عمران خان کے دور میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے 190 ملین پاونڈز رہکور کر کے پاکستان کو دیئے تو عمران خان نے بطور وزیراعظم وہ رقم پاکستان کے قومی خزانے میں جمع کروانے کی بجائے اسی بزنس ٹائیکون کی جیب میں ڈال دی۔
میری جنرل باجوہ سے دو ملاقاتیں ہوئیں جن میں جنرل باجوہ نے کہا حکومتیں توڑ دو میں الیکشن کروا دونگا۔ جنرل باجوہ نے ہمیں لال بتی کے پیچھے لگا دیا اور ہم نے اس کی بات پر یقین کر لیا۔
حریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان اور بشریٰ نامی خاتون کا نکاح غیر شرعی تھا کیونکہ اس وقت تک بشریٰ کی خاور مانیکا سے طلاق کے بعد عدت کا وقت مکمل نہیں ہوا تھا۔ مفتی سعید نے بتایا کہ انہیں اس معاملہ سے لاعلم رکھا گیا اور جھوٹ بولا گیا کہ نکاح میں کوئی شرعی رکاوٹ نہیں ہے جبکہ عمران خان اور بشریٰ حقیقت سے واقف تھے۔
عمران خان کا بشری بی بی سے دو مرتبہ نکاح پڑھایا کیونکہ پہلے نکاح کے بعد مجھے بتایا کہ پہلے نکاح سے پہلے مجھے اصل حقائق نہیں بتائے گئے تھے اسلئے وہ نکاح فاسد قرار پایا اور پھر دوسرا نکاح پڑھایا گیا۔
Pakistan says the United States and Iran have expressed confidence in its role as a potential facilitator for talks, with Islamabad saying it would be honoured to host negotiations in the coming days.
امریکا و ایران دونوں نے ممکنہ مذاکرات میں سہولت کاری کیلئے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ پاکستان آئندہ چند روز میں ممکنہ مذاکرات میں میزبانی و سہولتکاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزراءِ خارجہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے خطہ میں امن کیلئے پاکستانی کوششوں کی بھرپور حمایت اور تائید کی۔
امریکا ایران کو مذاکراتی عمل تک لانے والا پاکستان سفارتی محاذ پر غیر معمولی اہمیت حاصل کر رہا ہے جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار نمایاں ہے۔ پاکستان خطہ کے توازن پر اثرانداز ہوتے ہوئے واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
Pakistan is preparing to host the foreign ministers of Saudi Arabia, Turkey and Egypt for bilateral meetings and a four-country diplomatic session in Islamabad that is expected to conclude with a joint communiqué and possibly a meeting with Prime Minister Shehbaz Sharif.
مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ اتوار کی صبح، سعودی وزیرِ خارجہ سہ پہر پاکستان پہنچیں گے۔ شام کو چاروں وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات ہو گی جبکہ عشائیہ کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔