نیویارک (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان امریکا و ایران جنگ کے نہایت حساس مرحلہ میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جہاں اسلام آباد کشیدگی اور مذاکرات کے درمیان وہ نازک راستہ فراہم کر رہا ہے جس سے امن و مفاہمت کی جانب قدم بڑھایا جا سکتا ہے۔ امریکی جریدہ ’’بلومبرگ‘‘ کے مطابق امریکا کی جانب سے تیار کردہ 15 نکاتی تجویز پاکستانی ثالثی کے ذریعہ تہران تک پہنچا دی گئی ہے جس کا مقصد ایران کے خلاف جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔ اِس پیش رفت نے اسلام آباد کو ایک اُس سفارتی مرکز میں لا کھڑا کیا ہے جس کے اثرات میدانِ جنگ سے کہیں آگے تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
تجویز کے مندرجات کی طرح وہ راستہ بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے جس کے ذریعہ یہ پیغام پہنچایا گیا ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اب محض اِس تنازع کو دور سے دیکھنے والا مُلک نہیں رہا بلکہ اسلام آباد ایک ایسے چینل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جس کے ذریعہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات، ممکنہ فریم ورک اور کشیدگی کم کرنے کے طریقے آزمائے جا رہے ہیں۔ یہ پاکستان کے سفارتی اہمیت میں نمایاں اضافہ کی علامت ہے۔
بلومبرگ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکی تجویز کو ایرانی حکام تک پہنچانے کے عمل میں ایک اہم رابطہ کار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ یہ امر اِس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان کا کردار بڑی حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔ ایسی نوعیت کے بحرانوں میں ثالث کا انتخاب اتفاقاً نہیں ہوتا بلکہ کشیدگی کم کرنے کیلئے ایسے کردار کو چُنا جاتا ہے جو دونوں جانب بات کر سکے اور جس کے ذریعہ پہنچایا جانے والا پیغام اپنی ساکھ برقرار رکھ سکے۔
امریکی جریدہ کے مطابق یہ پندرہ نکاتی منصوبہ ایک ایسے فریم ورک کے طور پر تیار کیا گیا ہے جس کا مقصد اُس جنگ کو روکنا ہے جو مارچ 2026 کے آخر تک اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ پاکستان نے یہ پیشکش بھی کی ہے کہ اگر دونوں فریق آمادہ ہوں تو اسلام آباد میں براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی میزبانی کی جا سکتی ہے۔ ابھی تک کسی باضابطہ معاہدے کی تصدیق نہیں ہوئی جبکہ تہران محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے تاہم یہ پیشکش جگہ اہمیت کی حامل ہے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان صرف پیغامات پہنچانے تک محدود نہیں ہے بلکہ ایک ایسا سفارتی ماحول فراہم کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے جہاں یہ پیغامات عملی مذاکرات میں تبدیل ہو سکیں۔







