امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی درخواست پر ایران کی انرجی تنصیبات کی تباہی کیلئے امریکی حملے مزید 10 روز تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان پسِ پردہ سفارتی روابط میں اہم کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کیلئے پس پردہ سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے، شہباز شریف کی تہران سے گفتگو، اور اسحاق ڈار کی علاقائی سفارت کاری نے اسلام آباد کو ایک ممکنہ مذاکراتی مرکز کے طور پر نمایاں کر دیا ہے۔
Pakistan is quietly but actively positioning itself as a possible mediator in the US-Iran crisis, with its military and political leadership engaging Washington, Tehran and Gulf capitals in an effort to prevent the conflict from widening and to bring diplomacy back to the table.
پاکستان ایران بحران میں خاموش مگر اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے، وزیر اعظم شہباز شریف کی ایرانی قیادت سے گفتگو اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی علاقائی سطح پر سرگرمیوں نے اسلام آباد کو ایک ممکنہ ثالثی مرکز کے طور پر نمایاں کر دیا ہے۔ پاکستان بظاہر جنگ کے بجائے بات چیت، رابطے اور کشیدگی میں کمی کی راہ کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستان، ترکیہ اور مصر امریکا ایران جنگ بندی کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کیساتھ بات چیت کی تصدیق کرتے ہوئے ایرانی پاور پلانٹس پر حملے 5 روز تک ملتوی کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایران معاہدے کیلئے بےتاب ہے۔
Per a new purchasing managers’ survey released by HBL and S&P, Pakistan’s manufacturing PMI rose to 50.9 in May, returning to expansion as new orders recovered and export orders posted their strongest rise since February 2025.
Pakistan’s major ports are seeing a sharp rise in container and transshipment activity as Gulf disruption redirects cargo towards Karachi, Port Qasim and Gwadar.
Iranian officials are preparing three days of farewell ceremonies and a 24-hour funeral procession for Ali Khamenei, with events expected in Tehran, Qom and Mashhad.
Trump reportedly warned Netanyahu against further escalation in Lebanon as US-Iran diplomacy faced renewed pressure, with Pakistan and Qatar involved in efforts to preserve a fragile regional framework.