واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — تین ہفتوں سے جاری جنگ کے بعد واشنگٹن میں اب یہ سوچ سنجیدگی سے ابھر رہی ہے کہ اگر لڑائی کسی مرحلے پر سست پڑتی ہے تو ایران کے ساتھ ممکنہ بات چیت کس شکل میں ہو سکتی ہے۔ امریکی خبررساں ادارے اکسیوس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے جنگ کے اگلے مرحلے پر ابتدائی غور شروع کر دیا ہے اور اسی کے ساتھ یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ اگر سفارت کاری کا دروازہ کھلے تو اس کی بنیادیں کن شرائط پر رکھی جائیں۔
اکسیوس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو یہ اشارہ دیا کہ وہ جنگ کو بتدریج سمیٹنے پر غور کر رہے ہیں، تاہم امریکی حکام کی توقع یہ بھی ہے کہ لڑائی ابھی مزید دو سے تین ہفتے جاری رہ سکتی ہے۔ یہی اس ساری حکمت عملی کا سب سے اہم تضاد ہے: ایک طرف فوجی دباؤ برقرار رکھا جا رہا ہے، دوسری طرف ممکنہ سفارتی عمل کے لیے خاموشی سے زمین بھی ہموار کی جا رہی ہے۔
پس منظر میں ہونے والی مشاورت بھی کم اہم نہیں۔ اکسیوس کے مطابق جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف ممکنہ سفارتی راستے پر گفتگو میں شامل ہیں۔ اطلاعات یہ ہیں کہ اگر جنگ کے خاتمے کی طرف کوئی مفاہمت بنتی ہے تو اس میں آبنائے ہرمز کی بحالی، ایران کے بلند درجے تک افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا سوال، اور ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل صلاحیت اور خطے میں اس سے منسلک مسلح گروہوں کے لیے حمایت جیسے معاملات لازماً شامل ہوں گے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن صرف وقتی خاموشی نہیں بلکہ ایک وسیع تر بندوبست چاہتا ہے جس میں جنگ کے بعد کا توازن بھی شامل ہو۔
لیکن کہانی صرف امریکی مطالبات تک محدود نہیں۔ اکسیوس کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست رابطہ نہیں ہوا، البتہ مصر، قطر اور برطانیہ نے دونوں کے درمیان پیغامات پہنچانے کا کردار ادا کیا ہے۔ انہی ذرائع کے مطابق مصر اور قطر نے امریکہ اور اسرائیل کو یہ بتایا ہے کہ ایران بات چیت میں دلچسپی رکھتا ہے، مگر سخت شرائط کے ساتھ۔
ایرانی مؤقف کا مرکزی نکتہ جنگ بندی، آئندہ حملے دوبارہ نہ ہونے کی ضمانت، اور کسی نہ کسی صورت میں نقصان کے ازالے کا مطالبہ ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بھارتی ہم منصب سے گفتگو میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں معمول کی صورتِ حال کی بحالی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملے بند نہ کریں اور مستقبل میں انہیں دوبارہ شروع نہ کرنے کا عہد نہ کریں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران صرف مذاکرات کی میز تک پہنچنے کا خواہاں نہیں بلکہ وہ ایسا فریم چاہتا ہے جو اس کے داخلی سیاسی نظام میں بھی قابلِ قبول ہو۔
واشنگٹن کے اندر سے آنے والے اشارے بھی سخت ہیں۔ اکسیوس کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ امریکہ کی نظر میں جنگ نے ایران کی پیش رفت کو سست کیا ہے اور اب امکان ہے کہ تہران مذاکرات کی طرف آئے۔ اسی سوچ کے تحت امریکہ کی چند بنیادی خواہشات سامنے آ رہی ہیں: پانچ برس تک میزائل پروگرام نہ ہو، یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر ختم کی جائے، نطنز، اصفہان اور فردو کی ان تنصیبات کو غیر فعال کیا جائے جنہیں امریکہ اور اسرائیل نے گزشتہ برس نشانہ بنایا تھا، سنٹری فیوجز اور متعلقہ مشینری پر سخت بیرونی نگرانی ہو، خطے کے ممالک کے ساتھ ایسا اسلحہ ضبط کا بندوبست ہو جس میں میزائل کی حد ایک ہزار سے اوپر نہ جائے، اور لبنان، یمن اور غزہ میں ایران نواز مسلح گروہوں کے لیے مالی معاونت بند کی جائے۔
لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں سفارت کاری کی دیوار سب سے زیادہ بلند دکھائی دیتی ہے۔ اکسیوس نے نشاندہی کی ہے کہ ایران ماضی میں ان میں سے کئی مطالبات کو بارہا مسترد کر چکا ہے۔ تہران میں یہ احساس بھی موجود ہے کہ ایسے امریکی صدر کے ساتھ بات چیت مشکل ہے جو ایک طرف مذاکرات کرے اور دوسری طرف اچانک بمباری کی راہ اختیار کر لے۔ یہی عدمِ اعتماد اس سارے ممکنہ عمل کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
معاوضے کے سوال پر بھی واشنگٹن کے اندر دو الگ لہجے سنائی دیتے ہیں۔ اکسیوس کے مطابق ٹرمپ اس وقت جنگ بندی کے مطالبے کے لیے زیادہ آمادہ نہیں، اور نقصان کے ازالے کے مطالبے کو امریکی حلقوں میں ناقابلِ قبول سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم ایک دوسرے امریکی اہلکار نے یہ اشارہ دیا کہ اگر لفظوں کا انتخاب بدلا جائے تو ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی کو کسی ممکنہ مفاہمت کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ یعنی جو چیز ایک طرف “معاوضہ” کہلاتی ہے، دوسری طرف اسے “منجمد رقم کی واپسی” کا نام دے کر سیاسی طور پر قابلِ قبول بنانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
اس پوری مشق میں ٹرمپ ٹیم کے سامنے دو بنیادی سوالات ہیں۔ پہلا یہ کہ ایران میں اصل فیصلہ ساز کون ہے۔ دوسرا یہ کہ ثالثی کے لیے موزوں ترین ملک کون سا ہو سکتا ہے۔ اکسیوس کے مطابق عباس عراقچی ماضی کی بات چیت میں مرکزی رابطہ کار رہے ہیں، لیکن بعض امریکی اہلکار انہیں ایسا فیصلہ ساز نہیں سمجھتے جو حتمی معاہدہ طے کرا سکے۔ اسی لیے واشنگٹن اب یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ تہران میں اصل منظوری کہاں سے آتی ہے اور کس سطح پر رابطہ زیادہ نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔
ثالثی کے معاملے میں بھی نئی صف بندی بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ اگرچہ پچھلے دور کی جوہری بات چیت میں عمان نے کردار ادا کیا تھا، مگر اکسیوس کے مطابق اس بار امریکہ کسی دوسرے ذریعے، ترجیحاً قطر، کی طرف دیکھ رہا ہے۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ غزہ کے معاملے میں قطریوں نے خود کو ایک مؤثر اور نسبتاً قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر منوایا ہے۔ تاہم اطلاعات یہ بھی ہیں کہ قطر پسِ پردہ کردار ادا کرنے پر تو آمادہ ہے، مگر وہ باضابطہ طور پر مرکزی ثالث بننے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا۔
یہ ساری صورتِ حال اس ایک حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ جنگ ابھی رکی نہیں، مگر واشنگٹن سمجھ چکا ہے کہ صرف فوجی دباؤ کافی نہیں ہوگا۔ اگر آبنائے ہرمز کا معاملہ حل نہیں ہوتا، اگر ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کے گرد کوئی قابلِ عمل بندوبست نہیں بنتا، اور اگر خطے میں اس کے اتحادی نیٹ ورک کا سوال جوں کا توں رہتا ہے، تو جنگ کے بعد بھی بحران ختم نہیں ہوگا۔ اسی لیے ٹرمپ کے مشیر بیک وقت دو محاذوں پر سوچ رہے ہیں: ایک وہ جہاں لڑائی جاری ہے، اور دوسرا وہ جہاں ممکنہ مذاکرات کی ساخت تیار کی جا رہی ہے۔







