spot_img

Columns

News

تورطت المملكة العربية السعودية في مؤامرة للإطاحة بحكومة رئيس الوزراء السابق عمران خان، كما يزعم أحد المقربين من عمران خان

لقد أطاحت المملكة العربية السعودية بحكومة عمران خان، وكانت المملكة العربية السعودية والولايات المتحدة هما الدولتان اللتان اكتملت بدعمهما عملية تغيير النظام. كما أن الدعم الاقتصادي الذي تقدمه المملكة العربية السعودية لباكستان هو أيضًا جزء من نفس التخطيط، شير أفضل مروات۔

Pakistan grants 34 firms licenses to develop electric vehicles for its domestic market

Pakistan's Engineering Development Board has granted 34 licenses for electric vehicle manufacturing under its 2020-2025 policy, aiming to equip petrol stations with EV chargers and leverage global climate funds to promote clean transportation.

پاک فوج نے جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف انکوائری کا آغاز کر دیا

پاک فوج نے سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف نجی ہاوسنگ سوسائٹی کے مالک کی درخواست پر انکوائری کا آغاز کر دیا ہے، جنرل (ر) فیض حمید پر الزام ہے کہ انہوں نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے خلاف دورانِ ملازمت اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا تھا۔

عمران خان کی حکومت سعودی عرب نے گِرائی تھی، شیر افضل مروت

عمران خان کی حکومت سعودی عرب نے گِرائی تھی، سعودی عرب اور امریکہ دو ممالک تھے جن کے تعاون سے رجیم چینج آپریشن مکمل ہوا، سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کیلئے معاشی تعاون بھی اسی پلاننگ کا حصہ ہے۔راہنما تحریکِ انصاف شیر افضل مروت
spot_img
Analysisنواز شریف اقتدار میں واپس آ کر ملکی معاشی بدحالی کا خاتمہ...

نواز شریف اقتدار میں واپس آ کر ملکی معاشی بدحالی کا خاتمہ کر سکتے ہیں، امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز

نواز شریف اقتدار میں واپس آ کر ملکی معاشی بدحالی کا خاتمہ کر سکتے ہیں، نواز شریف 2013 سے 2017 تک اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران بھی ملک میں معاشی استحکام لا چکے ہیں۔

spot_img

نیویارک/لاہور (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی اخبار ”دی نیو یارک ٹائمز“ کے مطابق تین بار پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہونے والے میاں نواز شریف کی وطن واپسی نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے اور اب وہ ملک کی معاشی بدحالی کو ختم کرنے کیلئے اقتدار میں ایک شاندار واپسی کی تیاری کر رہے ہیں۔

نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والے آرٹیکل میں لکھا گیا ہے کہ نواز شریف تین بار پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوئے مگر وہ ملک کی طاقتور فوج سے اختلافات کے باعث ایک بار بھی اپنی آئینی مدت مکمل نہ کر سکے، انہیں 2017 میں بھی انھی وجوہات کی بناء پر کرپشن کے الزامات عائد کر کے اقتدار سے بےدخل کر دیا گیا تھا۔

امریکی اخبار کے مطابق 73 سالہ نواز شریف گزشتہ ہفتے پاکستان پہنچے اور اسی دن انہوں نے اپنے آبائی شہر اور پاکستان کے سیاسی دل سمجھے جانے والے لاہور میں ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب کیا، ان کی جماعت ”مسلم لیگ ن“ اپنے قائد کی وطن واپسی کو سیاسی طور پر انتہائی اہم سمجھتی ہے اور یہ مؤقف رکھتی ہے کہ نواز شریف کے خلاف تمام مقدمات سیاسی تھے اور سزائیں من گھڑت شواہد پر مبنی تھیں۔

نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ نواز شریف کا قائدانہ کردار ان کی جماعت کیلئے اشد ضروری ہے کیونکہ وہ ووٹرز کو اس بات پر قائل کر سکتے ہیں کہ ان کی جماعت ملک کے معاشی حالات کو بہتر کرے گی، نواز شریف 2013 سے 2017 تک اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران بھی ملک میں معاشی استحکام لا چکے ہیں، انہوں نے بجلی کی پیداوار کے بڑے منصوبے مکمل کرتے ہوئے لوڈشیڈنگ پر قابو پانے میں بھی کامیابی حاصل کی تھی۔

نیو یارک میں قائم اخبار میں شائع ہونے والے آرٹیکل میں لکھا گیا ہے کہ نواز شریف کی جماعت کیلئے ان کی وطن واپسی آئندہ انتخابات میں کامیابی کی ضمانت ہے، ان کی جماعت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ نواز شریف ایک بار پھر پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہونے اور ملک کو معاشی بحران سے نکالنے میں کامیاب ہوں گے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق شریف خاندان مسلسل بدعنوانی کے الزامات کا مقابلہ کر رہا ہے، 2017 میں بھی انہیں پاناما پیپرز سکینڈل میں پھنسایا گیا تھا اور یہ الزامات عائد کیے گئے تھے کہ ان کے بچوں نے برطانیہ میں آف شور دولت اور پرتعیش جائیدادیں جمع کر رکھی ہیں جبکہ ان کے بچوں کا واضح طور پر یہ موقف رہا ہے کہ انہوں نے یہ دولت جائز اور قانونی طریقہ سے حاصل کی ہے۔

نواز شریف کے سیاسی حریف عمران خان کرپشن کے جرم میں 5 اگست کو گرفتار ہونے کے بعد اب تک جیل میں قید ہیں، عمران خان کی جماعت کے بیشتر راہنماؤں نے عمران خان اور ان کی جماعت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے جبکہ باقی ماندہ راہنماؤں میں سے کچھ روپوش ہیں اور کچھ جیلوں میں قید ہیں، ان حالات میں نواز شریف کیلئے سیاسی راستہ صاف دکھائی دے رہا ہے، بدعنوانی کے الزامات میں ان کی گرفتاری کے احکامات کو حال ہی میں عدالتوں نے معطل کر دیا ہے جبکہ ان سزاؤں کو ختم کرنے کیلئے ان کی اپیلیں 2019 سے زیرِ التواء ہیں۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق نواز شریف سویلین بالادستی کا مؤقف رکھنے اور پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ پرامن اور بہتر تعلقات استوار کرنے کیلئے بھی جانے جاتے ہیں، اپنے ہر دورِ حکومت میں وہ گورننس اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر فوج سے ٹکراتے رہے ہیں لیکن اب یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ فوج بھی خفیہ طور پر ان کی حمایت کر رہی ہے۔

پاکستان کی ایک اور بڑی سیاسی جماعت ”پاکستان پیپلز پارٹی“ کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے حال ہی میں یہ الزام عائد کیا ہے کہ عام انتخابات میں تاخیر نواز شریف کی وطن واپسی کو سہولت فراہم کرنے کیلئے کی جا رہی ہے۔

Read more

میاں نواز شریف! یہ ملک بہت بدل چکا ہے

مسلم لیگ ن کے لوگوں پر جب عتاب ٹوٹا تو وہ ’نیویں نیویں‘ ہو کر مزاحمت کے دور میں مفاہمت کا پرچم گیٹ نمبر 4 کے سامنے لہرانے لگے۔ بہت سوں نے وزارتیں سنبھالیں اور سلیوٹ کرنے ’بڑے گھر‘ پہنچ گئے۔ بہت سے لوگ کارکنوں کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہروں سے چوری چھپے منع کرتے رہے۔ بہت سے لوگ مریم نواز کو لیڈر تسیلم کرنے سے منکر رہے اور نواز شریف کی بیٹی کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔

Celebrity sufferings

Reham Khan details her explosive marriage with Imran Khan and the challenges she endured during this difficult time.

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
spot_img
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
error: