عمران خان رہائی کیلئے فوج کے ساتھ پسِ پردہ اور غیر مشروط مذاکرات اور ڈیل کی کوششیں کر رہے ہیں تاہم سینئر فوجی شخصیات نے کہا ہے کہ عمران خان عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کریں اور فوج کے ساتھ ڈیل کی توقع نہ رکھیں، برطانوی جریدہ دی گارڈین۔
پاکستانی عوام سعودی عرب کیلئے گہری عزت اور محبت رکھتے ہیں، سعودی عرب کے بڑے تجارتی وفد کا دورہِ پاکستان دونوں ممالک کے مابین پائیدار اور برادرانہ تعلقات کی تصدیق کرتا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک کو انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کا ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) تعینات کر دیا گیا جو 30 ستمبر کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے، لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک اِس وقت جی ایچ کیو میں ایڈجوٹینٹ جنرل کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
شہداء اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، فساد فی الارض برپا کرنے والوں پر زمین تنگ رہے گی، فتنہ الخوارج کا خاتمہ کریں گے، دہشتگردوں کو جہاں پائیں گے سرکوبی کریں گے، فوج اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے والے عناصر کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔