وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے سفارتی مہارت سے ثابت کیا کہ ٹرمپ جیسے طاقتور رہنما سے کیسے مؤثر انداز میں ڈیل کی جاتی ہے۔ غزہ جنگ بندی کے بعد ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنا “پسندیدہ فیلڈ مارشل” قرار دیا، جبکہ واشنگٹن اسلام آباد کو خطے میں اہم شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
پاکستان نے امریکہ کو بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی میں بحیرۂ عرب پر نئی بندرگاہ قائم کرنے اور اس کا انتظام سنبھالنے کی پیشکش کی ہے۔ منصوبے کا مقصد امریکی سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان کے معدنی وسائل تک واشنگٹن کی رسائی بڑھانا ہے۔ یہ اقدام اسلام آباد کی نئی سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جو چین، امریکہ، ایران اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعلقات کو ازسرِنو ترتیب دینے پر مرکوز ہے۔
عمران خان کا جیل سے پیغام: مجھے گھر میں نظر بندی کی پیشکش کے بدلے پی ٹی آئی کو مبہم 'سیاسی گنجائش' دینے کا کہا گیا، جسے میں نے مسترد کر دیا۔ پاکستان میں جمہوریت کی بقا کی جنگ جاری ہے۔ عالمی برادری کو آگے بڑھ کر اس بحران کو روکنا ہوگا، کیونکہ ایک غیر مستحکم پاکستان پورے خطے کے امن اور عالمی جمہوری اقدار کے لیے خطرہ ہے۔
پاکستان میں 2018 کے بعد سے دہشتگردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے، ہم سب بلوچستان میں ہونے والے دلخراش واقعات پر غمزدہ ہیں، شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، ہم انشاءاللّٰه دہشتگردی کا سر کچل دیں گے، ترقی کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ دور کریں گے۔
پاکستان کی ریاست کو تسلیم نہ کرنے والوں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے، بلوچستان ہمارے دِلوں کے قریب ہے، ہم نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشتگردی کو ختم کیا مگر پھر بعد میں ہمارے اقدامات کو ریورس کیا گیا، ہمیں ہر قیمت پر پاکستان میں امن واپس لانا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد صرف چوبیس گھنٹے میں دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس سے پاکستان کا کردار تیز رفتار علاقائی سفارت کاری میں مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ ان کی فوری واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں اب ایک اہم اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
Iran’s Abbas Araghchi is back in Islamabad within around 24 hours of leaving for Muscat, keeping Pakistan at the centre of high-stakes US-Iran diplomacy.
Trump has cancelled his representatives’ planned trip to Islamabad for talks with Iran, saying too much time was being spent on travel and that Tehran can contact Washington directly if it wants negotiations.
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات۔عراقچی نے کہا کہ پاکستان ایران کی خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت رکھتا ہے،مذاکرات میں جنگ بندی، علاقائی امن اور پاک ایران تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi met Prime Minister Shehbaz Sharif in Islamabad, describing Pakistan as holding a significant place in Tehran’s foreign policy outlook while briefing Pakistan’s leadership on ceasefire developments, regional stability and bilateral cooperation.