Urdu

مزید مضامین

انصاف کا نظام یا پاپولسٹ نظام؟

کیا ججز کو آئین و قانون کی بجائے پاپولزم کی بنیاد پر فیصلے کرنے چاہئیں؟ کیا کسی مجرم کو اس بنیاد پر ماورائے قانون ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے کہ اس کے ملین فالورز ہیں؟ پاپولزم کی بنیاد پر کیے گئے فیصلے عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری پر بھی سوالات بن کر سامنے آتے ہیں۔

مجھے کیوں نکالا؟ پارٹ ٹو

This article originally appeared in WeNews.نواز شریف کے تیسرے...

پاکستان کا سفر – مجیب الرحمٰن سے عمران خان تک

شیخ مجیب الرحمٰن کی وڈیو جاری کر کے عمران خان نے قوم سے آدھا سچ بولا ہے جو جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہے۔ ہمارے ملک کے نوجوانوں کو بس یہ بات یاد رکھنی ہے کہ پہلے دشمن ہماری سرحدوں پر حملہ کرتا تھا اب ہماری نوجوان نسل سے آدھا سچ بول کر ان کی سوچ کو پامال کرتا ہے۔ مجیب الرحمٰن سے لیکر عمران خان تک کے سفر میں پاکستان کو دشمنوں کے ساتھ اپنوں نے بھی مسلسل ڈسا ہے۔

انصاف کے پیمانے: شہداء کی توہین یا منصف کی انا کی تسکین

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے خط نہیں لکھا، اس...

جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے تحریکِ عدم اعتماد لانے کیلئے کہا تھا، مولانا فضل الرحمٰن

جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے تحریکِ عدم اعتماد لانے کیلئے کہا تھا، یہ تحریک پیپلز پارٹی نے چلائی تھی لیکن میں اس کے حق میں نہ تھا، تحریکِ انصاف کو فائدہ پہنچانے کیلئے ہمارے ساتھ دھاندلی کی گئی، اب فیصلے میدان میں ہوں گے۔

ہم دن ہی منایا کرتے ہیں

ہم نے کبھی عملی طور پر کچھ نہیں کیا، ہم پاکستان کو ویسا نہ بنا سکے جیسا ایک آزاد، خودمختار اور جمہوری ریاست کو ہونا چاہیے، ہم نے ایک سال بعد 9 مئی بھی منایا ہے مگر مجرموں کو اب تک سزائیں نہیں دی جا سکیں کیونکہ ’’ہم دن ہی منایا کرتے ہیں‘‘۔

نوازشریف اور مفروضے

ہر خاموشی کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ میاں صاحب نے بھی اپنی خاموشی کی قیمت وصول کی ہے اور یہ بات جتنی جلدی اور جتنی اچھی طرح سے سمجھ لیں اتنا بہتر ہے کیونکہ پھر ہمیں نہ تو میاں صاحب کے حکومت نہ لینے پر افسوس ہو گا، نہ شہبازشریف کابینہ پر اعتراض ہو گا اور نہ ہی ہم کسی کے الیکشن ہارنے اور جیتنے میں سازش کے کوئی پہلو تلاش کریں گے۔

وقت کی گواہی

خوشگوار صبح میں (ویسے یہاں ہر صبح ہی خوشگوار ہوتی ہے) جہاں ایک طرف خوشی و انبساط کی لہر تھی تو دوسری طرف شامِ غریباں کی سی کیفیت تھی۔

امیرالمؤمنین سیدنا معاویہؓ بن ابی سُفیانؓ

سیدنا معاویہؓ بن ابی سُفیانؓ جلیل القدر صحابیِ رسولﷺ ہیں اور ان چند گِنی چُنی ہستیوں میں سے ایک ہیں جن کے احسانات امتِ مسلمہ کبھی فراموش نہیں کر سکتی، معاویہؓ ان چند کِبار صحابہؓ میں سے ہیں جنہیں آقاﷺ کی خدمت میں مسلسل حاضری اور اللّٰه کی جانب سے نازل ہونے والی وحی کی کتابت کا شرف حاصل ہوا۔

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

آج جو کچھ عمران خان کے ساتھ ہو رہا ہے اس کو نظام کا مزید بےنقاب ہونا نہیں کہتے بلکہ نظام کا اپنے انجام تک پہنچنا کہتے ہیں، چند برس پہلے تک جو عناصر اس بدبودار نظام کے سب سے بڑے بینفیشریز تھے ان کا انجام تک پہنچنا ہی دراصل اس بدبودار نظام کی موت ہے۔
error: