اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — امریکا ایران کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر توانائی کا بحران، وفاقی حکومت کی جانب سے ایک بار پھر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا اعلان کر دیا گیا۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 5 روپے 44 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 31 روپے 5 پیسے اضافہ کا اعلان کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کے مطابق پیٹرول 316 روپے 15 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر دستیاب ہو گا۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے حوالہ سے جاری کیے گئے پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفیکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے 20 جولائی تک ہو گا۔
قبل ازیں وفاقی وزیرِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک نے وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی منڈیوں میں آنے والا بھونچال ایک بار پھر بڑھتا دکھائی دے رہا ہے، پلیٹس (توانائی و خام مال کی قیمتوں کا تعین کرنے والا سب سے بڑا ادارہ) میں ڈیزل 110 ڈالرز سے بڑھ کر 140 ڈالرز جبکہ پیٹرول 89 ڈالرز سے بڑھ کر کم و بیش 100 ڈالرز کی سطح تک پہنچ چکا ہے۔
علی پرویز ملک نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران جنگ سے قبل 27 اور 28 فروری کو پیٹرول لیوی اور کاربن سپورٹ لیوی کی جو سطح تھی، آج بھی ہماری قیمتوں کی سطح اُس سے کہیں کم ہے۔ تیل کی قیمتوں میں لیوی کے حوالہ سے معاہدوں کے علاوہ کوئی اضافی بوجھ عوام پر نہیں ڈالا گیا۔
اُنہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ اوگرا کو اب یہ ذمہ داری دی جائے گی کہ وہ روزانہ کی بنیادوں پر عالمی منڈیوں کے مطابق تیل کی قیمتوں کا تعین کرے، اوگرا نہ صرف پلیٹس (توانائی و خام مال کی قیمتوں کا تعین کرنے والا سب سے بڑا ادارہ) کا ریٹ ویب سائٹ پر شائع کرے گا بلکہ پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں کے پیچھے موجود تمام عناصر کو بھی عوام کے سامنے رکھے گا۔
وفاقی وزیرِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم جو فیصلہ کر رہے ہیں وہ تکلیف دہ ضرور ہو گا لیکن وہ ریاست کو مضبوط کرنے کیلئے ضروری ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے 10 جولائی کو بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھانے کا اعلان کیا گیا تھا جس کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے 18 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 13 روپے 80 پیسے اضافہ کیا گیا تھا۔




