصاف کے سوال پہلے سے کہیں زیادہ دباؤ میں دکھائی دے رہے ہیں۔
بھارت کا معاملہ صرف بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں رہا۔ یہ اب اُس بڑے سوال کا حصہ بنتا جا رہا ہے کہ دنیا مذہبی آزادی، اقلیتی حقوق اور جمہوری اقدار کو کب اصول کے طور پر دیکھتی ہے اور کب اُنہیں مفادات کے مطابق نرم یا سخت کرتی ہے۔ اگر ایک مُلک کے ساتھ اِس لیے نرمی برتی جائے کہ وہ تزویراتی طور پر اہم ہے، تو پھر انسانی حقوق کی عالمی زبان اپنی اخلاقی قوت کھونے لگتی ہے۔
امریکی کمیشن (یو ایس سی آئی آر ایف) کی رپورٹس کا اصل وزن بھی شاید یہی ہے۔ وہ صرف ایک مُلک کی خامیوں کی فہرست نہیں بناتیں بلکہ عالمی نظام کے اُس دوہرے معیار کو بھی بےنقاب کرتی ہیں جس میں بعض ریاستوں کو اُن کے اعمال سے زیادہ اُن کی جغرافیائی اہمیت بچا لیتی ہے۔
بھارت اب بھی خود کو ایک جمہوری، تکثیری اور آئینی ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے جبکہ بھارتی جمہوری روایت واقعی طویل اور اہم رہی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ دعویٰ زمینی حقیقتوں کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہے؟ جب اقلیتیں خود کو زیادہ غیر محفوظ محسوس کریں، جب قانون سازی اُن کے خلاف دکھائی دے، جب تشدد کے واقعات معمول بننے لگیں اور جب عالمی ادارے مسلسل ایک ہی خطرے کی نشاندہی کریں تو پھر یہ معاملہ محض بیرونی تنقید نہیں رہتا۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی تازہ تشویش نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ بھارت میں مذہبی آزادی کا بحران عالمی توجہ سے اوجھل نہیں رہا۔ ہندوتوا کے بڑھتے اثرات، اقلیتوں کے خلاف تشدد، امتیازی قانون سازی اور ریاستی ترجیحات کے بدلتے زاویے نے اِس بحث کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اگر واشنگٹن واقعی مذہبی آزادی کو عالمی اصول سمجھتا ہے تو اسے بھارت کے معاملہ میں بھی اتنی ہی اخلاقی وضاحت دکھانا ہو گی جتنی وہ دوسرے ممالک کے بارے میں مطالبہ کرتا ہے۔ ورنہ پھر یہ سوال مزید زور پکڑے گا کہ کیا انسانی حقوق واقعی عالمی اصول ہیں یا صرف منتخب جغرافیوں کیلئے محفوظ نعرے ہیں۔




