لاہو (تھرسڈے ٹائمز) — ماہر قانون دان میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ عمران خان کے خلاف 9 مئی کا مقدمہ ایک حقیقت ہے جبکہ عمران خان کو 2030 سے قبل ریلیف نہیں مل سکتا، اگر جنرل (ر) فیض حمید کو سزائے موت ہوئی تو عمران خان کو بھی سزائے موت ہو گی۔ جوڈیشل سسٹم میں مظاہر نقوی، اعجاز الاحسن اور طارق جہانگیری کی طرح اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے عناصر کیلئے اب راستہ مشکل ہو گیا ہے۔ جسٹس ثاقب نثار، جسٹس اعجاز افضل خان اور جسٹس گلزار احمد نے جوڈیشل سسٹم کا ڈھانچہ تباہ کیا۔ آئین میں 26ویں اور 27ویں ترامیم سیاسی مفادات کیلئے ہیں جن کے ذریعہ ججز کو کنٹرول کیا گیا۔ پنجاب میں سی سی ڈی ڈیڑھ ہزار افراد مار چکی ہے۔
میاں داؤد ایڈووکیٹ کا ’’تھرسڈے ٹائمز‘‘ کے ساتھ خصوصی انٹرویو
ماہر قانون دان میاں داؤد ایڈووکیٹ نے ’’تھرسڈے ٹائمز‘‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ایک فسادی مُلک ہے جو اپنی پراکیسز کے ذریعہ خطہ کے دیگر ممالک میں فساد پھیلاتا اور دہشتگردی کرواتا ہے، بلوچستان کے اندر دہشتگردی کے واقعات بذریعہ ایران ہوتے رہے ہیں، کلبھوشن یادیو کی مثال بھی موجود ہے، پاکستان جب میدانِ جنگ میں بھارت کا مقابلہ کر رہا تھا تو ایران بھارت کے ساتھ کھڑا دکھائی دیا، ایران کی جانب سے 2024 میں پاکستان پر بھی حملہ کیا گیا لیکن پھر جب افواجِ پاکستان نے جواب دیا تو ایران دُم دبا کر بھاگ گیا، ایران آج بھی امریکا اور اسرائیل کا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔
پاکستان کے جوڈیشل سسٹم میں کرپٹ عناصر
تھرسڈے ٹائمز کے ساتھ خصوصی انٹرویو کے آغاز پر میاں داؤد ایڈووکیٹ نے پاکستان کے جوڈیشل سسٹم سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملکی عدالتی نظام میں مظاہر نقوی، طارق جہانگیری اور اعجاز الاحسن جیسے انداز میں اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے اور خفیہ ذرائع سے آمدن بنانے والے عناصر کیلئے اب راستہ مشکل ہو گیا ہے کیونکہ عدلیہ میں یہ تاثر موجود ہے کہ کوئی جج کرپشن کرتا پکڑا جائے گا تو وہ استعفیٰ دے کر گھر نہیں جائے گا بلکہ اسے مظاہر نقوی کی طرح برطرف کر کے ٹائٹل اور مراعات بھی واپس لے لی جائیں گی۔
جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس طارق جہانگیری
میاں داؤد ایڈووکیٹ نے بتایا کہ میں باضابطہ طور پر اب تک دو ججز کو اُن کے عہدوں سے فارغ کروا چکا ہوں جن میں سے ایک عدالتِ عظمیٰ سے مظاہر نقوی تھے جنہیں سپریم جوڈیشل کونسل نے کرپشن و بددیانتی اور ناجائز اثاثوں کے باعث عہدہ سے برطرف کیا جبکہ کونسل کی کارروائی کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن سے متعلق کچھ ایسے انکشافات ہوئے جو اِن کیمرہ تھے اور جسٹس اعجاز الاحسن کو معلوم ہو چکا تھا کہ میاں داؤد میرے خلاف تیاری کر چکا ہے لہذا وہ خود دستبردار ہو گئے، دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں طارق جہانگیری کی ڈگری جعلی تھی مگر نظام کی خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ سرکاری عہدوں پر تعینات ہوتے رہے اور پھر ہائیکورٹ کا جج بن کر فائدے اٹھاتے رہے۔
جسٹس ثاقب نثار، جسٹس اعجاز افضل اور جسٹس گلزار نے جوڈیشل سسٹم کا ڈھانچہ تباہ کیا
اُنہوں نے کہا کہ مجھے اِن ججز کے خلاف مقدمات میں کوئی پریشر محسوس نہیں ہوا بلکہ یہ کام بہت آسان تھا کیونکہ تمام ثبوت واضح تھے جنہیں کوئی بھی جج، اتھارٹی یا انکوائری کمیشن جھٹلا نہیں سکتا تھا۔ میری نظر میں مالی کرپشن سے بڑا جرم شعوری بددیانتی ہے جس کی مثالیں جسٹس ثاقب نثار، جسٹس اعجاز افضل خان اور جسٹس گلزار احمد ہیں۔ اِن ججز نے جوڈیشل سسٹم کا سارا ڈھانچہ تباہ کر دیا جس کا نقصان عام سائل آج تک اُٹھا رہا ہے۔ جسٹس گلزار نے کراچی میں ناجائز تعمیرات کی آڑ میں لوگوں کے گھر مسمار کروائے جس کے بعد لوگ آج بھی دھکے کھا رہے ہیں۔ ججز حکومت کا کام نہیں کر سکتے، ججز حکومت کو سزا دے سکتے ہیں مگر حکومت کا کام خود نہیں کر سکتے اور اِسی طرح حکومت بھی جج کا کام نہیں کر سکتی۔
آئین میں 26ویں اور 27ویں ترامیم کے ذریعہ ججز کو کنٹرول کیا گیا
آئینِ پاکستان میں 26ویں اور 27ویں ترامیم سے متعلق میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہا کہ میں پہلے اِن ترامیم کے حق میں تھا کیونکہ یہ کسی حد تک درست تھیں تاہم اب میں بطور وکیل عملی طور پر محسوس کر رہا ہوں کہ اِن ترامیم کے ذریعہ ججز کو کنٹرول کر لیا گیا ہے، اب جج صاحبان جج کی بجائے محض یکم تاریخ کو تنخواہ لینے والے سرکاری ملازم لگتے ہیں، مجھے لاہور ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ یا آئینی عدالت میں ایسا کوئی جج نظر نہیں آ رہا جو حکومت یا انتظامیہ کے خلاف کوئی فیصلہ کرنے کی سکت رکھتا ہو۔
پنجاب میں سی سی ڈی کم و بیش 1500 افراد قتل کر چکی
ماہر قانون دان میاں داؤد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ پنجاب کے اندر سی سی ڈی کم و بیش ڈیڑھ ہزار افراد کو سرِعام قتل کر چکی ہے جبکہ اِس حوالہ سے ایچ آر سی پی (ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان) کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے سامنے 60 سے زائد مقدمات پیش ہوئے۔ جج صاحبان کی آئینی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کریں اور ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ 2022 پر عملدرآمد کروائیں لیکن 26ویں آئینی ترمیم کے بعد کسی جج میں یہ ہمت نہیں کہ وہ قانون کے مطابق سی سی ڈی کے خلاف کوئی فیصلہ سنا سکے حالانکہ آئینی ترمیم سے پہلے اِنھی ججز کے ایسے فیصلے موجود تھے۔
حکومت کے حامی وکلاء اور ججز کی ملی بھگت
میاں داؤد نے کہا کہ چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم کا دوسرا بڑا نقصان یہ ہوا کہ اب حکومت کے حامی وکلاء کی جج صاحبان کے ساتھ ملی بھگت ہو چکی ہے کیونکہ ججز جانتے ہیں کہ اگر حکومت کے حامی وکلاء کو ناراض کیا تو وہ ہمارا ٹرانسفر کروا دیں گے، اب صورتحال یہ ہے کہ حکومت کے حامی وکلاء جج صاحبان کے نام پر کروڑوں روپے وصول کر رہے ہیں اور پھر جج صاحبان سے ناجائز کام کروا رہے ہیں جبکہ جج صاحبان بھی ایسے کام کر رہے ہیں، طریقہ کار ایسا ہے کہ ناجائز کاموں کو قانونی لبادہ پہنا کر سر انجام دیا جاتا ہے، یہ سب کچھ منصوبہ بندی کے مطابق اور طے شدہ معاملات کے تحت ہو رہا ہے۔
چھبیسویں اور ستائیسویں ترامیم سیاسی مفادات کیلئے کی گئیں
اُنہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ آئین میں 26ویں اور 27ویں ترامیم کے عملی نتائج سے یہ بات واضح ہے کہ یہ ترامیم سیاسی مفادات کیلئے کی گئیں جبکہ اِن سے پاکستان کے جوڈیشل سسٹم کو نقصان پہنچا ہے، ججز کی تعیناتی کا طریقہ کار پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے سے اب تک متنازع ہے، کل بھی نالائق اور منظورِ نظر ججز پرچیوں پر بھرتی ہوتے تھے اور آج بھی ایسا ہی ہو رہا ہے، پاکستان کے اندر اب عملی طور پر کوئی عدلیہ نہیں ہے جبکہ دنیا میں وہی مُلک یا معاشرہ قائم رہ سکتا ہے جس میں انصاف ہو۔
کیا آئین میں 28ویں آئینی ترمیم ہونے والی ہے؟
تھرسڈے ٹائمز کے ساتھ خصوصی انٹرویو کے دوران میاں داؤد ایڈووکیٹ نے متوقع 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اب تک 28ویں آئینی ترمیم کی کوئی تجویز یا بحث سامنے نہیں آئی اور جب تک ترمیم سامنے نہیں آتی تب تک قیاس آرائی نہیں کی جا سکتی تاہم اگر 28ویں ترمیم بھی 26ویں اور 27ویں ترامیم جیسی ہی آنی ہے، جس میں عوام کا کوئی مفاد نہیں ہے، تو پھر ایسی ترمیم کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
کیا میاں داؤد اسٹیبلشمنٹ کیلئے کام کرتے ہیں؟
جب اُن سے سوال پوچھا گیا کہ ’’کیا آپ کے بارے میں سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ تاثر درست ہے کہ آپ اسٹیبلشمنٹ کیلئے کام کرتے ہیں‘‘ تو میاں داؤد ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ پاکستان میں جب بھی کوئی اچھا یا بہتر کام ہوتا ہے تو اُس پر قبضہ کرنے یا اُسے متنازع بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، طارق جہانگیری صاحب ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ رہے اور اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر ہر کام کرتے رہے، اُن کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کیا دشمنی ہو گی کہ اسٹیبلشمنٹ کسی اور کے ذریعہ انہیں نکالے گی؟ مظاہر نقوی دنیا کی تاریخ میں سپریم کورٹ کا وہ پہلا جج ہے جس کو کرپشن پر نکالا گیا اور میں وہ پہلا وکیل ہوں جس کی درخواست پر سپریم کورٹ کا کرپٹ جج نکالا گیا، اِس میں اسٹیبلشمنٹ تو کہیں نہیں ہو سکتی؟ کسی جج کو کرپشن کرنے کا لائسنس نہیں دیا جا سکتا اور کسی جعلی ڈگری والے کو جج، جرنیل یا وزیراعظم نہیں ہونا چاہیے۔
عمران خان کے خلاف 9 مئی کا مقدمہ ایک حقیقت ہے
سابق وزیراعظم عمران خان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں میاں داؤد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف 9 مئی کے مقدمہ کے علاوہ جتنے مقدمات ہیں اُن کے بارے میں یہ بحث کی جا سکتی ہے کہ وہ سیاسی نوعیت کے ہیں یا نہیں تاہم 9 مئی کا مقدمہ بالکل حقیقت ہے جس کو پوری دنیا نے دیکھا اور اُس کے واضح شواہد موجود ہیں، نو مئی عمران خان کے کہنے پر ہوا اور پوری پلاننگ کے تحت کیا گیا لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بعض اوقات ریاست یا حکومت دانستہ طور پر کسی مقدمہ کو خراب کر دیتی ہیں جبکہ مسلم لیگ نون (حکمراں جماعت) کی یہ تاریخ رہی ہے کہ وہ اچھا خاصا کام خراب کر دینے میں ماہر ہے۔
عمران خان کو 2030 سے قبل ریلیف نہیں مل سکتا
میاں داؤد ایڈووکیٹ نے اڈیالہ جیل میں قید سابق چیئرمین تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو کم از کم 2030 اور زیادہ سے زیادہ 2036 سے پہلے قطعی طور پر ریلیف نہیں مل سکے گا، میں یہ بات 9 مئی کے بعد کئی بار کر چکا ہوں کیونکہ 9 مئی بہت بڑا جرم تھا، دنیا میں جہاں کہیں بھی ریاست کے خلاف بغاوت کرنے یا مُلک توڑنے کی کوشش ہوئی تو ایسے لوگوں کو معافی کبھی نہیں ملی بلکہ اُنہوں نے اپنی پوری سزا بھگتی ہے، عمران خان کو 9 مئی کے مقدمات میں جو بھی سزا ہو گی وہ عمران چان پوری کریں گے چاہے اُن کی ساری زندگی جیل میں گزر جائے۔
نو مئی مُلک کو توڑنے کی سازش تھی
ماہر قانون دان میاں داؤد ایڈووکیٹ نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ عمران خان کو 9 مئی کے مقدمات میں فوج و حکومت اور قانون سمیت کوئی بھی معافی نہیں دے سکتا، اِس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ 9 مئی مُلک کو توڑنے کی سازش تھی، اگر یہ فالس فلیگ آپریشن تھا تو پی ٹی آئی کے لوگ کور کمانڈر ہاؤس تک کیسے پہنچے؟ فوجی جوان کی شہادت پر اعجاز چوہدری نے جشن منانے کا کیوں کہا جس کی آڈیو بھی لیک ہوئی؟ یہ لوگ باقاعدہ طور پر منصوبہ بندی کے تحت نکلے اور فوجی املاک پر حملہ کیا، پی ٹی آئی کے ایک راہنما کی ویڈیو بھی سامنے آ چکی ہے جس میں وہ پیٹرول بم بنا کر جی ایچ کیو (جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی) کے گیٹ پر مارتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
فیض حمید کو سزائے موت ہوئی تو عمران خان کو بھی سزائے موت ہو گی
میاں داؤد نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی واضح طور پر مُلک سے بغاوت تھی، تاہم اگر جنرل (ر) فیض حمید 9 مئی کے مقدمات میں بَری ہو گئے تو عمران خان بھی بَری ہو جائیں گے اور اگر جنرل (ر) فیض حمید کو 9 مئی مقدمات پر سزا ہوئی تو پھر جو سزا اُنہیں ہو گی وہی عمران خان کو بھی ہو گی، یہاں تک کہ اگر جنرل (ر) فیض حمید کو سزائے موت ہو گی تو عمران خان کو بھی سزائے موت ہو گی اور پوری دنیا عمران خان کو پھانسی کے پھندے پر لٹکتا ہوا دیکھے گی۔
آپریشن غضب للحق
افغانستان کی صورتحال اور ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا کے ہر مُلک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے خلاف حملوں پر جوابی کارروائی کرے اور اپنی حفاظت اور دفاع کرے، جب تک افغانستان پاکستان کے ساتھ بھائی چارے اور امن کے ساتھ رہتا رہا پاکستان نے اُن کی مہمان نوازی کی اور عالمی قوانین کے مطابق اُن کے مہاجرین کو پناہ اور سہولیات فراہم کیں لیکن جب افغانستان نے بھارت اور اسرائیل کے کہنے پر اور اُن کی فنڈنگ پر دہشتگردوں کا روپ دھار لیا تو پھر پاکستان کا فرض بنتا ہے کہ دہشتگردی کا قَلع قَمع کرے۔
پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال امریکا، اسرائیل اور یورپ سے بہتر ہے
اُنہوں نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال امریکا، اسرائیل اور یورپ سے بہتر ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو پاکستان کی بجائے غزہ پر توجہ دینی چاہیے جہاں امریکا، برطانیہ اور اقوامِ متحدہ کی پشت پناہی سے خواتین اور بچوں کے سر کاٹے جا رہے ہیں۔ یہ دنیا کا دوہرا معیار ہے کہ مغربی ممالک اور صیہونی طاقتیں اِس وجہ سے پاکستان کو ٹارگٹ کرتے ہیں کیونکہ پاکستان دنیا میں واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور اُن کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے۔ پاکستان کو پریشرائز کرنے کیلئے پاکستان کے حوالہ سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا جھوٹا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔
ایپسٹین فائلز
میاں داؤد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ’’ایپسٹین فائلز‘‘ کے منظرِ عام پر آنے کے بعد یورپ، امریکا یا کسی صیہونی ریاست کے کسی بھی فرد کو دوسروں پر انگلی اٹھاتے ہوئے شرم محسوس ہونی چاہیے۔ آپ کے ممالک میں آپ کے لوگ کمسن بچیوں کو اغواء کر کے اُن کا ریپ کرتے رہے ہیں، آپ کس منہ سے کسی دوسرے مُلک میں انسانی حقوق کے حوالہ سے بات کر سکتے ہیں؟ جب بھی کوئی یورپی مُلک انسانی حقوق کی بات کرے تو اُس سے پہلا سوال یہی ہونا چاہیے کہ آپ کے جو لوگ ایپسٹین فائلز میں ملوث پائے گئے اُن کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟
ایران اپنی پراکیسز کے ذریعہ دیگر ممالک میں فساد پھیلاتا ہے
خطہ کی صورتحال سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہا کہ امریکا و اسرائیل کا ایران پر حملہ کرنا غلط ہے جو ایران کی سالمیت و خودمختاری کے خلاف ہے لیکن اِسی طرح ایران جو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین سمیت خلیجی و عرب ممالک پر حملے کر رہا ہے وہ بھی غلط ہیں۔ ایران کے معاملہ پر بات کرنے سے پہلے ہمیں ایران کی موجودہ رجیم کے اقتدار میں آنے کی تاریخ یاد رکھنی چاہیے، جس طریقہ سے خمینی کو ایران میں لایا گیا اور جس طرح میڈیا رپورٹس کے مطابق خمینی نے اقتدار میں آ کر دھوکہ دیا اُس کے بعد ایران کے حالات خراب ہونا شروع ہوئے، ایران کا گزشتہ 10 برس یا 20 سالوں کا ڈیٹا اُٹھا کر دیکھ لیں تو ہر مُلک ایران پر یہی الزام لگا رہا ہے کہ ایران فسادی مُلک ہے جو اپنی پراکیسز کے ذریعہ دیگر ممالک میں فساد پھیلاتا اور دہشتگردی کرواتا ہے۔
پاک بھارت جنگ کے دوران ایران بھارت کے ساتھ کھڑا تھا
میاں داؤد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے اندر دہشتگردی کے واقعات بذریعہ ایران ہوتے رہے ہیں، ہمارے سامنے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی مثال بھی موجود ہے، جب پاکستان میدانِ جنگ میں بھارت کا مقابلہ کر رہا تھا تو ایران بھارت کے ساتھ کھڑا دکھائی دیا، ایران کی تاریخ اور اُس کے کردار کو دیکھے بغیر ایران کے تنازعہ پر بات نہیں کی جا سکتی، ایران کی جانب سے 2024 میں پاکستان پر بھی حملہ کیا گیا لیکن پھر جب افواجِ پاکستان نے جواب دیا تو ایران دُم دبا کر بھاگ گیا۔
ایران براہِ راست امریکا پر حملہ کیوں نہیں کرتا؟
اُنہوں نے ایرانی اقدامات کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ایران براہِ راست امریکا پر حملہ کیوں نہیں کرتا؟ ایران صرف مسلمان ممالک پر حملے کیوں کرتا ہے؟ ایران اگر دانستہ طور پر اسلامی ممالک پر حملے کرتا رہے گا تو اِس کا مطلب یہی ہے کہ ایران دراصل امریکا اور اسرائیل کا ایجنڈا پورا کر رہا ہے، ایران دوبئی کے تجارتی مراکز کو کیوں نشانہ بنا رہا ہے؟ ایران اسلامی ممالک میں شہری آبادیوں پر کیوں حملے کر رہا ہے؟ ایران اسلامی ممالک میں آئل ریفائنریز کو کیوں نشانہ بنا رہا ہے؟ اگر ایران کا مؤقف درست تسلیم کر لیا جائے تو پھر امریکا و اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کی وجوہات بھی درست ماننا ہوں گی، مستقبل میں یہ حقیقت واضح ہو جایے گی کہ ایران کا موجودہ کردار پراکسی کرادر ہے۔
ایران نے اسرائیل کو غزہ پر حملے کا جواز فراہم کیا
میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایران نے یہی کام غزہ میں بھی کیا تھا، ایران نے اسرائیلی فوج پر حماس کے ذریعہ حملے کروائے جس کے بعد ایران اور حماس غائب ہو گئے جبکہ اسرائیل نے غزہ کو ملیا میٹ کر دیا، یوں ایران نے امریکا اور اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کیا کیونکہ اُنہیں غزہ و فلسطین پر حملہ آور ہونے کیلئے جواز چاہیے تھا جو اُنہیں ایران نے فراہم کیا، پاکستان کے خلاف بھی یورپی ممالک کو جواز چاہیے جو ایران اُنہیں فراہم کر رہا ہے۔
ایک حکومت نے پاکستانی معیشت کا بیڑا غرق کر کے یورپی مفادات کا تحفظ کیا
اُن کا کہنا تھا کہ میں ایک مسلمان اور پاکستانی ہوں، میرے لیے سب کچھ میرا پاکستان ہے، خطہ کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو پہلے پاکستان میں ایک حکومت نے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کر کے یورپی مفادات کا تحفظ کیا اور اب موجودہ حالات کو دیکھا جائے تو سب کچھ واضح نظر آتا ہے کہ ایران امریکا و اسرائیل کا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے، ایران کو تباہ کر کے امریکا اور اسرائیل کو کیا فائدہ ہو گا؟ ایران جب جانتا ہے کہ وہ جنگ لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو پھر وہ کیوں ایسا ماحول پیدا کرتا ہے؟ میرا مؤقف ہے کہ ایران خطہ میں آج بھی پراکسی کردار ادا کر رہا ہے۔
اکھنڈ بھارت اور گریٹر اسرائیل
میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہا کہ پاکستان کو کبھی ایران سے کوئی توقع نہیں رہی اور نہ کبھی ہو سکتی ہے، اِس کے باوجود پاکستان نے اپنی جغرافیائی و علاقائی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے، پاکستان اِن حالات مدبرانہ رویہ پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے، ہم اپنے بڑوں سے سنتے آ رہے ہیں کہ دنیا میں پاکستان اور اسرائیل کے درمیان ایک بڑی جنگ ہو گی، میرا یہ ماننا ہے کہ اللّٰه نے پاکستانی قوم کو باقی قوموں سے مختلف بنایا ہے، پاک بھارت جنگ کے دوران لوگ بخوشی لڑنے کیلئے نکلے تھے اور اپنے فوجی بھائیوں کا ساتھ دے رہے تھے، پاکستانی قوم ہمیشہ لڑنے کیلئے تیار رہتی ہے لہذا کوئی اکھنڈ بھارت آئے یا گریٹر اسرائیل آئے پاکستان ہر کسی کا مقابلہ کر سکتا ہے۔
میں ایک جج پر نظریں جمائے بیٹھا ہوں
تھرسڈے ٹائمز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ماہر قانون دان میاں داؤد ایڈووکیٹ نے انکشاف کیا کہ میں ایک اور جج پر نظریں جمائے بیٹھا ہوں جس کیلئے کچھ ڈاکومنٹس جمع کر چکا ہوں اور باقی اکٹھے کر رہا ہوں، جیسے ہی ڈاکومنٹس مکمل ہوں گے تو مناسب وقت اور صورتحال کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھوں گا، میری کوشش ہے کہ 2026 میں ہی عوام کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے یہ کام مکمل کروں کیونکہ میرے حوالہ سے سوشل میڈیا پر مشہور ہے کہ یہ وہ نہر ہے جو ہر سال ایک بندہ لیتی ہے۔
عدلیہ میں خامیاں ہیں
ماہر قانون دان میاں داؤد ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ پاکستان میں قوانین پر عملدرآمد کیلئے عدلیہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، عدلیہ میں خامیاں ہیں اور اُن خامیوں کے ہوتے ہوئے جتنے مرضی قوانین بنا لیے جائیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔




