تجزیہ: ایران بحران میں پاکستان کی خاموش مگر فیصلہ کن پیش قدمی، اسلام آباد ممکنہ ثالث کے طور پر ابھرنے لگا، بلومبرگ

پاکستان ایران بحران میں خاموش مگر اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے، وزیر اعظم شہباز شریف کی ایرانی قیادت سے گفتگو اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی علاقائی سطح پر سرگرمیوں نے اسلام آباد کو ایک ممکنہ ثالثی مرکز کے طور پر نمایاں کر دیا ہے۔ پاکستان بظاہر جنگ کے بجائے بات چیت، رابطے اور کشیدگی میں کمی کی راہ کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

spot_imgspot_img

نیویارک (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان امریکا کی ایران کے خلاف جاری جنگ کو روکنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کیلئے خاموش مگر متحرک سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔ بلوم برگ کے مطابق پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت بیک وقت واشنگٹن، تہران اور خلیجی دارالحکومتوں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ایک وسیع علاقائی بحران میں بدلنے سے روکا جا سکے۔

بلوم برگ نے معاملے سے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا۔ ذرائع کے مطابق یہ گفتگو جنگ کے خاتمے کیلئے ممکنہ راستہ تلاش کرنے کے سلسلے میں ہوئی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان اسلام آباد کو ممکنہ مذاکراتی مقام کے طور پر پیش کر رہا ہے، جبکہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی اس سفارتی عمل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ انہوں نے ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر ممکنہ حملے تعمیری بات چیت کے بعد مؤخر کر دیے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے تاحال کسی باضابطہ مذاکراتی عمل کی تصدیق نہیں کی۔ تاہم امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نے ایک سینئر ایرانی اہلکار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ثالثوں کے ذریعے بھیجے گئے امریکی پیغامات کا تہران میں جائزہ لیا جا رہا ہے۔

 مجموعی سفارتی سرگرمیوں سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ پاکستان خود کو اس بحران میں ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے جو کشیدگی بڑھانے کے بجائے رابطے اور مصالحت کی راہ کھلی رکھنا چاہتا ہے۔

بلوم برگ کے مطابق پاکستان اس مرحلے پر اپنی دوہری سفارتی برتری کو بروئے کار لا رہا ہے۔ ایک طرف اس کے ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی حلقوں کے ساتھ حالیہ روابط ہیں، اور دوسری جانب ایران، سعودی عرب اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلقات ہیں۔ یہی توازن اسلام آباد کو اس بحران میں ایک ممکنہ پل کے طور پر نمایاں کر رہا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے پیر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو میں ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور ساتھ ہی کشیدگی میں کمی پر زور دیا۔ شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستانی قیادت کی سفارتی کاوشوں سے ایرانی صدر کو آگاہ کیا گیا ہے اور ایران کو یقین دلایا گیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کیلئے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

اسی تناظر میں فنانشل ٹائمز نے بھی رپورٹ کیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اتوار کے روز ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی تھی۔ ادھر اکسیوس کے مطابق ثالثی میں شامل ممالک اسلام آباد میں ایک ممکنہ ملاقات کے انعقاد کی کوشش کر رہے ہیں، جس میں اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور ممکنہ طور پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت بھی زیر غور ہے۔ اگرچہ ان اطلاعات کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم یہ بات واضح ہے کہ اسلام آباد کا نام اس بحران کے سفارتی نقشے میں نمایاں ہو چکا ہے۔

جنگ کے پھیلاؤ کے ساتھ پاکستان نے خلیجی خطے میں اپنی سفارتی سرگرمیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ توانائی کا وہ دباؤ بھی ہے جو جنوبی ایشیا کو براہ راست متاثر کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے قریب پانچویں حصے کا تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے، جنگ شروع ہونے کے بعد سے عملاً شدید دباؤ میں ہے۔ پاکستان چونکہ خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور مائع قدرتی گیس کیلئے بڑی حد تک خلیجی ممالک پر انحصار کرتا ہے، اس لیے اس بحران کے معاشی اثرات بھی اسلام آباد کیلئے نہایت اہم ہیں۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گزشتہ ہفتے ریاض میں عرب اور مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کی، جہاں جاری تنازع پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ بلوم برگ کے مطابق پاکستان نے اس اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں ایسی زبان شامل ہونے سے روکنے کی کوشش کی جو ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی تھی۔ یہ طرز عمل بھی پاکستان کی اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے جس میں وہ خود کو اشتعال انگیزی کے بجائے توازن قائم رکھنے والے فریق کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس بحران کے دوران سعودی عرب کے ساتھ بھی متعدد سطحوں پر رابطے کیے ہیں۔ وہ اور وزیر اعظم شہباز شریف بارہ مارچ کو جدہ گئے تھے جہاں انہوں نے ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ اس سے ایک روز قبل شہباز شریف ایرانی صدر سے رابطے میں تھے۔ مارچ کے آغاز میں فیلڈ مارشل منیر کی سعودی وزیر دفاع سے ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی سمجھی جا رہی ہے۔

گزشتہ برس ستمبر میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی طے پایا تھا، جس کے مطابق کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ ایسے میں ایران بحران کے دوران پاکستان کی سفارتی حرکت صرف علاقائی ہمدردی تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے سلامتی، توانائی، معیشت اور جغرافیائی سیاست کے کئی بڑے عوامل بھی کارفرما ہیں۔

بلوم برگ کی یہ رپورٹ اس تاثر کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ پاکستان محض حالات کا مشاہدہ نہیں کر رہا بلکہ وہ خاموشی سے ان فیصلوں کے بیچ اپنی جگہ بنانے کی کوشش میں ہے جو آنے والے دنوں میں خطے کی سمت طے کر سکتے ہیں۔ اگر یہ سفارتی کوششیں آگے بڑھتی ہیں تو ممکن ہے کہ جنگ سے واپسی کا راستہ واقعی اسلام آباد سے ہو کر گزرے۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

spot_img

خبریں

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

More from The Thursday Times

error: