جنرل (ر) باجوہ نے مجھے دھمکی دی ہے کہ میں نے باتیں بیان کیں تو ٹانگوں پر کھڑا نہ ہو سکوں گا، جنرل (ر) باجوہ اور جنرل (ر) فیض حمید فیض آباد دھرنا کمیشن میں پیش نہیں ہوئے، فیض آباد دھرنا کمیشن ایک مذاق تھا، اس کمیشن کی کوئی وقعت نہیں ہے۔
آج کل گوبلز والے پراپیگنڈا کا زمانہ واپس لایا جا رہا ہے، ہم کسی قسم کا پریشر برداشت نہیں کریں گے، سوشل میڈیا پر جسٹس (ر) تصدق جیلانی پر ذاتی حملے کیے گئے، بہت کچھ ہو رہا ہے اور 2017 سے یہ سب چلتا آ رہا ہے، ہو سکتا ہے آئندہ فل کورٹ بیٹھے۔
الیکشن 2018 کو جنرل باجوہ جی ایچ کیو میں بیٹھ کر مینیج کر رہے تھے، پاکستانی عوام کو تمام باتیں معلوم ہونی چاہئیں، میں یہ حقائق قرآن پر ہاتھ رکھ کر بیان کروں گا اور جس کے بارے میں بات کروں گا اسے بھی کہوں گا کہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر مجھے جھوٹا ثابت کرو۔
جنرل فیض حمید نے نواز شریف کے خلاف کیسز میں اپنی مرضی کے فیصلوں کیلئے مجھ پر دباؤ ڈالا جبکہ انکار پر مجھے بینچز سے نکال دیا گیا، ثاقب نثار نے کہا کہ اوپر والوں کا حکم ہے، میں اپنے تمام معاملات پر شفاف اور مکمل تحقیقات کا چاہتا ہوں۔
جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی
جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے تحریکِ عدم اعتماد لانے کیلئے کہا تھا، یہ تحریک پیپلز پارٹی نے چلائی تھی لیکن میں اس کے حق میں نہ تھا، تحریکِ انصاف کو فائدہ پہنچانے کیلئے ہمارے ساتھ دھاندلی کی گئی، اب فیصلے میدان میں ہوں گے۔
Zulfikar Bukhari's remarks to Reuters, describing a freed Imran Khan as unwilling to confront army chief Asim Munir, don't just shift PTI's tone. Coming from one of Khan's closest aides, they quietly kill the "dut kar khara hai kaptaan" promise that has held the party's base together for two years.
The Supreme Court has ordered the transfer of Imran Khan from Adiala Jail to Shifa International Hospital for medical assessment and treatment, while directing that his health condition should not be used for political activity or media campaigning.
Countries do not enter mutual defence commitments with partners whose reliability they doubt, because the cost of misjudging that is measured in soldiers. Riyadh and Ankara have decided Pakistan is a state whose word will hold when it is expensive to hold it.
Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔