ریاض (تھرسڈے ٹائمز) — سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی انتظام کے تحت پاکستانی فوجی دستہ، جس میں لڑاکا و معاون طیارے بھی شامل ہیں، الظھران میں واقع کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پر پہنچ گیا ہے۔ یہ اقدام خلیجی خطہ میں دونوں ممالک کے درمیان قریبی دفاعی تعلقات کا عملی نمونہ ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اِس تعیناتی کا مقصد مشترکہ فوجی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانا، دونوں افواج کی عملی تیاری کو مزید بہتر کرنا اور علاقائی و عالمی سطح پر سیکیورٹی اور استحکام کی حمایت کرنا ہے۔ سعودی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی اِس اعلان کے بعد اِنھی مقاصد کو نمایاں کیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے حساس وقت پر سامنے آئی ہے جب اسلام آباد امریکا ایران تنازع کو مستحکم انداز میں حل کرنے کی کوششوں کے تحت مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے جس کے باعث پاکستان عالمی سطح پر ایک غیر معمولی اہمیت حاصل کر گیا ہے۔ اسلام آباد ایک جانب امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے اور دوسری جانب سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے (جوائنٹ سٹریٹیجک ڈیفینس ایگریمنٹ) کے تحت اُس کا اہم شراکت دار بھی ہے۔ رائٹرز کے مطابق سعودی وزارتِ دفاع کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان ایران سے متعلق تنازع ختم کرنے کیلئے مذاکرات کی میزبانی کر رہا تھا۔
موجودہ حالات اِس تعیناتی کو محض ایک معمول کی فوجی نقل و حرکت سے زیادہ اہم بناتے ہیں۔ کنگ عبدالعزیز ایئر بیس سعودی عرب کے مشرقی صوبہ میں واقع ہے جو خلیج کے حساس توانائی اور بحری راستوں کے قریب شمار ہوتا ہے۔ عام حالات میں بھی اتحادی طیاروں کی آمد اہم سمجھی جاتی ہے تاہم موجودہ صورتحال میں اِسے ریاض کیلئے اطمینان اور خطہ کیلئے ایک واضح پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی تعلق عملی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔
رائٹرز کے مطابق سعودی عرب اور پاکستان نے ستمبر 2025 میں باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اِس معاہدے نے دونوں ممالک کے دیرینہ سیکیورٹی تعلقات کو مزید گہرا اور مضبوط کر دیا جن میں تربیت، ہم آہنگی اور فوجی تعاون پہلے ہی شامل تھے۔ ہفتہ کے روز یہ تعیناتی باہمی دفاعی معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کی نمایاں مثالوں میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے۔
سعودی بیان یا ابتدائی رپورٹس میں پاکستانی دستے کے حجم یا مشن کی مدت کے بارے میں تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔ تاہم واضح ہے کہ ریاض نے یہ اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب خلیجی استحکام، بحری رسائی اور بحران سے متعلق سفارت کاری غیر معمولی دباؤ میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اِس اقدام کو اسلام آباد اور ریاض سے کہیں آگے بھی غور سے دیکھا جائے گا۔




