واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی درخواست پر ایرانی انرجی تنصیبات پر حملے مزید 10 دن کیلئے ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر جاری کیے گئے اپنے پیغام میں اعلان کیا ہے کہ میں ایران کی جانب سے درخواست پر ایران کی انرجی تنصیبات کی تباہی کو 10 روز تک کیلئے ملتوی کر رہا ہوں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقی وقت کے مطابق 6 اپریل 2026 بروز سوموار رات 8 بجے تک کیلئے امریکی حملے ملتوی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مذاکرات جاری ہیں جو فیک نیوز میڈیا (جعلی خبریں پھیلانے والے ذرائع ابلاغ) اور بعض دیگر حلقوں کے غلط بیانات کے برعکس بہت اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان پسِ پردہ سفارتی رابطوں میں ایک اہم کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ برطانوی نیوز ایجنسی ’’رائٹرز‘‘ کے مطابق امریکی ایلچی سٹیو وِٹکوف نے کہا ہے کہ امریکا اور اُس کی خارجہ پالیسی ٹیم نے امن معاہدے کیلئے ایک 15 نکاتی ایکشن پلان تیار کیا جو پاکستان نے ثالث کے طور پر ایران تک پہنچایا۔
سٹیو وِٹکوف کے مطابق اِس فریم ورک کے بعد بات چیت میں مضبوط اور مثبت اشارے سامنے آئے ہیں۔ اُنہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ پاکستان فریقین کے درمیان رابطہ کاری میں کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان کی یہ سفارتی سرگرمی اب محض پس منظر کی خبر نہیں رہی بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کے دوران ایک قابلِ ذکر پیش رفت کے طور پر اُبھر رہی ہے۔
رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق واشنگٹن سے تہران تک پہنچایا گیا امریکی 15 نکاتی منصوبہ بھی پاکستان کے ذریعہ منتقل کیا گیا جبکہ اسلام آباد کشیدگی کم کرنے اور امن و مفاہمت کیلئے مسلسل مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران توانائی تنصیبات پر امریکی حملوں میں یہ عارضی وقفہ اور پاکستان کے ذریعہ پیغامات کی ترسیل اِس بات کا عندیہ ہیں کہ سفارت کاری نے کم از کم وقتی طور پر عسکری دباؤ پر سبقت حاصل کر لی ہے۔ اگر یہ سلسلہ برقرار رہتا ہے تو اسلام آباد کی کوششیں خطہ میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت کی بنیاد بن سکتی ہیں۔




