لاہور (تھرسڈے ٹائمز) — وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے امیر ترین طبقے کے زیر استعمال پرتعیش گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین فیول پر لیوی میں بڑا اضافہ کرنے کا فیصلہ کر دیا ہے، جس کے تحت اب اس ایندھن پر مجموعی طور پر 300 روپے فی لیٹر لیوی لاگو ہو گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عام شہری پر بوجھ ڈالے بغیر مالی گنجائش پیدا کرنا اور اس سے حاصل ہونے والی بچت کو عوامی ریلیف کے لیے استعمال کرنا ہے۔
وزیرِ اعظم کی زیر صدارت اتوار کو ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والے ایک اہم اجلاس میں ہائی آکٹین کی قیمتوں اور اس پر عائد لیوی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم نے نوٹس لیا کہ مہنگی ترین گاڑیوں میں استعمال ہونے والے اس خصوصی فیول پر موجودہ لیوی میں اضافہ ہونا چاہیے، جس کے بعد 100 روپے فی لیٹر کی موجودہ شرح میں مزید 200 روپے فی لیٹر اضافے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس فیصلے کے بعد ہائی آکٹین پر عائد لیوی 300 روپے فی لیٹر تک پہنچ جائے گی۔ حکومتی اندازے کے مطابق اس اقدام سے ماہانہ 9 ارب روپے کی بچت ہو گی۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی ہے کہ یہ بچت عوام کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کی جائے تاکہ مالی دباؤ کا رخ کم آمدن اور متوسط طبقے کی جانب منتقل نہ ہو۔
حکومت نے اس فیصلے کو ایک ایسے مالیاتی قدم کے طور پر پیش کیا ہے جس کے ذریعے معیشت پر مجموعی بوجھ کم کیا جا سکے گا، جبکہ اس کا وزن ملک کے زیادہ خوشحال اور وسائل رکھنے والے طبقے پر ڈالا جائے گا۔ سرکاری مؤقف کے مطابق عام اور درمیانے طبقے کے زیر استعمال گاڑیوں میں استعمال ہونے والے معمول کے ایندھن کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، اور صرف ان لگژری گاڑیوں کو ہدف بنایا گیا ہے جو ہائی آکٹین استعمال کرتی ہیں۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس فیصلے کا اثر پبلک ٹرانسپورٹ یا ہوائی سفر کے کرایوں پر نہیں پڑے گا۔ اس وضاحت کا مقصد غالباً ان خدشات کو کم کرنا ہے کہ ہائی آکٹین پر لیوی بڑھنے سے سفری اخراجات میں وسیع پیمانے پر اضافہ ہو سکتا ہے۔
وزیرِ اعظم نے اس سے قبل بھی ہائی آکٹین کی قیمتوں کے حوالے سے نوٹس لیا تھا اور متعلقہ وزارت کو اس معاملے پر لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اب سامنے آنے والا فیصلہ اسی سلسلے کی کڑی ہے، جس کے ذریعے حکومت ایک طرف اضافی مالی وسائل پیدا کرنا چاہتی ہے اور دوسری طرف یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ بوجھ عام صارف پر نہیں بلکہ زیادہ استطاعت رکھنے والے طبقے پر ڈالا جا رہا ہے۔




