ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات نے خطہ میں سیاسی و سفارتی منظر نامہ بدل کر رکھ دیا، اثرات جنوبی ایشیاء و مشرقِ وسطیٰ میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، امریکا اور پاکستان باہمی تعاون و مشاورت کے نئے باب میں داخل ہو رہے ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ’’کِل چین آپریشن‘‘ کے تحت چینی ساختہ جے 10 سی طیاروں سے فرانسیسی ساختہ رافیل سمیت بھارتی طیاروں کو تباہ کیا، بھارتی انٹیلیجنس کو مہلک ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، واقعہ نے عسکری حلقوں میں حیرت میں ڈال کر مغربی اسلحہ جات کی افادیت پر سوالات اٹھا دیئے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو ہِلا کر رکھ دیا ہے۔ بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے جبکہ روسی تیل کی خریداری پر اضافی پینلٹی کا سامنا بھی کرنا پڑے گا، ٹرمپ نے بھارتی معیشت کو مُردَہ قرار دیا جبکہ پاکستان کی تعریفیں کی گئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیلی وزیراعظم پر برہمی کا اظہار؛ ایران پر حملے فوری بند کیے جائیں۔ ٹرمپ نے سخت لہجے اور دوٹوک انداز میں کہا کہ جنگ بندی اُن کی ذاتی کامیابی ہے، کوئی سبوتاژ نہیں کر سکتا۔ نیتن یاہو بمشکل کچھ کہہ سکے، بار بار شکریہ ادا کرتے رہے۔
اسرائیل نے امریکا سے ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے اور ایران کی جوہری و فوجی تنصیبات پر حملوں میں شریک ہونے کا مطالبہ کیا ہے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔