پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان نے ہمیشہ دوستی اور یکجہتی کا ثبوت دیا اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ تینوں ممالک کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ جنگ میں ترکیہ اور آذربائیجان کی حکومتیں پاکستان کے ساتھ کھڑی رہیں۔
پاکستان کے جے ایف 17 تھنڈر طیارے اور فوجی اہلکار آذربائیجان کی وکٹری ڈے پریڈ میں 8 نومبر کو باکو میں شرکت کریں گے۔ یہ پریڈ آذربائیجان کی 44 روزہ جنگی فتح کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہو رہی ہے۔ پاکستان کی شرکت دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے عسکری اور سفارتی تعلقات کی مضبوطی کی علامت ہے۔
Pakistan’s JF-17 Thunder fighter jets and military personnel are set to join Azerbaijan’s Victory Day Parade in Baku on 8 November, commemorating the fifth anniversary of the 44-day war victory. The participation highlights a growing strategic partnership between Islamabad and Baku rooted in military collaboration, shared diplomacy, and regional solidarity.
At COP29, global leaders wrestle with the dilemma of climate action versus fossil fuel dependence, while developing nations push for immediate financial commitments to address mounting climate impacts.
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ غزہ کے علاوہ دیگر بین الاقوامی تنازعات تک وسعت کی تجویز بھارت کیلئے کشمیر کے حوالہ سے پریشان کُن ثابت ہو سکتی ہے۔