ریاض (تھرسڈے ٹائمز) — سعودی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر اعتبار مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، خطہ کے ممالک اپنے مفادات اور سالمیت کا تحفظ کرنا جانتے ہیں، تہران اگر سمجھتا ہے کہ خلیجی ریاستیں جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتیں تو وہ غلطی پر ہے، سعودی عرب تصادم سے نہیں ڈرتا اور ضرورت پڑنے پر فوجی جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔
ایران کی جانب سے واضع اشارہ ہے کہ ایران سفارت کاری کو ہمسایہ ممالک کے ساتھ مکالمے کے بجائے دباؤ کے ذریعے دیکھتا ہے۔ سعودی عرب کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا، اور اس نوعیت کے اقدامات سیاسی، اخلاقی اور اگر ضرورت پڑی تو عسکری سطح پر بھی الٹا اثر ڈالیں گے۔ جاری سفارتی اجلاس کے دوران… pic.twitter.com/Hl0fTpzrun
— The Thursday Times (@thursday_times) March 19, 2026
سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ریاض میں عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے اقدامات سے یہ بات واضح ہے کہ وہ پڑوسی ممالک کے ساتھ حقیقی بات چیت پر یقین نہیں رکھتا بلکہ وہ دباؤ اور سیاسی و سیکیورٹی جبر کا سہارا لے رہا ہے۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ پڑوسی ممالک اور سمندری جہاز رانی پر ایرانی حملے خطرناک اشتعال انگیزی اور بین قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، اجلاس کے شرکاء نے ایرانی حملوں کو روکنے اور ایران کے عدم استحکام پیدا کرنے والے رویہ کی شدید مذمت کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔
سعودی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران نہیں رکے گا جب تک کہ اُسے مضبوط مقابلے کا سامنا نہ ہو، سعودی عرب تصادم سے نہیں ڈرتا اور ضرورت پڑنے پر اپنی خودمختاری و علاقائی استحکام کے تحفظ کیلئے فوجی جواب دینے کا پورا حق رکھتا ہے۔
اُنہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ایران نے خلیجی و عرب ممالک پر حملوں کی منصوبہ بندی پہلے سے کر رکھی تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ الگ تھلگ واقعات نہیں بلکہ کشیدگی بڑھانے کی ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں، ایسا رویہ صرف اچھے پڑوسی کے اصولوں کی خلاف ورزی نہیں بلکہ بین الاقوامی معاہدوں اور حتیٰ کہ اسلامی تعلیمات کے بھی منافی ہے۔
اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایران کی جانب سے پیش کیے جانے والے جواز کو ’’غیر تسلی بخش اور جبر کی وسیع تر پالیسی پر پردہ ڈالنے کی کوشش‘‘ قرار دیتے ہوئے اُسے مکمل طور پر مسترد کر دیا۔
سعودی وزیرِ خارجہ نے ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کو خطہ میں امریکی موجودگی سے جوڑنے والے ایرانی دلائل کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے دعوے قابلِ اعتبار نہیں ہیں کیونکہ اہداف میں ایسے ممالک اور سہولیات شامل ہیں جن کا اِس جواز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اُنہوں نے خبردار کیا کہ سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے (انرجی انفراسٹرکچر) پر مسلسل ایرانی حملوں کے اثرات مملکت سے باہر ہوں گے جس سے عالمی منڈیوں اور اقتصادی استحکام متاثر ہو گا۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے واضح انداز میں کہا کہ تہران کی جانب سے مسلسل غلط اندازوں کے سیاسی اور وسیع تر نتائج مرتب ہوں گے، ایران اگر سمجھتا ہے کہ خلیجی ریاستیں جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتی تو وہ غلطی پر ہے، خطہ کے ممالک اپنے مفادات کا تحفظ اور سیکیورٹی کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔
اُنہوں نے اسلامی مقاصد کی حمایت کے ایرانی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہران نے سعودی عرب، بحرین، کویت، قطر، عمان، متحدہ عرب امارات، اردن، آذربائیجان، ترکیہ اور لبنان سمیت متعدد مسلم ممالک کو نشانہ بنایا ہے۔




