واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی سِکھ راہنما گُرپتونت سنگھ پنّوں اور اُن کی تنظیم ’’سِکھ فار جسٹس‘‘ نے پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو امن کے نوبل انعام 2027 کیلئے نامزد کر دیا، ناروے کی نوبل کمیٹی کو باضابطہ درخواست جمع کروا دی گئی۔
سِکھ فار جسٹس (ایس ایف جے) کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان سخت کشیدگی کے دوران جنگ بندی کو ممکن بنانے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اہم کردار کے باعث دونوں کو نوبل پیس ایوارڈ کیلئے نامزد کیا گیا ہے، اِس مرحلہ پر آبنائے ہرمز کی بندش عالمی توانائی منڈیوں اور علاقائی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ بن چکی تھی اور کسی بھی قسم کی مزید فوجی کارروائی وسیع پیمانے پر تصادم میں تبدیل ہو سکتی تھی۔
امریکا میں قائم سِکھ تنظیم کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کے ذریعہ کمانڈ ڈپلومیسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست رابطے کو ممکن بنایا اور کشیدگی کم کرنے میں فیصلہ کُن کردار ادا کیا۔ سِکھ فار جسٹس کے مطابق پاکستان کی جانب سے اِس مداخلت نے نہ صرف سیز فائر کی راہ ہموار کی بلکہ مذاکراتی عمل کو بھی ممکن بنایا۔
سِکھ فار جسٹس کے بانی و راہنما گُرپتونت سنگھ پنّوں نے کہا ہے کہ جو کچھ اقوامِ متحدہ بھی بروقت حاصل نہ کر سکی وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے براہِ راست سفارتی مداخلت کے ذریعہ حاصل کر دکھایا، امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کو آئندہ صدی کیلئے امن کے نجات دہندہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
امریکی سِکھ راہنما گُرپتونت سنگھ پنّوں کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر جیمز ڈیوڈ وینس (جے ڈی وینس) نے بھی جنگ بندی کے عمل میں اہم سیاسی فیصلہ ساز کے طور پر کردار ادا کیا ہے اور ممکنہ تصادم کو مذاکراتی وقفے میں تبدیل کرنے کیلئے سفارتی عمل کی حمایت کی ہے۔
سِکھ فار جسٹس (ایس ایف جے) نے نامزدگی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کے حوالہ سے چند اہم نکات بھی پیش کیے ہیں جن میں وسیع پیمانے پر مسلح تصادم کو روکنا، امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو یقینی بنانا، علاقائی عدم استحکام کو قابو میں رکھنا، عالمی سلامتی اور توانائی نظام کو مستحکم کرنا اور تصادم کو مذاکرات میں تبدیل کرنا شامل ہے۔
امریکا سمیت 5 اہم ممالک میں سرگرم تنظیم ’’سِکھ فار جسٹس‘‘ نے کہا ہے کہ پاکستان کی مداخلت ایسے وقت میں سامنے آئی جب جنگ کے پھیلنے کا خطرہ انتہائی قریب تھا اور اُس کے اثرات نہ صرف پورے خطہ میں پھیل سکتے تھے بلکہ خطہ سے باہر تک بھی جا سکتے تھے۔ اِس اقدام کو عالمی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم مثال قرار دیا گیا۔
سِکھ فار جسٹس نے پاکستان اور امریکا سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے اِس ماڈل کو ’’خالصتان ریفرنڈم‘‘ کے حامیوں اور بھارتی حکومت کے درمیان جاری تنازع پر بھی لاگو کریں۔ سِکھ راہنما گُرپتونت سنگھ پنّوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام پنجاب میں صورتحال خطرناک ہے جبکہ نریندر مودی (بھارتی وزیراعظم) کی حکومت خالصتان کے حامیوں کے خلاف سخت اقدامات کر رہی ہے۔




