spot_img

پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں

پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات جولائی 2026 میں پہلی مرتبہ 1.833 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین ماہانہ سطح ہے۔ صرف ایک ماہ میں 43 فیصد اضافے کے ساتھ ٹیکسٹائل شعبہ نئے مالی سال کے آغاز میں بھی پاکستان کی برآمدی معیشت کا سب سے بڑا ستون بن کر سامنے آیا۔

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات نے نئے مالی سال کا آغاز ایک تاریخی ریکارڈ کے ساتھ کیا ہے۔ جولائی 2026 میں ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات 1.833 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ملکی تاریخ میں کسی ایک ماہ کے دوران اس شعبے کی سب سے زیادہ برآمدات ہیں۔ جون 2026 کے مقابلے میں یہ 43 فیصد جبکہ جولائی 2025 کے مقابلے میں 9.11 فیصد اضافہ ہے۔

پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق جولائی میں پاکستان کی مجموعی برآمدات 2.96 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے 2.69 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد زیادہ ہیں۔ اس طرح ٹیکسٹائل شعبہ تنہا ملک کی مجموعی برآمدات کا تقریباً 62 فیصد حصہ لے کر پاکستان کی برآمدی معیشت کا سب سے بڑا محرک بن کر سامنے آیا۔

اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 میں ٹیکسٹائل برآمدات 1.282 ارب ڈالر تھیں، جو صرف ایک ماہ میں بڑھ کر 1.833 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ایک ماہ میں 551 ملین ڈالر کا اضافہ حالیہ برسوں میں اس شعبے کی سب سے نمایاں کارکردگی قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے اس پیش رفت کو نئے مالی سال کیلئے “انتہائی مثبت آغاز” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت برآمد کنندگان کو توانائی، مالیاتی سہولتوں اور کاروباری ماحول میں مزید استحکام فراہم کرے تو آئندہ مہینوں میں برآمدات مزید بڑھ سکتی ہیں۔

گزشتہ مالی سال 2025-26 کے دوران بھی پاکستان کے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل شعبے نے نمایاں ترقی کی۔ ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات پہلی مرتبہ 4.18 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 5.5 فیصد زیادہ ہیں۔ ایک دہائی قبل 2015-16 میں یہی برآمدات صرف 1.97 ارب ڈالر تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان بتدریج خام کپاس اور دھاگے کی برآمد سے آگے بڑھ کر زیادہ منافع بخش تیار ملبوسات اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔

پاکستان کا ٹیکسٹائل شعبہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے مطابق یہ شعبہ ملک کی مجموعی صنعتی پیداوار کا تقریباً 46 فیصد حصہ رکھتا ہے جبکہ براہِ راست اور بالواسطہ طور پر تقریباً 40 فیصد افرادی قوت کا روزگار اسی صنعت سے وابستہ ہے۔

پاکستان دنیا میں کپاس پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک اور اس کا تیسرا بڑا صارف ہے، جبکہ ایشیا میں ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کرنے والے ممالک میں اس کا شمار آٹھویں نمبر پر ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جولائی کے غیر معمولی اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر پیداواری لاگت، توانائی کی قیمتوں، برآمدی مراعات اور کاروباری سہولتوں میں تسلسل برقرار رکھا جائے تو ٹیکسٹائل شعبہ نہ صرف پاکستان کی برآمدات کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر، صنعتی سرگرمیوں اور روزگار میں بھی نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times