اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ 79 سالوں سے جاری نظام کو ری سیٹ کرنا ضروری ہے، موجودہ انتظامی ڈھانچہ بڑی حد تک اپنی افادیت کھو چکا ہے اور اِس کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ رہے، میں نوکری پر رہوں یا نہ رہوں لیکن اب پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور گڈ گورننس کے حوالہ سے نیشنل پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے نظام کو ری سیٹ کرنے کی بات کی تو اُس کی مختلف تشریحات کی گئیں، میرا اشارہ کسی ایک سیاسی جماعت یا سیاسی بندوبست کی طرف نہیں تھا۔
محسن نقوی نے کہا کہ اگر ہم 79 سالوں سے جاری نظام میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پا رہے تو اُسے ری سیٹ کرنا ضروری ہے، حکومتیں اور پالیسیز بدلتی رہتی ہیں جبکہ بجٹس اور منصوبے بھی لائے جاتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ہم کتنا ڈیلیور کر رہے ہیں؟
اُنہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ری سیٹ کا مطلب نظام کو توڑنا نہیں بلکہ جہاں خرابی ہو اُسے درست کرنا ہے، ہمارا موجودہ انتظامی ڈھانچہ بڑی حد تک اپنی افادیت کھو چکا ہے اور اِس کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ رہے، یہ تبدیلی آئین کے اندر رہتے ہوئے جمہوری و سیاسی اتفاقِ رائے اور عوامی مرضی کے تحت ہونی چاہیے۔
ری سیٹ کا مطلب نظام توڑنا نہیں، بلکہ جہاں خرابی ہو اُسے درست کرنا ہے۔
ہمارا موجودہ انتظامی ڈھانچہ بڑی حد تک افادیت کھو چکا ہے اور اِس کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ رہے۔
یہ تبدیلی آئین کے اندر رہتے ہوئے جمہوری و سیاسی اتفاقِ رائے اور عوامی مرضی سے ہونی چاہیے۔ اگر عوام نئے انتظامی… pic.twitter.com/c6BBVBQLju— The Thursday Times (@thursday_times) September 5, 2026
وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے معاملہ پر بڑی جذباتی تقریریں کی جا رہی ہیں، کسی کو جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اِس حوالہ سے آپ کی رائے اہم نہیں بلکہ صرف عوام کی رائے اہمیت رکھتی ہے، اگر عوام چاہیں گے تو نئے انتظامی یونٹس ضرور بنیں گے ورنہ ایسا نہیں ہو گا، اب تک تمام سرویز اِس کے حق میں جا رہے ہیں۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ہم تحصیل، ضلع اور ڈویژن بنانے پر آمادہ ہیں، لیکن جیسے ہی نئے انتظامی یونٹس یا اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کی بات ہوتی ہے تو اعتراضات شروع ہو جاتے ہیں۔ اب یہ ہچکچاہٹ دور کرنے کی ضرورت ہے، کوئی اقدام غیر آئینی نہیں ہونا چاہیے، آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ہمارے پاس انتظامی اصلاحات اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کیلئے کافی گنجائش موجود ہے۔
اُنہوں نے اسلام آباد کو صوبہ بنانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اسلام آباد کو صوبہ بنانے کا سب سے بڑا حامی ہوں، پاکستان میں ہر شہری کو این ایف سی ایوارڈ میں اُس کا حصہ ملتا ہے مگر اسلام آباد واحد شہر ہے جس کے شہریوں کو این ایف سی سے کچھ نہیں مل رہا، اسلام آباد کو پاکستان کے بجٹ سے بھی کوئی باقاعدہ حصہ نہیں ملتا، اسلام آباد کو صوبہ بنانے کیلئے سب کو مل کر کوشش کرنی چاہیے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ نے میئر سسٹم کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ طیب اردوغان، صادق خان اور ظہران ممدانی جیسے لوگوں نے میئر منتخب ہو کر نظام چلایا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایک میئر دیگر سیاستدانوں کی نسبت عوامی مسائل سے زیادہ واقف ہوتا ہے اور بہتر انداز میں حکومت چلا سکتا ہے۔
محسن نقوی نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اب جو مرضی کر لیں، ممدانی اور صادق خان تو ضرور آئیں گے، میں نوکری پر رہوں یا نہ رہوں لیکن اب پیچھے نہیں ہٹوں گا۔




