spot_img

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ریاض میں اہم دفاعی معاہدہ آج متوقع

ریاض (تھرسڈے ٹائمز) سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ایک اہم سہ فریقی دفاعی معاہدے پر آج (جمعہ) سعودی عرب میں دستخط متوقع ہیں، جس کے ذریعے تینوں ممالک دفاع، سلامتی، عسکری تعاون اور خطے کے تیزی سے بدلتے ہوئے سکیورٹی منظرنامے میں باہمی اشتراک کو نئی سطح پر لے جائیں گے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے خطے کے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان آج ایک روزہ سرکاری دورے پر ریاض پہنچیں گے، جہاں اُن کی سعودی ولی عہد اور وزیرِاعظم شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی مذاکرات میں شرکت کیلئے پہلے ہی سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بھی سعودی حکومت کے قریبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ تینوں ممالک کے قائدین جمعہ کو ایک سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

مجوزہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 17 ستمبر 2025 کو ریاض کے قصر الیمامہ میں طے پانے والے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر استوار ہوگا، جس کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستانی حکام اس امر پر زور دیتے رہے ہیں کہ مجوزہ سہ فریقی معاہدہ دوطرفہ دفاعی معاہدے کا متبادل نہیں بلکہ اُس کی توسیع اور ایک وسیع تر علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کا حصہ ہوگا۔

وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج اس سے قبل رائٹرز کو بتا چکے ہیں کہ سہ فریقی دفاعی معاہدے کا مسودہ تینوں حکومتوں کے پاس زیرِ غور ہے اور تقریباً دس ماہ سے اس پر مشاورت جاری ہے۔ اُن کے مطابق معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تینوں کا متفق ہونا ضروری ہے۔ دوسری جانب ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان بھی اس عمل کو کسی رسمی فوجی اتحاد کے بجائے وسیع علاقائی تعاون کے تناظر میں بیان کر چکے ہیں۔

اس مجوزہ معاہدے کا وقت بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر کشیدگی برقرار ہے، جبکہ ایران کی جانب سے گزشتہ ماہ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی معطلی کے اعلان کے بعد خطے میں نئی سفارتی اور سکیورٹی صف بندیاں تیز ہو گئی ہیں۔

دفاعی و سفارتی ماہرین کے مطابق مجوزہ سہ فریقی تعاون کا مقصد کسی ایک ملک کے خلاف اتحاد قائم کرنا نہیں بلکہ خطے میں غیر یقینی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں دفاعی روابط کو مضبوط بنانا ہے۔ سعودی عرب اپنی سلامتی کیلئے شراکت داروں کا دائرہ وسیع کر رہا ہے، ترکیہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے تزویراتی کردار کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے، جبکہ پاکستان خلیجی ممالک سے آگے بڑھ کر پورے خطے میں اپنے دفاعی اور سفارتی اثر و رسوخ کو وسعت دے رہا ہے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان نے مسلم دنیا میں دفاعی شراکت داریوں کو نمایاں طور پر فروغ دیا ہے۔ سعودی عرب کے بعد گزشتہ ماہ کویت نے بھی پاکستان کے ساتھ 2023 میں طے پانے والے دفاعی تعاون کے معاہدے کی باضابطہ توثیق کر دی، جبکہ سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے دفاعی انتظامات پر پیش رفت کر رہا ہے۔ ان تمام معاہدوں کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور صنعتی تعاون کو بھی یکساں اہمیت دی جا رہی ہے، جو پاکستان کی ابھرتی ہوئی علاقائی حکمتِ عملی کا اہم حصہ سمجھی جا رہی ہے۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times