چنائی، تامل ناڈو (تھرسڈے ٹائمز) — بھارتی اخبار ’’دی ہندو‘‘ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے دوران عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے، پاکستان کو تین اہم ممالک کی پشت پناہی حاصل ہے، بھارت کی تنہائی کی وجہ نریندر مودی کی شخصی سفارت کاری ہے، دنیا میں بھارت اور افغانستان کے علاوہ کوئی بھی پاکستان کو ظالم ریاست نہیں سمجھتا، مئی 2025 کے بھارت اور پاکستان کے تنازع میں دنیا نے پاکستان کے موقف کو زیادہ قبول کیا، آر ایس ایس (راشٹریہ سویئم سیوک سَنگھ) پاکستان کے ٹوٹنے کے خواب دیکھتا رہے گا مگر دنیا ایسا ہونے نہیں دے گی۔
دی ہندو کے مطابق ایران کے خلاف امریکا و اسرائیل کی جاری جنگ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ دنیا میں پاکستان کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ حقیقت بالی ووڈ بلاک بسٹر کے تحت جاری کی گئی اُس زہریلی فلم کے برعکس ہے جس میں پاکستان کو ایک بدمعاش ریاست کے طور پر پیش کیا گیا جبکہ موجودہ صورتحال بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) کے اُس بیانیہ سے بھی یکسر مختلف ہے جس میں پاکستان کو ایک بھکاری مُلک قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستان کی بڑھتی اہمیت بھارت کی اُس خارجہ پالیسی کی ناکامی دکھائی دیتی ہے جسے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے ’’عالمی مذاق‘‘ قرار دیا۔
بھارتی اخبار نے لکھا ہے کہ یہ کوئی حیران کن بات نہیں کیونکہ پاکستان کو تین اہم ممالک کی پشت پناہی حاصل ہے۔ چین، جو فی الحال پس منظر میں رہ کر وقت کا انتظار کر رہا ہے، پاکستان کا سدا بہار دوست رہا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب ہے جس نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا ہے اور جس پر الزام ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ جاری رکھنے کیلئے اُکسا رہا ہے تاکہ خطہ کی نئی تشکیل کی جا سکے۔ تیسری جانب متحدہ عرب امارات، جو ٹیکس ہیونز اور آزاد ماحول کا مرکز ہے اور 2020 کے ابراہم ایکرڈز کے بعد اسرائیل کے قریب سمجھا جاتا ہے، پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے کیلئے تقریباً 2 ارب ڈالرز کے قلیل مدتی ذخائر رکھتا ہے۔
دی ہندو لکھتا ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ممکنہ طور پر امن مذاکرات کیلئے امریکا کو اپنی خدمات اُس وقت پیش کیں جب واضح ہو گیا کہ امریکا نے ایک سٹریٹیجک غلطی کی ہے۔ ایران نے ٹرمپ کی 5 روزہ جنگ بندی اور 15 نکاتی امن تجویز کو فیک نیوز قرار دیا ہے کیونکہ تہران کا خیال ہے کہ ٹرمپ وقت حاصل کر رہے ہیں جبکہ 5 ہزار امریکی فوجی آبنائے ہرمز پر کنٹرول کیلئے تعینات ہو رہے ہیں۔ تہران کو جون 2025 اور پھر رواں برس 28 فروری کو مذاکرات کے دوران حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جیسا کہ عمان کے وزیرِ خارجہ نے بھی تصدیق کی۔ سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر کے بجائے، سی این این کے مطابق ایران امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کو ممکنہ مذاکرات کیلئے ترجیح دیتا ہے۔
کچھ لوگ پاکستان میں ہونے والے مذاکراتی عمل سے کوئی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں رکھتے لیکن یہ اصل نکتہ نہیں ہے۔ بھارت اور افغانستان کے علاوہ دنیا میں کوئی بھی پاکستان کو ظالم ریاست نہیں سمجھتا۔ پاکستان کی 245 ملین آبادی میں تقریباً 20 فیصد شیعہ ہیں جنہیں حکومتی کریک ڈاؤن اور سُنّی شدت پسند دونوں کا سامنا رہا ہے جس پر ایران نے بھی توجہ دی ہو گی۔ پاکستان ایران کا ہمسایہ ہونے کے باوجود ترکیہ کے زیادہ قریب ہے اور دونوں ایران کے قریبی اتحادی نہیں ہیں۔ اِس کے باوجود فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امن پیشکش کو پذیرائی ملی کیونکہ پینٹاگون کا پاکستانی فوج کے ساتھ پرانا تعلق ہے۔
دی ہندو کے مطابق بھارت بھی ایران کے ساتھ تاریخی تعلقات، ستر سالہ آزاد خارجہ پالیسی اور 3 کروڑ شیعہ آبادی کے باعث قیامِ امن کیلئے کردار ادا کر سکتا تھا لیکن رواں ہفتے امریکی صدر نے وزیراعظم نریندر مودی کو صرف پیش رفت سے آگاہ رکھنے کیلئے فون کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ عالمی مذاکرات کو کاروباری معاہدوں کی طرح دیکھتے ہیں اور اُن کیلئے تاریخ یا باریک سفارت کاری اہم نہیں۔
بھارت کیسے تنہا ہوا؟ اِس کی وجہ نریندر مودی کی شخصی سفارت کاری کو قرار دیا گیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے 25 اور 26 فروری کو اسرائیل کا دورہ کیا جو مبینہ طور پر آنے والی کارروائی کیلئے نیتن یاہو کو مبارک دینے کیلئے تھا۔ یہ دورہ عالمی سطح پر نوٹ کیا گیا۔ مودی نے بعد میں ایرانی اور خلیجی راہنماؤں کو فون کیا لیکن بیانات مبہم رہے جسے دنیا نے بھی دیکھا جبکہ بھارت میں بڑے فیصلوں پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہ لینے کو بھی عالمی سطح پر نوٹ کیا گیا۔
بھارتی اخبار نے لکھا ہے کہ نریندر مودی کے حامی اِس صورتحال سے بےخبر ہیں۔ وہ اب بھی قیادت کی تعریف کرتے ہیں جیسے 2022 میں اُنہیں یقین تھا کہ مودی روس یوکرین جنگ فوراً ختم کرا دیں گے۔
مئی 2025 کے بھارت اور پاکستان کے تنازع میں دنیا نے پاکستان کے موقف کو زیادہ قبول کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کا کریڈٹ لیا اور پاکستان نے اُنہیں نوبل امن انعام کیلئے نامزد بھی کیا۔ بھارت شاید کم سفارتی نقصان اٹھاتا اگر وہ بھی ساتھ دیتا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نریندر مودی نے امریکی ٹیرف منسوخی سے قبل تجارتی معاہدہ کیا اور بعد میں روسی تیل خریدنا بھی روک دیا۔ روسی رعایتیں اب بھارت کی بجائے پاکستان کو مل رہی ہے۔
دی ہندو نے لکھا ہے کہ چاہے مذاکرات ہوں یا نہ ہوں، پاکستان کو ایک اور سفارتی کامیابی حاصل ہو چکی ہے۔ آر ایس ایس (راشٹریہ سویئم سیوک سَنگھ) پاکستان کے ٹوٹنے کے خواب دیکھتا رہے گا مگر دنیا ایسا ہونے نہیں دے گی۔ پاکستان کو معاشی مشکلات کا سامنا رہے گا مگر طویل مدت میں عالمی سیاست تبدیل ہو سکتی ہے۔
امریکا بھی ہمیشہ بھارت کو پاکستان پر ترجیح نہیں دے گا۔ داخلی سیاست اُسے اندرونی معاملات پر توجہ دینے پر مجبور کرے گی جبکہ چین عالمی خلاء کو پُر کرے گا۔ مصنف کے مطابق بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
بھارتی اخبار کے مطابق ہندوستان وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کا یہ کہنا کہ بم’’بھارت بروکر مُلک نہیں ہے‘‘ اصولی موقف سے زیادہ حسد کی عکاسی کرتا ہے۔







