اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے مالی ڈیپازٹس سے متعلق سامنے آنے والے گمراہ کُن اور بےبنیاد تبصروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اِس معاملہ کو جس طرح غلط رنگ دیا جا رہا ہے وہ حقائق کے منافی ہے۔ دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان میں رکھے گئے متحدہ عرب امارات کے مالی ڈیپازٹس دوطرفہ تجارتی معاہدوں کے تحت رکھے گئے تھے جن می اب باہمی طور پر طے شدہ شرائط کے مطابق واپسی کی جا رہی ہے۔
پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مالی معاملات کو سیاسی و سفارتی تناؤ کا رنگ دینے والے تبصروں کو گمراہ کُن قرار دے دیا۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ pic.twitter.com/U1SEV3djXq
— The Thursday Times (@thursday_times) April 4, 2026
بیان کے مطابق یہ ایک معمول کی مالی کارروائی ہے جس کو سیاسی یا سفارتی تناؤ کا رنگ دینا نہ صرف غلط بلکہ گمراہ کُن بھی ہے۔ اسلام آباد نے اِس تاثر کو بھی رد کر دیا ہے کہ اِس پیش رفت سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں کسی قسم کی کمزوری یا بداعتمادی پیدا ہوئی ہے۔ حکومتی مؤقف میں زور دے کر کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان کی معاشی استحکام اور خوشحالی میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
دفترِ خارجہ نے یاد دلایا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات محض وقتی مالی معاملات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون اور عوامی روابط جیسے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان مسلسل ہم آہنگی موجود ہے اور یہی وسعت اِس رشتے کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔
بیان میں مرحوم شیخ زاید بن سلطان آل نہیان کے اُس تاریخی کردار کا بھی خصوصی ذکر کیا گیا جس نے پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات کو ایک پائیدار بنیاد فراہم کی۔ پاکستان نے اِس امر کا بھی اعادہ کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان یہ رشتہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے اور پاکستانی عوام اِس دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
اسلام آباد نے اپنے مؤقف میں یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان اِس دیرینہ تعلق کو مزید مستحکم بنانے کیلئے پُرعزم ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب خطہ معاشی دباؤ، جنگی خدشات اور سفارتی بےیقینی سے گزر رہا ہے، دفترِ خارجہ کا یہ بیان دراصل اِس وسیع تر پیغام کا حصہ معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان افواہوں اور قیاس آرائیوں کی بجائے اپنے اہم شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو استحکام، اعتماد اور حقیقت پسندانہ بنیادوں پر دیکھتا ہے۔
یہ بیان اِس ںحث کو بھی ایک حد تک سمیٹ دیتا ہے جس میں بعض حلقوں نے متحدہ عرب امارات کے مالی ڈیپازٹس کی واپسی کو غیر معمولی واقعہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی۔ حکومتی وضاحت کے بعد اب پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ یہ ایک معمول کا مالی مرحلہ ہے جبکہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات اپنی گہرائی، وسعت اور تاریخی اہمیت کے ساتھ بدستور مضبوط ہیں۔




