پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
امریکا ایران کو مذاکراتی عمل تک لانے والا پاکستان سفارتی محاذ پر غیر معمولی اہمیت حاصل کر رہا ہے جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار نمایاں ہے۔ پاکستان خطہ کے توازن پر اثرانداز ہوتے ہوئے واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران تنازع میں رابطہ کاری کردار واشنگٹن کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کر سکتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ رکھنے والا پاکستان خطہ میں جاری جنگ کے خاتمہ کیلئے خود کو ثالث کے طور بھی پیش کر رہا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران جنگ بندی کیلئے سفارتکاری میں مرکزی کردار بن کر ابھرے ہیں اور پاکستان کی ابھرتی سفارتی اہمیت کا اہم چہرہ بن چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آج پاکستان کو وائٹ ہاؤس تک جو رسائی حاصل ہے وہ پہلے کبھی میسر نہ تھی۔
امریکا کی 15 نکاتی تجویز پاکستانی ثالثی کے ذریعہ تہران پہنچا دی گئی جس کا مقصد ایران کے خلاف جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔ اسلام آباد ایک بااعتماد سفارتی چینل کی حیثیت اختیار کر چکا جس کے ذریعہ واشنگٹن اور تہران کے مابین کشیدگی کم کرنے کا راستہ نکالا جا رہا ہے۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
Just before Donald Trump was due to address the nation on the Middle East conflict, Iran’s President Masoud Pezeshkian published an open letter to Americans, arguing that Tehran is being falsely cast as a threat and warning that more attacks will bring only suffering, instability and lasting resentment.
فرانس نے بھارت کو رافیل کے بنیادی سوفٹ ویئر و حساس سورس کوڈز تک رسائی دینے سے انکار کر دیا، موجودہ شرائط کے مطابق الیکٹرونک و سوفٹ وئیر ساخت پر حتمی کنٹرول فرانس کا رہے گا۔ بھارتی فضائیہ میں سکواڈرنز کی تعداد پہلے ہی ضرورت سے کم ہے۔
The Guardian was entitled to publish Mahrang Baloch’s testimony. But readers should read it for what it is: a partisan account, sharply written and emotionally potent, not a settled version of events.