spot_img

Columns

Columns

News

بچوں اور عورتوں سے زیادتی کے مجرموں کو نشان عبرت بنایا جائیگا، وزیراعلی پنجاب مرم نواز

بچوں اور عورتوں سے زیادتی کے مجرموں کو عبرت کا نشان بنایا جائیگا، یہ جرم ناقابل ضمانت ہوگا۔ پولیس کو کرپشن اور جرائم پیشہ عناصر کے مددگاروں سے پاک کرنے اور پولیس میں کرپشن کی نشاندہی کیلئے سپیشل آڈٹ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

بہاولنگر افسوسناک واقعہ پر پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں پر مشتمل مشترکہ ٹیم انکوائری کرے گی، آئی ایس پی آر

بہاولنگر میں پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کو فوج اور پولیس حکام کی مشترکہ کوششوں سے فوری حل کیا گیا، سوشل میڈیا پر کچھ عناصر نے منفی پروپیگنڈا کیا، پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں پر مشتمل ٹیم انکوائری کرے گی۔

آئرلینڈ بہت جلد فلسطین کو تسلیم کرنے جا رہا ہے، آئرش وزیرِ خارجہ و ڈپٹی وزیراعظم میخال مارٹن

آئرلینڈ بہت جلد فلسطین کو باضابطہ طور پر ایک ریاست تسلیم کرنے جا رہا ہے، غزہ کے لوگوں پر جاری بمباری کی بھرپور مذمت کرتا ہوں، اس میں کوئی شک نہیں کہ جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے، کوئی شک نہیں کہ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کیا جائے گا۔

Death sentence for Vietnamese property tycoon in record US$27bn fraud case

Truong My Lan, a prominent Vietnamese real estate magnate, was sentenced to death in Ho Chi Minh City for orchestrating a US$27 billion fraud, the largest in the country's history, affecting nearly 6% of its GDP.

حماس راہنما اسماعیل ہنیہ کے تین بیٹے اور تین پوتے اسرائیلی فضائی حملہ میں جاں بحق ہو گئے

حماس کی سیاسی بیورو کے چیئرمین اسماعیل ہنیہ کے تین بیٹے اور تین پوتے غزہ میں اسرائیلی فضائی حملہ میں جاں بحق ہو گئے۔
Op-Edنوازشریف اور مفروضے
spot_img

نوازشریف اور مفروضے

ہر خاموشی کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ میاں صاحب نے بھی اپنی خاموشی کی قیمت وصول کی ہے اور یہ بات جتنی جلدی اور جتنی اچھی طرح سے سمجھ لیں اتنا بہتر ہے کیونکہ پھر ہمیں نہ تو میاں صاحب کے حکومت نہ لینے پر افسوس ہو گا، نہ شہبازشریف کابینہ پر اعتراض ہو گا اور نہ ہی ہم کسی کے الیکشن ہارنے اور جیتنے میں سازش کے کوئی پہلو تلاش کریں گے۔

Op-Ed
Op-Ed
Want to contribute to The Thursday Times? Get in touch with our submissions team! Email views@thursdaytimes.com
spot_img

ہر خاموشی کی ایک قیمت ہوتی ہے۔

میاں صاحب نے بھی اپنی خاموشی کی قیمت وصول کی ہے اور یہ بات جتنی جلدی اور جتنی اچھی طرح سے سمجھ لیں اتنا بہتر ہے کیونکہ پھر ہمیں نہ تو میاں صاحب کے حکومت نہ لینے پر افسوس ہو گا، نہ شہبازشریف کابینہ پر اعتراض ہو گا اور نہ ہی ہم کسی کے الیکشن ہارنے اور جیتنے میں سازش کے کوئی پہلو تلاش کریں گے۔

پاکستانی سیاست آج بھی ڈرائنگ روم فیصلوں کی محتاج ہے۔ اگرچہ میاں صاحب نے کہا تھا کہ اب کوئی فیصلہ ڈرائنگ روم میں نہیں ہو گا بلکہ عوام کے سامنے ہو گا لیکن یہ نعرہ حقیقت نہیں بن سکا کیونکہ اس ملک کے حقیقی حکمران ایسا ہونے نہیں دیتے اور ان کی مرضی کے بغیر یہاں کوئی سیاست کر نہیں سکتا۔ وجوہات کچھ بھی ہوں لیکن بہرحال پاکستان میں سیاست کبھی ڈرائنگ روم سے باہر آ ہی نہیں سکی۔

خیر بات ہو رہی تھی خاموشی کی قیمت وصولی کی تو میاں صاحب نے یہ قیمت اپنی بیٹی کے لیے سسٹم میں گنجائش حاصل کرنے کی شکل میں وصول کی۔ اگرچہ مریم نواز کا اپنا بھی ایک سیاسی سفر ہے اور گزرے سالوں میں جب انہیں اپنے باپ کی کمزوری سمجھا گیا تو انہوں نے جھکنے یا کوئی دباؤ قبول کرنے کی بجائے فرنٹ سے قیادت کی اور خود کو بطور مزاحمتی سیاستدان کے منوایا۔ مریم نواز کی مزاحمتی سیاست سے مفاہمت اور انتخابی سیاست کے جو دروازے ن لیگ پر کھلے وہ میاں صاحب کی سیاسی بصیرت کا شاخسانہ ہیں۔ پھر میاں صاحب نے صرف بیٹی ہی کے لیے نہیں اپنے بھائی اور اپنے نام سے بنی مسلم لیگ کے لیے بھی اقتدار میں وہ جگہ حاصل کی جہاں سے ن لیگ اور شریف برادران پر کراس لگا کر انہیں نکالا گیا۔ اگرچہ یہاں بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ شہبازشریف کی بطور وزیر اعلیٰ پنجاب کارکردگی اور گڈ گورنس (جس کا اعتراف دیگر ممالک بھی کرتے ہیں اور انہیں شہباز سپیڈ کے نام سے جانا جاتا ہے) بذاتِ خود شہبازشریف کے لیے مرکز میں اقتدار تک پہنچنے کا راستہ بن سکتے تھے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ووٹ بینک نوازشریف کا ہے اور 8فروری انتخابات سے پہلے جو حالات تھے ان میں میاں صاحب ہی مسلم لیگ ن کو عوام میں مقبولیت دلوا سکتے تھے۔ اب فیصلہ میاں صاحب کے ہاتھ میں تھا کہ وہ خود وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے لیے معاملات طے کرتے یا اپنا سیاسی اثاثہ اگلی نسل کو منتقل کر دیتے۔

میاں صاحب اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ اگر وہ ایک بار پھر وزیراعظم بن بھی گئے تو کیا ہو گا؟ پھر کسی معاملے پر اختلاف؛ پھر کوئی ایسا ایشو جو اعصاب شکن ہو یا شاید کوئی ایسی ڈیمانڈز جو پوری کرنا ممکن نہ ہوں۔

ہو سکتا ہے ایسا کچھ نہ ہوتا لیکن یقیناً میاں صاحب عمر کے اس حصے میں رسک لینے کو تیار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے ذرا بہتر گراؤنڈ پر کھیلنا مناسب سمجھا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں میاں صاحب کی بیٹی حکمران ہے اور اگر وہ بہتر طریقے سے ڈلیور کر جاتی ہے، سسٹم میں ایسی تبدیلیاں کر دیتی ہے جو دور رس اور دیر پا نتائج کی حامل ہوں اور عوام کا معیارِ زندگی بہتر کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے تو یقیناً آنے والا وقت مریم نواز کا ہو گا اور مزید آگے قدم بڑھاتے ہوئے مستقبل میں پاکستان کی وزیراعظم بن سکتی ہے۔

مرکز میں مسلم لیگ ن کی اتحادی حکومت ہے جس کی کمان میاں صاحب کے بھائی شہبازشریف کے پاس ہے۔ شہبازشریف مفاہمت کرنے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور بہترین گورنس ان کی پہچان ہے۔ اگر اپنی ان خصوصیات کی بنیاد پر وہ پانچ سال کامیابی سے گزار دیتے ہیں اور معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ ملک کو درپیش دیگر چیلنجز سے بطریقِ احسن نپٹنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ مسلم لیگ ن کا ایک اور کریڈٹ ہو گا جو یقیناً آنے والے وقت میں مریم نوازشریف کے کام آئے گا۔

گزرے سات سالوں میں اسٹیبلشمنٹ کے ایڈونچر نے ملک کو جو نقصان پہنچایا ہے اسے دیکھتے ہوئے توقع تو یہی ہے کہ مزید کوئی ڈاکٹرائن لانچ نہیں ہو گی اور حکومت کو اپنا کام کرنے کی آزادی دی جائے گی ویسے بھی تجربے کی ناکامی اور ناکامی کے اثرات سے محکمے کو جو اندرونی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کے تصور کو جو زک پہنچی ہے وہ یہ خوش آئند خیال ضرور دیتا ہے کہ مداخلت نہیں ہو گی اور ہو سکتا ہے کہ ایسی کوئی گارنٹی بھی دی گئی ہو۔

ان حالات کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ مفروضہ ہی درست لگتا ہے کہ میاں صاحب نے چوتھی دفعہ کے وقتی احساسِ تفاخر کو پس پشت رکھتے ہوئے اپنے لیے بہتر راستے کا انتخاب کیا ہے۔ میاں صاحب اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ تقریباً نصف صدی پر محیط ان کے سیاسی سفر کا خوش آئند اختتام یہی ہو سکتا ہے کہ اپنا سیاسی اثاثہ اپنی اگلی نسل کو منتقل کر دیں اور خود کو صرف بوقتِ ضرورت مشورہ دینے تک محدود رکھیں یا اپنے سیاسی سفر کی یادداشتیں قلم بند کریں؛ لیکن یہ کہنا بھی قبل از وقت ہی ہو گا کیونکہ کہتے ہیں کہ سیاستدان کبھی ریٹائر نہیں ہوتا تو میاں صاحب کو وزیراعظم دیکھنے کے خواہش مندوں کو بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔

جہاں تک سازشی تھیوریز کا تعلق ہے تو وہ ہر دور میں چلتی ہی رہی ہیں اور چلتی رہیں گی کیونکہ ان تھیوریز سے بہت سے افراد کا رزق بندھا ہے، یہ تھیوریز ریٹنگ دیتی ہیں؛ لائکس اور ویوز دیتی ہیں اور باخبر و متعلق ہونے کا زعم بھی برقرار رہتا ہے۔ میں بہرحال یہ ماننے کو تیار نہیں کہ میاں صاحب جیسا جہاں دیدہ سیاستدان کسی سازش کا شکار ہو کر سسٹم سے باہر ہو چکا ہے بلکہ میرا ماننا ہے کہ میاں صاحب نے اپنے نام سے بنی مسلم لیگ اور اپنی بیٹی کے لیے مستقبل میں کامیابی حاصل کرنے کا دروازہ کھول دیا ہے اور یہی وہ قیمت ہے جو میاں صاحب نے وصول کی ہے۔ ویسے بھی حکومت سازی کے سارے عمل میں میاں صاحب کو خوش دلی سے شریک دیکھ کر بھی یہی نظر آتا ہے کہ وہ اس سارے عمل سے خوش ہیں اور جو ہو رہا ہے ان کی منشا اور مرضی کے مطابق ہو رہا ہے۔

The contributor, Naddiyya Athar, holds a Masters in Urdu Literature, and a Bachelors in Education. She can be reached @naddiyyaathar on X.
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
error: