تجزیہ: امریکا ایران جنگ بندی کیلئے پاکستان کے سفارتی کردار نے بھارت کیلئے نئی تشویش پیدا کر دی، نیو یارک ٹائمز

امریکا ایران جنگ بندی کیلئے پاکستان کے سفارتی کردار اور ثالثی کی پیشکش نے بھارت کیلئے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پاکستان نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے تو پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔

spot_imgspot_img

نیویارک (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی اخبار ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کے مطابق پاکستان نے رواں ہفتے خود کو امریکا اور ایران کے درمیان ایک ممکنہ ثالث کے طور پر پیش کرتے ہوئے پسِ پردہ سفارتی کوششوں میں سرگرم کردار ادا کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سفارتی عمل سے واقف حکام نے بتایا ہے کہ پاکستان نے جنگ کے خاتمہ کیلئے امریکا کی تیار کردہ 15 نکاتی تجویز تہران کی قیادت تک پہنچائی اور امن مذاکرات کیلئے میزبانی کی پیشکش بھی کی۔

نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ پاکستان کی اِس سفارتی سرگرمی نے بھارت کیلئے ایک نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ پاکستان کا ہمسایہ اور روایتی حریف بھارت اِس پیش رفت کو محتاط نظر سے دیکھ رہا ہے کیونکہ پاکستان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کرتا دکھائی دے رہا ہے جبکہ بھارت اور امریکا کے تعلقات حالیہ عرصہ میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق جس روز پاکستان کے اِس سفارتی اقدام کی خبر سامنے آئی، اُسی روز نئی دہلی میں امریکی سفیر نے اعلان کیا کہ صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے۔ اِس گفتگو کی تفصیلات عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئیں تاہم مودی نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر کہا کہ دونوں راہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے رابطے میں رہنے پر اتفاق کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا انتہائی اہم قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش بھارت اور پاکستان سمیت ایشیاء کے بیشتر ممالک کیلئے شدید معاشی خطرہ بن سکتی ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق نئی دہلی کے قریب شیو نادر یونیورسٹی میں سفارت کاری کے ایک پروفیسر نے کہا ہے کہ عموماً ثالثی کا کردار اقوامِ متحدہ یا قطر جیسے ممالک ادا کرتے ہیں لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقوامِ متحدہ کے بارے میں منفی رائے اور ایران کی جانب سے قطر پر حملوں نے متبادل راستے کی ضرورت پیدا کر دی ہے جس کے باعث پاکستان ایک ممکنہ اختیار کے طور پر سامنے آیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کئی حوالوں سے اِس کردار کیلئے موزوں سمجھا جا رہا ہے۔ ایران کے ساتھ طویل سرحد رکھنے والا پاکستان امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتا ہے اور سعودی عرب و چین کے ساتھ پاکستان کے دفاعی معاہدے بھی موجود ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق گزشتہ موسم گرما میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مختصر مگر شدید کشیدگی کے بعد، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حل کرنے کا دعویٰ کیا تھا، پاکستانی قیادت کو واشنگٹن میں گرمجوشی والا استقبال بھی ملا۔

نیویارک ٹائمز لکھتا ہے کہ بھارت کے برعکس پاکستان تیسرے فریق کے طور پر ثالثی کیلئے نسبتاً زیادہ تیار دکھائی دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے معاملہ میں بھارت کی پوزیشن اُس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب وزیراعظم نریندر مودی نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ اپنے قریبی روابط کو نمایاں رکھا اور امریکا و اسرائیل کے ایران پر حملے سے دو روز قبل وہ تل ابیب میں نیتن یاہو کے مہمان تھے۔

سابق بھارتی سفارت کار ٹی سی اے راگھون، جنہوں نے پاکستان میں بھارتی مشن کی قیادت کی تھی، نے ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں زیادہ ہم آہنگی پیدا ہوئی ہے، اگر پاکستان ایران کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے تو پاکستان اور امریکا کے تعلقات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔

راگھون کا کہنا تھا کہ بھارت کو پاکستان سے تعلق رکھنے والا ہر معاملہ صفر جمع صفر گیم کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر امریکا ایران تنازع ختم ہوتا ہے تو یہ بھارت سمیت سب کیلئے فائدہ مند ہو گا۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق اگر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو امریکا کی جانب سے یقین دہانی درکار تھی تو امریکی محکمہ دفاع کے پالیسی امور کے نائب وزیر ایلبریج کولبی نئی دہلی میں موجود تھے۔ اُنہوں نے امریکا اور بھارت کے تعلقات کو مضبوط اور دیرپا قرار دیا اور بھارت کو امریکا کیلئے ایک ناگزیر شراکت دار بتایا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کولبی نے بھارت کو ایک اُبھرتی ہوئی طاقت قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ گزشتہ برس کے دوران امریکا اور بھارت کے تعلقات میں آنے والے تناؤ، جیسے ٹیرف اقدامات اور روسی تیل کی خریداری پر اختلافات، کو زیادہ نمایاں نہیں کیا گیا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام نے چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اب تنہا عالمی ضامن کا کردار ادا نہیں کرنا چاہتا اور وہ ایسے شراکت داروں کو ترجیح دیتا ہے جن کے پاس مضبوط عسکری صلاحیت موجود ہو۔

بھارت کی اپوزیشن پارٹی کانگریس کے راہنما جے آر رمیش نے کہا ہے کہ پاکستان نے بہتر سفارتی سرگرمی اور بیانیہ سازی کے ذریعہ بھارتی حکومت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق سابق سفارت کار راگھون نے یہ بھی کہا کہ بھارت میں ایک سوچ یہ تھی کہ پاکستان غیر متعلقہ ہو چکا ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، ایٹمی صلاحیت رکھتا ہے اور ایک انتہائی اہم جغرافیائی مقام پر واقع ہے جس کے باعث پاکستان کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

spot_img

خبریں

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

More from The Thursday Times

error: