تھرپارکر میں پیپلز پارٹی کی کارکردگی پر فخر ہے، میں تھر کی کارکردگی پر پورے ملک میں الیکشن لڑ سکتا ہوں، 8 فروری کو پاکستان کے عوام سرپرائز دیں گے، انتخابات کے بعد جیالا وزیراعظم ہو گا۔
الیکشن کا چاند مبارک ہو، اب عدالت نے کہا ہے تو 8 فروری کو الیکشن ہو جائے گا، پیپلز پارٹی کو کبھی لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی، اب بھی لیول پلیئنگ فیلڈ کی امید نہیں ہے۔
نواز شریف اقتدار میں واپس آ کر ملکی معاشی بدحالی کا خاتمہ کر سکتے ہیں، نواز شریف 2013 سے 2017 تک اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران بھی ملک میں معاشی استحکام لا چکے ہیں۔
مجھے نہیں معلوم کہ الیکشن کب ہوں گے، چیف الیکشن کمشنر کو بھی نہیں پتہ کہ الیکشن کب ہوں گے لیکن صرف ایک جماعت کو پہلے سے پتہ ہے کہ الیکشن فروری میں ہوں گے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی کا مظفر گڑھ میں جلسہ سے خطاب
اس عرصہ کے دوران ہم نے سیاست نہیں بلکہ ریاست کی حفاظت کی اور ریاست کو بچانے کیلئے اپنی سیاست کی قربانی دی، ہم نے معیشت اور خارجہ تعلقات سمیت دیگر شعبوں میں لگی آگ بجھائی۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔