لندن (تھرسڈے ٹائمز) — جنگ کے پہلے مرحلے میں ہتھیار بولتے ہیں، دوسرے میں دھمکیاں، مگر تیسرے میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی دروازہ تلاش کیا جاتا ہے جہاں سے واپسی ممکن ہو۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق پاکستان اس وقت اسی دروازے کی تلاش میں مصروف ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد خاموشی سے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے نقشے پر ابھرتا دکھائی دے رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی عسکری قیادت امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت کی راہ نکالنے کی کوشش کر رہی ہے، اور یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی کہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اتوار کے روز ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر گفتگو کی۔ دی گارڈین کے مطابق اس گفتگو کا محور ایران سے متعلق جاری جنگ اور اس کے خاتمے کا ممکنہ راستہ تھا۔
سفارتی ذرائع نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اسی ہفتے اسلام آباد میں ہو سکتے ہیں، جہاں تقریباً ایک ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے پر گفتگو متوقع ہے۔ تاہم ساتھ ہی یہ بات بھی واضح کی گئی کہ اسلام آباد کو ابھی تک باضابطہ طور پر کسی امن مذاکراتی مقام کے طور پر حتمی منظوری نہیں ملی، اور نہ ہی دونوں فریقوں نے ایسے کسی اجلاس پر کھل کر رضامندی ظاہر کی ہے۔
دی گارڈین کے مطابق امریکی صدر کے مشرقِ وسطیٰ کیلئے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے اسلام آباد آنے کی تیاری کی اطلاعات ہیں، مگر ایرانی وفد کی شرکت کے بارے میں اب تک کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات آگے بڑھے تو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو امریکی جانب سے ممکنہ مرکزی مذاکرات کار کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، نہ کہ اسٹیو وٹکوف یا جیرڈ کشنر کو، جنہوں نے جنگ سے پہلے ایران کے ساتھ جوہری مذاکراتی عمل میں کردار ادا کیا تھا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان رابطے کے بعد وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پیر کے روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو کی۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے کشیدگی میں فوری کمی، بات چیت اور سفارت کاری کی فوری ضرورت پر اتفاق کیا۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں پاکستان کی کوشش محض ایک رابطہ کار کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی دکھائی دیتی ہے جو خود کو جنگ اور مذاکرات کے درمیان ممکنہ پل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
اگرچہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو ممکنہ ایرانی مذاکراتی قیادت کیلئے سب سے موزوں نام قرار دیا جا رہا ہے، دی گارڈین کے مطابق انہوں نے اب تک ایسی خبروں کو جعلی قرار دیا ہے۔ دی گارڈین نے ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے لکھا کہ پچھلی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ آگے بڑھنے کا تقریباً کوئی امکان نہیں، کیونکہ ایرانی جانب اس خدشے کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے کہ مذاکرات کے نام پر دوبارہ کسی عسکری چال کیلئے راستہ ہموار کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی نیا ڈھانچہ بنتا بھی ہے تو اس میں نام، مقام، اعتماد اور طریقہ کار سب کچھ نئے سرے سے طے کرنا پڑے گا۔
اسی دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اس امکان کا اب تک کا سب سے واضح اشارہ دیا کہ وہ امریکی حملے روکنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام اور اسٹیو وٹکوف و جیرڈ کشنر کے درمیان مضبوط بات چیت ہو رہی ہے، اور یہ کہ کئی اہم نکات پر پیش رفت ہوئی ہے۔ یہ بیان خود اپنی جگہ اہم تھا کیونکہ اس نے پہلی بار عسکری دباؤ اور سفارتی گنجائش کو ایک ساتھ جوڑ کر پیش کیا۔
تاہم ٹرمپ نے اسی کے ساتھ ایک نئی پانچ روزہ مہلت بھی دے دی، جو انہوں نے اختتام ہفتہ پر جاری اپنے الٹی میٹم میں دی تھی۔ انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا تو امریکا ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دے گا۔ ان مذاکراتی اشاروں کے بعد منڈیوں میں وقتی سکون آیا، تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی، اور عالمی سطح پر یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید مکمل تباہی کے کنارے سے ایک سفارتی موڑ ابھی باقی ہے۔
ایرانی حکام نے اب تک ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کسی براہِ راست بات چیت کی تردید کی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ بعض دوست ممالک امریکا کے پیغامات تہران تک پہنچا رہے ہیں۔ دی گارڈین کے مطابق پاکستان، عمان، ترکیہ اور مصر ان ممالک میں شامل ہیں جو دونوں جانب رابطے میں ہیں اور جنگی کیفیت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستان کی اہمیت یہاں محض اس لیے نہیں بڑھ رہی کہ اس نے ثالثی کی پیشکش کی ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ اس کے پاس دونوں اطراف تک رسائی کے ایسے راستے ہیں جو بہت کم ممالک کو میسر ہیں۔ دی گارڈین نے لکھا کہ پاکستان کے طاقتور آرمی چیف کے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی روابط ہیں، وہ دو مرتبہ واشنگٹن جا چکے ہیں، اور امریکی حلقوں میں ان کیلئے غیر معمولی گرم جوشی بھی دیکھی گئی ہے۔ دوسری جانب پاکستان اور ایران کے تعلقات اگرچہ پیچیدہ ہیں، مگر پاکستان ایران کے بعد دنیا کی دوسری بڑی شیعہ آبادی کا گھر بھی ہے۔ یہی زمینی حقیقت اسلام آباد کو ایک منفرد سفارتی وزن دیتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خلیجی ممالک کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران کے جوابی حملوں کا بڑا دباؤ انہی ممالک نے برداشت کیا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدہ بھی پاکستان کی اس پوزیشن کو مزید اہم بناتا ہے۔ یہ سب عوامل مل کر پاکستان کو ایک ایسے ملک میں بدل رہے ہیں جو صرف تماشائی نہیں بلکہ ممکنہ سہولت کار بھی ہو سکتا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر فریقین چاہیں تو اسلام آباد ہمیشہ مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہے، اور پاکستان نے مسلسل بات چیت اور سفارت کاری کی حمایت کی ہے تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ الفاظ بظاہر سادہ ہیں، مگر ان کے اندر ایک بڑی سفارتی پوزیشن پوشیدہ ہے: پاکستان اپنے آپ کو ایک ایسے مقام کے طور پر پیش کر رہا ہے جہاں بات چیت ممکن ہے، اگر دونوں فریق واقعی اُس مرحلے تک پہنچنے پر آمادہ ہوں۔
دی گارڈین کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اسلام آباد میں ممکنہ امن مذاکرات کی خبروں پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا اور اسے حساس سفارتی معاملہ قرار دیا۔ یہی ابہام اس پوری صورت حال کی اصل روح ہے۔ کچھ بھی باضابطہ نہیں، سب کچھ ممکن ہے، اور اسی بیچ اسلام آباد کا نام بار بار سفارتی امکان کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
یہی اس پورے منظرنامے کا اصل نکتہ ہے۔ پاکستان ابھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اُس نے مذاکرات کرا دیے ہیں، نہ ہی یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکا اور ایران نے اسلام آباد پر اتفاق کر لیا ہے۔ مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جنگ کے اس مرحلے میں پاکستان نے اپنے آپ کو ان چند ریاستوں میں شامل کر لیا ہے جو ابھی بھی لڑائی کے بیچ بات چیت کی جگہ نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اگر آنے والے دنوں میں واقعی کوئی سفارتی کھڑکی کھلتی ہے تو ممکن ہے اُس کے فریم پر اسلام آباد کا نام لکھا ہو۔ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ پاکستان کی محض ایک وقتی سفارتی کامیابی نہیں ہو گی، بلکہ اس بات کا اشارہ ہو گا کہ خطے میں اثر و رسوخ صرف عسکری طاقت سے نہیں، بلکہ اعتماد پیدا کرنے، راستہ نکالنے اور بات چیت کیلئے جگہ بنانے کی صلاحیت سے بھی بنتا ہے۔







