تجزیہ: علاقائی کشیدگی میں پاکستان کا راستہ توازن، سفارت کاری اور داخلی یکجہتی

موجودہ علاقائی کشیدگی میں پاکستان نے اشتعال انگیزی کے بجائے توازن، سفارت کاری اور داخلی استحکام کو ترجیح دی ہے۔ اصل خطرہ صرف بیرونی محاذ نہیں بلکہ فرقہ واریت، افواہوں اور داخلی تقسیم کو ہوا دینے والی کوششیں بھی ہیں، جبکہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی داخلی یکجہتی ہے۔

spot_imgspot_img

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران پاکستان کے حوالے سے جو تصویر ابھر کر سامنے آ رہی ہے، اس کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ پاکستان نے اب تک جذباتی ردِعمل کے بجائے ایک محتاط، متوازن اور سوچ سمجھ کر ترتیب دی گئی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔ یہ رویہ محض وقتی سفارتی احتیاط نہیں بلکہ ایک وسیع تر ریاستی فہم کی عکاسی کرتا ہے، جس میں یہ ادراک شامل ہے کہ ہر علاقائی بحران میں براہِ راست فریق بن جانا قومی مفاد کے لیے ضروری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات اصل قوت اس میں ہوتی ہے کہ ریاست اپنے اصولی مؤقف، داخلی استحکام اور سفارتی توازن کو ایک ساتھ برقرار رکھے۔ پاکستان نے بظاہر یہی راستہ اختیار کیا ہے، اور اسی وجہ سے اب توجہ صرف بیرونی محاذ پر نہیں بلکہ ان داخلی دباؤ کی نوعیت پر بھی مرکوز ہو رہی ہے جو ایسے حالات میں پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

 یہ معاملہ صرف ایک بیرونی جنگ یا علاقائی تصادم کا اثر نہیں بلکہ ایک وسیع تر معلوماتی، نفسیاتی اور سیاسی محاذ بھی ہے۔ جب کوئی ریاست کسی بحران میں براہِ راست کودنے سے گریز کرتی ہے، تو اس پر اثرانداز ہونے کے لیے اکثر متبادل راستے اختیار کیے جاتے ہیں۔ ایسے میں سفارتی دباؤ کے ساتھ ساتھ داخلی سطح پر جذباتی فضا پیدا کرنے، سماجی تقسیم کو ہوا دینے اور قومی بیانیے کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ اسی تناظر میں یہ مؤقف ابھر رہا ہے کہ پاکستان کو بیرونی دباؤ سے زیادہ اندرونی سطح پر فرقہ واریت اور اشتعال انگیز بیانیوں کے ذریعے دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ ملک اپنی موجودہ محتاط پوزیشن برقرار نہ رکھ سکے۔

یہی وجہ ہے کہ اس پوری صورتحال کو محض ایک بیرونی بحران کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا بلکہ اسے ایک وسیع تر غیر ملکی سازش کے فریم میں بھی رکھا جا رہا ہے۔ اس زاویے سے دیکھنے والے حلقوں کے مطابق ہدف صرف یہ نہیں کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لائے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ملک کے اندر انتشار، بے اعتمادی اور سماجی تناؤ کو اس حد تک بڑھایا جائے کہ قومی یکجہتی کمزور پڑ جائے۔ اگر کوئی ریاست جنگ کے میدان میں داخل نہ ہو، تو بعض اوقات اسے اندر سے غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ وہ بالآخر اسی سمت دھکیل دی جائے جس سے وہ ابتدا میں گریز کر رہی تھی۔ پاکستان کے معاملے میں بھی یہی خدشہ نمایاں کیا جا رہا ہے کہ بیرونی کشیدگی کو داخلی تقسیم میں تبدیل کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔

اس تجزیے کا ایک اور اہم پہلو بعض عناصر کے کردار سے متعلق ہے۔ ذرائع کے مطابق کچھ لوگ ایسے بھی متحرک ہوئے جو یا تو متعلقہ مشاورتی یا نمائندہ عمل کا حصہ نہیں تھے، یا ماضی میں بھی ایسے حساس مواقع پر اشتعال انگیز یا تقسیم پیدا کرنے والے بیانیوں سے منسلک رہے ہیں، یا پھر ان کے بارے میں یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ کسی نہ کسی صورت بیرونی ایجنڈے کے زیرِ اثر کام کر رہے ہیں۔ اس طرح کے کردار بحران کے اوقات میں زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں، کیونکہ وہ قومی مفاد کے بجائے محدود سیاسی، نظریاتی یا گروہی ترجیحات کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ چنانچہ اصل خطرہ صرف سرحد کے اُس پار نہیں بلکہ اُس داخلی بیانیے میں بھی پوشیدہ ہو سکتا ہے جو قومی سطح پر اشتعال، مسلکی حساسیت اور سیاسی تقسیم کو بڑھا دے۔

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ فرقہ واریت کسی بھی ریاست کے لیے محض ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک کمزوری بن سکتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں داخلی ہم آہنگی براہِ راست قومی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے، مسلکی تقسیم کو ہوا دینا ایک ایسی حکمتِ عملی بن سکتی ہے جس کے ذریعے قومی فیصلوں پر غیر محسوس انداز میں اثرانداز ہونے کی کوشش کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت اصل امتحان صرف خارجہ پالیسی کا نہیں بلکہ داخلی نظم، سماجی فہم اور ریاستی رابطے کی صلاحیت کا بھی ہے۔ اگر کوئی بیرونی کشیدگی ملک کے اندر غلط فہمیوں، افواہوں اور باہمی بدگمانیوں کو جنم دے دے، تو اس کے اثرات سفارتی محاذ سے کہیں زیادہ گہرے ہو سکتے ہیں۔

اسی پس منظر میں وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی تفصیلی گفتگو کو بھی خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے تقریباً ایک گھنٹے تک اس معاملے پر تفصیل سے بات کی، اور چونکہ یہ افطار ڈنر تھا، اس کے بعد انہوں نے غیر رسمی انداز میں شیعہ شرکاء سے ملاقات کر کے ان کے سوالات کے جواب بھی دیے۔ اس پیش رفت کو محض ایک رسمی ملاقات کے طور پر نہیں بلکہ اعتماد سازی، براہِ راست مکالمے اور ممکنہ غلط فہمیوں کے ازالے کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب بیرونی تنازعات داخلی حساسیتوں کو متاثر کر سکتے ہوں، ریاستی نمائندوں کی جانب سے مختلف طبقات کے ساتھ براہِ راست رابطہ خود ایک اہم سیاسی اور سماجی اشارہ بن جاتا ہے۔

یہ رابطہ اس لیے بھی اہم ہے کہ بحران کے زمانے میں افواہیں اکثر حقیقت سے زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں، اور اگر ریاست بروقت وضاحت، مکالمہ اور اعتماد سازی کا راستہ اختیار نہ کرے تو خلا کو غیر ذمہ دار آوازیں بھرنا شروع کر دیتی ہیں۔ اس تناظر میں مختلف مکاتبِ فکر، طبقات اور نمائندہ حلقوں کے ساتھ کھلا رابطہ صرف ایک سیاسی ضرورت نہیں بلکہ قومی استحکام کا حصہ بن جاتا ہے۔ وزیرِ خارجہ کی گفتگو اور اس کے بعد غیر رسمی سطح پر سوالات کے جواب دینے کے عمل کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ حکومت صرف اوپر سے بیانیہ جاری کرنے پر اکتفا نہیں کر رہی بلکہ حساس طبقات کے ساتھ براہِ راست رابطے کے ذریعے تناؤ کو کم کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔

پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی کا بنیادی محور بھی اسی سے واضح ہوتا ہے، نہ غیر ضروری محاذ آرائی، نہ خاموش تماشائی بننا، بلکہ اصولی مؤقف کے ساتھ سفارتی توازن برقرار رکھنا۔ پاکستان  نے ایک طرف یہ پیغام دیا ہے کہ علاقائی کشیدگی میں کمی ہونی چاہیے، جبکہ دوسری طرف داخلی سطح پر اتحاد اور ذمہ دارانہ رویے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہی توازن ایک ذمہ دار ریاست کی نشانی ہوتا ہے۔ ایسی ریاست نہ تو محض جذبات کے زیرِ اثر اپنی سمت بدلتی ہے، نہ ہی حالات سے لاتعلق ہو کر خود کو غیر متعلق ثابت کرتی ہے، بلکہ وہ اپنے مفاد، اپنے ماحول اور اپنے داخلی استحکام کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتی ہے۔

حالیہ حالات نے ایک بار پھر یہ حقیقت اجاگر کر دی ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی عسکری یا سفارتی صلاحیت سے پہلے اس کی داخلی یکجہتی ہے۔ اگر بیرونی قوتیں فرقہ واریت، افواہوں، غیر نمائندہ آوازوں یا اشتعال انگیز زبان کے ذریعے پاکستان کو دباؤ میں لانا چاہتی ہیں، تو اس کا سب سے مؤثر جواب قومی ہم آہنگی، سیاسی ہوش مندی اور سماجی ذمہ داری ہی ہو سکتی ہے۔ قومی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ داخلی اختلافات کو بیرونی تنازعات کا ایندھن نہ بننے دیا جائے، اور کسی بھی حساس مسئلے کو اس انداز میں نہ اچھالا جائے کہ ریاستی توازن متاثر ہو۔

اس پورے منظرنامے میں ایک اور اہم سبق بھی پوشیدہ ہے کہ ہر بحران صرف سرحدوں پر نہیں لڑا جاتا۔ کچھ جنگیں بیانیے کی ہوتی ہیں، کچھ ذہنوں پر اثرانداز ہونے کی اور کچھ ریاست کے اندر اعتماد کو کمزور کرنے کی۔ پاکستان کے لیے موجودہ مرحلے میں اصل کامیابی یہی ہے کہ وہ ان تمام محاذوں کو ایک ساتھ سمجھتے ہوئے ردِعمل دے۔ اگر اسلام آباد اپنی موجودہ محتاط پالیسی، داخلی مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھتا ہے تو یہ نہ صرف اس کی سفارتی پختگی کا ثبوت ہوگا بلکہ اس بات کا بھی اشارہ ہوگا کہ پاکستان بیرونی اشتعال انگیزی کو داخلی بحران میں بدلنے کی کوششوں کو سمجھ رہا ہے اور ان کا مقابلہ بھی کر رہا ہے۔

موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے لیے اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ وہ بیرونی تنازع میں کہاں کھڑا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے اندر کتنی سیاسی بصیرت، سماجی برداشت اور قومی یکجہتی برقرار رکھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تمام بحث میں ایک بات بار بار سامنے آ رہی ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی داخلی ہم آہنگی ہے۔ اگر یہ ہم آہنگی برقرار رہتی ہے تو بیرونی دباؤ، نفسیاتی جنگ اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی جیسے ہتھکنڈے اپنی تاثیر کھو دیں گے۔ اور اگر یہی توازن قائم رہا، تو پاکستان نہ صرف موجودہ بحران سے ذمہ داری کے ساتھ گزرے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مدبر، محتاط اور سنجیدہ ریاست کے طور پر اپنی جگہ مزید مضبوط کرے گا۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

spot_img

خبریں

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

More from The Thursday Times

error: