سِکھوں اور پاکستان کے درمیان ناخن اور گوشت کا رشتہ ہے، دنیا کے ہر سِکھ کا پہلا گھر پاکستان ہے، رمیش سنگھ اروڑا

سِکھوں اور پاکستان کے درمیان ناخن اور گوشت کا رشتہ ہے، دنیا کے ہر سِکھ کا پہلا گھر پاکستان ہے۔ بھارت میں کانگریس اور بی جے پی کے ہاتھ اقلیتوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، سِکھ 1984 نہیں بھول سکتے، پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو مکمل تحفظ و مذہبی آزادی حاصل ہے۔ وزیرِ اقلیتی امور پنجاب رمیش سنگھ اروڑا

لاہور (تھرسڈے ٹائمز) — وزیرِ اقلیتی امور پنجاب رمیش سنگھ اروڑا نے کہا ہے کہ سِکھوں اور پاکستان کے درمیان ناخن اور گوشت کا رشتہ ہے، دنیا میں ہر سِکھ کا پہلا گھر پاکستان ہے، پاکستان میں مذہبی اقلیتیں خود کو محفوظ سمجھتی ہیں، بھارت میں کانگریس اور بی جے پی کے ہاتھ اقلیتوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، دنیا کا کوئی بھی سِکھ 1984 کو نہیں بھول سکتا، بھارت خطہ میں بسنے والے 2 ارب سے زائد انسانوں اور امن کیلئے خطرہ ہے، بھارت پاکستان و دیگر ممالک میں سِکھوں اور مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے، اقوامِ متحدہ کو آگے بڑھ کر بھارت کو جوابدہ ٹھہرانا ہو گا۔

رمیش سنگھ اروڑا کا ’’تھرسڈے ٹائمز‘‘ کو خصوصی انٹرویو

پنجاب کے وزیرِ اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑا نے ’’تھرسڈے ٹائمز‘‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں سِکھ میرج ایکٹ اور ہندو میرج ایکٹ کے بعد اب کرسچین کمیونٹی کی طرح سِکھ اور ہندو کمیونٹی کی شادیاں بھی اُن کے عقائد کے مطابق رجسٹرڈ ہو سکتی ہیں، جو سِکھ باہر سے پاکستان آتے ہیں وہ امن و محبت کا پیغام لے کر اور پاکستان کے سفیر بن کر واپس جاتے ہیں، پاکستان کا آئین تمام اقلیتوں کو مذہبی آزادی اور اُن کی عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے، پاکستان کی کسی بھی حکومت کے ہاتھ اقلیتوں کے خون سے رنگے ہوئے نہیں ہیں، پاکستان میں مذہبی اقلیتیں خود کو محفوظ سمجھتی ہیں، پاکستان میں رہنے والے ہندو بھی ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگاتے ہیں، اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی اہم پالیسی ہے۔

سِکھ میرج رجسٹریشن ایکٹ

رمیش سنگھ اروڑا نے ’’تھرسڈے ٹائمز‘‘ کے ساتھ خصوصی انٹرویو کے آغاز میں بتایا کہ جب میں پنجاب اسمبلی میں پہلا سِکھ رکن منتخب ہوا تو میری ترجیحات میں سِکھ میرج رجسٹریشن ایکٹ شامل تھا کیونکہ 1947 سے اب تک پاکستان میں سکھوں کی شادیاں رجسٹرڈ نہیں ہو رہی تھیں اور نتیجتاً اِس سے جڑے لوازمات بھی پورے نہیں ہو رہے تھے، میں نے اکتوبر 2017 میں سِکھ میرج رجسٹریشن بِل پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جو 6 ماہ کی جدوجہد کے بعد مارچ 2018 میں منظور ہوا لیکن پھر بدقسمتی سے ایسی حکومت (پی ٹی آئی) آ گئی جس کا سربراہ (عمران خان) آج اڈیالہ جیل میں ہے، اُس حکومت کی نااہلی کا یہ عالم تھا کہ 4 برس میں رولز آف بزنس نہ بنا سکے۔ پھر 2024 میں ہماری (مسلم لیگ نون) حکومت آئی اور وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے مجھے اپنی کابینہ میں شامل کیا، پاکستان میں نئی تاریخ رقم ہوئی اور میں پہلا سِکھ وزیر بنا جس کیلئے میں مریم نواز شریف اور میاں نواز شریف کا شکریہ ادا کرتا ہوں، میں نے صوبائی وزیر بننے کے بعد سِکھ میرج ایکٹ کے ساتھ ساتھ ہندو میرج ایکٹ کے رولز آف بزنس بھی بنائے، نتیجتاً آج پاکستان میں کرسچین کمیونٹی کی طرح سِکھ اور ہندو کمیونٹی کی شادیاں بھی اُن کے عقائد کے مطابق رجسٹرڈ ہو سکتی ہیں۔

اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے

رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ میں صرف سِکھوں کا نہیں بلکہ تمام اقلیتوں کا وزیر ہوں اور یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں تمام اقلیتوں کیلئے کام کروں جبکہ یہی وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا بھی ویژن ہے، مریم نواز نے چیف منسٹر منتخب ہونے کے بعد پنجاب اسمبلی سے پہلے خطاب میں بھی کہا تھا کہ اقلیتیں میرے سر کا تاج ہیں اور انہیں تحفظ فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ میں وزیر بنا تو یہ محکمہ مفلوج تھا جبکہ وزیر کے بارے میں بھی تاثر تھا کہ اُس کے پاس کوئی اختیارات نہیں ہوتے۔ وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے اِس محکمہ کو بحال اور مضبوط کرنے میں بھرپور تعاون کیا، اِس سے قبل محکمہ کا بجٹ محض 50 کروڑ روپے ہوتا تھا جو اب بڑھ کر 8 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ چیف منسٹر مریم نواز کا ویژن ہے کہ ہم نے پنجاب کی اقلیتوں کا تحفظ کرنا ہے، قانونی اصلاحات کرنی ہیں، ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے، تعلیم کے مواقع بڑھانے ہیں اور بچوں کو سکالرشپس دینی ہیں۔

سِکھوں اور پاکستان کے درمیان ناخن اور گوشت کا رشتہ ہے

تھرسڈے ٹائمز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وزیرِ اقلیتی امور پنجاب رمیش سنگھ اروڑا کا کہنا تھا کہ بھارت نے گزشتہ برس 7 مئی کو جارحیت کی صورت میں بین الاقوامی سطح پر ہمارا امیج خراب کرنے کی کوشش کی لیکن سِکھ جانتے ہیں کہ سِکھوں اور پاکستان کے درمیان ناخن اور گوشت کا رشتہ ہے لہذا سِکھ آج بھی پاکستان آ رہے ہیں، ہماری پنجاب حکومت بننے کے بعد سکھ یاتریوں کی تعداد میں 72 فیصد اضافہ ہوا ہے جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیراعظم شہباز شریف اور ہمارے لیڈر نواز شریف کا بہت اہم کردار ہے۔

پنجاب میں 20 گوردواروں کی بحالی اور تعمیر و مرمت کا کام جاری

رمیش سنگھ اروڑا نے بتایا کہ پنجاب میں کم و بیش 20 گوردوارے ایسے ہیں جو 1947 سے اب تک بند ہیں تاہم اُن کی بحالی اور تعمیر و مرمت کا کام شروع ہو چکا ہے اور جب یہ 20 گوردوارے 80 برس تک بند رہنے کے بعد کھلیں گے تو دنیا بھر کے سِکھ یاترا کیلئے پاکستان آئیں گے اور یہاں سے محبت کا پیغام لے کر جائیں گے۔ اسی طرح متعدد چرچ اور مندر بھی ایسے ہیں جن کی بحالی کیلئے تعمیر و مرمت کا کام جاری ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم تمام اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کریں۔ میں نے 5 سالوں کیلئے پورا لائحہ عمل تشکیل دیا ہے جس میں قبرستان اور شمشان گھاٹ بھی شامل ہیں۔

دنیا میں ہر سِکھ کا پہلا گھر پاکستان ہے

پاکستان کی تاریخ میں پہلے سِکھ رکنِ پنجاب اسمبلی رمیش سنگھ اروڑا نے واضح انداز میں کہا کہ سِکھوں اور پاکستان کے درمیان بہت گہرا رشتہ ہے، ہر سِکھ کا پہلا گھر پاکستان ہے۔ دنیا بھر کا ہر سِکھ دو وقت یہ دعا مانگتا ہے کہ مجھے ننکانہ صاحب، کرتارپور صاحب اور پنجہ صاحب کے درشن مل جائیں۔ پاکستان میں سِکھ خود کو خصوصی حیثیت کی حامل اقلیت مانتے ہیں کیونکہ یہاں کی حکومتوں اور عوام نے سِکھوں کو تمام مذہبی حقوق فراہم کیے ہیں۔ جو سِکھ باہر سے پاکستان آتے ہیں وہ امن و محبت کا پیغام لے کر اور پاکستان کے سفیر بن کر واپس جاتے ہیں۔ سِکھ کمیونٹی کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی مسلسل پالیسی ہے جبکہ موجودہ حکومت کیلئے تمام اقلیتوں کے احساسِ محرومی اور احساسِ کمتری کو دور کرنا ترجیح ہے۔

پاکستان میں سِکھ یاتریوں کیلئے 6 اہم مقامات

رمیش سنگھ اروڑا کا کہنا تھا کہ باہر سے آنے والے سِکھ یاتری پاکستان میں 6 مقامات پر جاتے ہیں جن میں کرتارپور صاحب، ننکانہ صاحب، پنجہ صاحب، ڈیرہ صاحب (لاہور)، روڑی صاحب اور سچا سودا شامل ہیں۔ ہماری پالیسی ہے کہ باہر سے آنے والے سِکھ پاکستان میں جہاں بھی جانا چاہیں جا سکتے ہیں۔ ہم صرف مذہبی سیاحت کو نہیں بلکہ کلچرل سیاحت کو بھی فروغ دے رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ جو سِکھ یاتری یورپ، امریکا، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور مڈل ایسٹ سے پاکستان آتے ہیں ہم اُنہیں پورے پاکستان میں وزٹ کا موقع فراہم کریں۔

ملائیشیا سے ہر سال پاکستان آنے والے سِکھ یاتری

تھرسڈے ٹائمز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پنجاب کے صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑا نے بتایا کہ ملائیشیا سے بہت سارے سِکھ یاتری ہر سال خصوصی پیکیج کے تحت جون جولائی میں پاکستان آتے ہیں اور شمالی علاقہ جات کی سیر بھی کرتے ہیں جس کو وہ پاکستان کا سوئٹزرلینڈ کہتے ہیں۔

پاکستان میں کسی بھی حکومت کے ہاتھ اقلیتوں کے خون سے رنگے ہوئے نہیں ہیں

رمیش سنگھ اروڑا کا کہنا تھا کہ پاکستان کا آئین تمام اقلیتوں کو مذہبی آزادی اور اُن کی عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے، پاکستان کی کسی بھی حکومت کے ہاتھ اقلیتوں کے خون سے رنگے ہوئے نہیں ہیں، پاکستان میں کسی بھی حکومت پر کسی بھی اقلیت کے خلاف مظالم کا کوئی الزام نہیں ہے کیونکہ یہاں اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی اہم پالیسی ہے۔

بھارت میں کانگریس اور بی جے پی کے ہاتھ اقلیتوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں

رمیش سنگھ اروڑا نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ بھارت میں کانگریس اور بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) دونوں کے ہاتھ اقلیتوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، دونوں جماعتیں اقلیتوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کرتی رہی ہیں، گجرات کے فسادات سب کے سامنے ہیں جب موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی گجرات کے وزیرِ اعلیٰ تھے، وہ ’’گجرات کا قصائی‘‘ کے طور پر جانے جاتے تھے کیونکہ اُنہوں نے وہاں مسلمانوں کے ساتھ ظلم و ستم کی داستانیں رقم کی تھیں۔ اِنھی وجوہات کی بناء پر نریندر مودی پر امریکا میں داخلہ پر پابندی بھی عائد کی گئی تھی۔

گولڈن ٹیمپل اور دہلی فسادات، کوئی سِکھ 1984 نہیں بھول سکتا

گولڈن ٹیمپل قتلِ عام کا ذکر کرتے ہوئے رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ بھارت اور پاکستان سمیت دنیا کا کوئی بھی سِکھ 1984 کو نہیں بھول سکتا جب گولڈن ٹیمپل پر حملہ کیا گیا اور ہزاروں کی تعداد میں بچوں، بزرگوں، جوان لڑکیوں اور بوڑھی خواتین کو قتل کیا گیا۔ پھر نومبر 1984 میں دہلی کے فسادات برپا ہوئے جن میں بزرگوں کے گلے میں ٹائر ڈال کر اُنہیں زندہ جلا دیا گیا، نوجوانوں کے سر تن سے جدا کر دیئے گئے اور جوان لڑکیوں کی بےحرمتی کی گئی۔ پھر کشمیری مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور جو کچھ دلت کے ساتھ اور مسیحی کمیونٹی کے ساتھ ہو رہا ہے وہ پوری دنیا جانتی ہے۔

اکھنڈ بھارت اور ہندوتوا نظریات

رمیش سنگھ اروڑا کا کہنا تھا کہ بھارت ایک طرف اکھنڈ بھارت کا نعرہ لگاتا ہے اور دوسری طرف ہندوتوا کی بات کرتا ہے، بھارت اب خطہ میں امن کے دشمن کی حیثیت سے جانا جاتا ہے، کوئی پاکستانی 6 اور 7 مئی 2025 کو نہیں بھول سکتا جب بھارت نے جارحیت کرتے ہوئے پاکستان کی سویلین آبادیوں کو نشانہ بنایا، مذہبی عبادت گاہوں پر حملے کیے اور ڈرونز بھیجے گئے جو ننکانہ صاحب تک بھی آئے، حتیٰ کہ بھارتی ڈرونز گولڈن ٹیمپل کی جانب پرواز کرتے بھی دکھائی دیئے گئے۔ بھارت اپنے مظالم میں اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ اب وہ خطہ میں بسنے والے 2 ارب سے زائد لوگوں کے امن کا دشمن ہے۔

بھارت خطہ میں امن کیلئے خطرہ ہے

اقوامِ متحدہ (یونائیٹڈ نیشنز) سے بھارتی مظالم کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ اب دنیا کو، انسانی حقوق کی تنظیموں کو اور بالخصوص اقوامِ متحدہ کو سوچنا ہو گا کہ اگر بھارت خطہ میں امن کیلئے خطرہ بن رہا ہے تو پھر بھارت کو کس طرح جوابدہ ٹھہرانا ہو گا اور کس طرح اُس کا چہرہ بےنقاب کرنا ہو گا، بھارت سے باز پُرس ہونی چاہیے۔

بھارت پاکستان و دیگر ممالک میں سِکھوں اور مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے

کینیڈا اور امریکا سمیت دنیا کے مختلف ممالک اور خطوں میں بھارت کی جانب سے اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کے اقدامات سے متعلق بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ بھارت دنیا بھر میں جن اہم شخصیات کو نشانہ بنا رہا ہے وہ تمام بھارتی شہری ہیں اور بھارتی پالیسیز کے باعث ناراض ہیں، وہ بھارتی حکومتوں اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی ظلم و ستم کی داستانیں بین الاقوامی سطح پر بےنقاب کرتے ہیں اور بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، اِسی لیے بھارت اُنہیں قتل کرنے کی کوشش کرتا ہے، بھارت پاکستان کے اندر بھی دہشتگردی اور سِکھوں و مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے۔

کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ بھارت اُن کے شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے

تھرسڈے ٹائمز کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران سِکھ رکنِ پنجاب اسمبلی رمیش سنگھ اروڑا نے بھارتی کردار کے تشویشناک پہلو سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کینیڈین پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر بھارت پر الزام لگایا تھا کہ بھارت اُن کے مُلک میں دراندازی کر رہا ہے اور کینیڈین شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ بھارت کس طرح دنیا کیلئے خطرہ بنا ہوا ہے۔

خالصتان تحریک

خالصتا تحریک سے متعلق ایک سوال کے جواب میں رمیش سنگھ اروڑا کا کہنا تھا کہ بھارت کے سِکھ شہری بھارتی پالیسیز اور مظالم کے باعث نالاں ہیں اور وہاں الگ ریاست (خالصتان) کے قیام کی بات کرتے ہیں۔ بھارت کو اپنے رویہ پر نظرِثانی کرنا ہو گی کہ کیوں بھارتی پنجاب، ناگالینڈ، آسام اور کشمیر کے اندر تحاریک چل رہی ہیں۔ اگر بھارت نے اپنے رویہ کو بہتر نہ کیا تو اُسے اپنے کیے پر ندامت ہو گی اور پھر وہ کسی اور کو مَورِدِ اِلزام نہ ٹھہرا سکے گا، بھارت میں سیکولر ازم کی بات کرنے والے شہریوں کو اٹھنا ہو گا اور بھارت کو بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

پاکستان میں مذہبی اقلیتیں خود کو محفوظ سمجھتی ہیں

پاکستان میں اقلیتوں سے متعلق بھارتی بیانیہ کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے پنجاب کے صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور نے کہا کہ یہ بھارت کی ایک من گھڑت کہانی ہے کہ پاکستان میں اقلیتیں مطمئن نہیں ہیں، پاکستان میں مذہبی اقلیتیں خود کو محفوظ سمجھتی ہیں، پاکستان کے اندر اور بالخصوص پنجاب میں مذہبی اقلیتوں کو مکمل تحفظ اور مذہبی آزادی حاصل ہے۔ پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ نے ایوان میں کھڑے ہو کر کہا کہ اقلیتیں میرے سر کا تاج ہیں، مریم نواز مختلف مواقع پر کہہ چکی ہیں کہ اقلیتیں میرے دل کے قریب ہیں، چیف منسٹر پنجاب نے یہاں تک کہا کہ اگر اقلیتوں کے خلاف کوئی ہاتھ اٹھے گا تو اُسے مریم نواز شریف روکے گی۔

کرسمس کے موقع پر 5 ہزار سے زائد مسیحیوں نے لاہور میں ریلی نکالی

رمیش سنگھ اروڑا کا کہنا تھا کہ کرسمس 2025 کے موقع پر پاکستان کی مسیحی کمیونٹی کے 5 ہزار سے زائد افراد نے لاہور کی سڑکوں پر ریلی نکالی اور خوشیاں منائیں، اُنہوں نے یسوع کے نام کے نعرے لگائے اور گیت گائے، لبرٹی چوک لاہور پر تاریخ میں پہلی بار 42 فٹ اونچا کرسمس ٹری لگا کر پوری دنیا کو پیغام دیا گیا کہ یہاں اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے۔ دنیا بھر سے جب سِکھ پاکستان آتے ہیں تو محبت و امن کا پیغام لے کر جاتے ہیں۔ پاکستان میں رہنے والا ہندو بھی کہتا ہے کہ مجھے پاکستان میں تحفظ حاصل ہے، آج ہم ہولی اور دیوالی منانے کیلئے رحیم یار خان اور بہاولپور جاتے ہیں اور وہاں کے ہندوؤں سے بات کرتے ہیں تو وہ ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگاتے ہیں۔

پاکستان چھوڑ کر نہیں جائیں گے

پاکستان کی تاریخ میں پہلے سِکھ رکنِ پنجاب اسمبلی رمیش سنگھ اروڑا نے بتایا کہ ہم پاکستان کی ایک مذہبی کمیونٹی ہیں، ہمارے آباء و اجداد نے 1947 میں فیصلہ کیا کہ ہم اپنی مٹی کو چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے، اِس میں کوئی شک نہیں کہ تب مسلمانوں نے بڑی قربانیاں دیں لیکن اُن کے ساتھ ساتھ ہم نے بھی قربانیاں دی ہیں۔ ہم نے جان و مال گنوا کر اور رشتہ داروں سے بچھڑ کر قربانیاں دی ہیں۔ ہم آج بھی پاکستان کو چھوڑ کر کہیں نہ جانے کے فیصلہ پر قائم ہیں۔

پاکستان کے عوام اقلیتوں کو عزت دینا جانتے ہیں

وزیرِ اقلیتی امور پنجاب رمیش سنگھ اروڑا نے مزید کہا کہ اِس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں کچھ گروہ اقلیتوں کو عدم تحفظ کا احساس دلانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن حکومت کی رِٹ قائم ہے اور میرے محکمہ کا وجود اِس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ پاکستانی ریاست، حکومت، وزیراعظم شہباز شریف، وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور سب سے بڑھ کر پاکستان کے عوام اقلیتوں کو عزت دینا جانتے ہیں۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times

Absolute cinema

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

error: